سارک ، آسیان اور او آئی سی ممالک پر مشتمل علاقائی پارلیمان تشکیل دی جائے

سارک ، آسیان اور او آئی سی ممالک پر مشتمل علاقائی پارلیمان تشکیل دی جائے

  اسلا م آباد( اے این این )سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے سارک، آسیان اور او آئی سی ممالک پر مشتمل علاقائی پارلیمان کی تشکیل کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ علاقائی تعاون کو فروغ دینے اور مسائل کو حل کرنے کے لئے علاقائی پارلیمان ایک متحرک فورم ثابت ہو سکتا ہے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار ویسٹ منسٹر فاؤنڈیشن فار ڈیماکریسی کے وفد سے گفتگو کے دوران کیا جو ریجنل ڈائریکٹر مس ڈینا میلہم کی قیادت میں منگل کو ان سے ملاقات کے لئے پارلیمنٹ ہاؤس میں آیا۔سردار ایاز صادق نے کہا کہ پارلیمنٹ قومی و صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ کے افسران و عملے کی استعداد کار کو بڑھانے کے لئے پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پارلیمنٹری سروسزمیں تربیتی ورکشاپ کا باقاعدگی سے انعقاد کرواتی ہے۔انہوں نے قومی اسمبلی اور ہاؤس آف کامنز کے درمیان رابطے بڑھانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں قانون ساز ادارے ایک دوسرے کے تجربات سے مستفید ہوسکتے ہیں تاہم یہ روابط کسی مقامی یا بین الاقوامی این جی او کو شامل کئے بغیر قائم ہونے چاہیے۔انہوں نے بتایا کہ پارلیمنٹ ہاؤس کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جارہا ہے جس کے ذریعے 1میگاواٹ بجلی کی پیداوار ہوگی۔ انہوں نے ای۔پارلیمنٹ منصوبے سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس منصوبے کے ذریعے کاغذ اور دیگر اخراجات کی بچت ممکن ہوسکے گی۔انہوں نے وفد کو لیجسلیٹو ڈرافٹنگ کونسل کی تشکیل سے بھی آگاہ کیا۔اس موقع پر سپیکر قومی اسمبلی نے قومی اسمبلی میں خواتین پارلیمان پر مشتمل وومن پارلیمانی کاکس کی افادیت سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد خواتین کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے پارلیمان میں قانون سازی میں معاونت فراہم کرنا ہے۔انہوں نے پاکستانی نژاد برطانوی اراکین پارلیمان کو دور ہ پاکستان کی دعوت بھی دی۔ مس ڈینا میلہم نے پاکستان کی پارلیمان کی جانب سے ملک میں جمہوریت اور منتخب اداروں کی بالادستی کے لئے کی جانے والی کاوشوں کو سراہا۔انہوں نے وومن پارلیمانی کاکس کو ایک سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ اور پاکستان باہمی تعاون کے ذریعے پارلیمانی اور قانون سازی کے معاملات میں ایک دوسرے سے سیکھ سکتے ہیں جس کے لئے ویسٹ منسٹر فاؤنڈیشن فار ڈیماکریسی اپنی خدمات پیش کر سکتا ہے۔

مزید : علاقائی


loading...