میر سید علی ہمدانی دوروزہ کانفرنس اختتام پذیر

میر سید علی ہمدانی دوروزہ کانفرنس اختتام پذیر

لاہور(اپنے نامہ نگار سے)خانہ فرہنگ اسلامی جمہوری ایران لاہور اور پنجاب یونیورسٹی لاہور کے زیر اہتما م دو روزہ بین الاقوامی میر سید علی ہمدانی کانفرنس پنجاب یونیورسٹی لاہور کے الرازی ہال میں اختتام پذیر ہوگئی ۔پہلے روز کانفرنس کی صدارت پنجاب یونیورسٹی لاہور کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مجاہد کامران نے کی۔اس کانفرنس میں کثیر تعداد میں پاکستان ،ایران،تاجکستان،افغانستان اور بنگلہ دیش سے مہمانوں نے شرکت کی۔جن میں زیادہ تعداد اسلامی جمہوریہ ایران سے آئے ہوئے مہمانوں کی تھی،نے اپنے مقالات پیش کئے۔خانہ فرہنگ جمہوری اسلامی ایران لاہور اور پنجاب یونیورسٹی لاہور کے تعاون سے 5 ماہ قبل بین الاقوامی طور پر مقالہ نگاروں کو میر سید علی ہمدانی کی خدمات کے بارے میں مقالے لکھنے کی دعوت دی گئی تھی۔ اور اس دعوت پر پاکستان سمیت بنگلہ دیش ،بھارت ،تاجکستان،افغانستان اور ایران سے مقالہ نگاروں نے سو(100) سے زائد مقالے ارسال کئے ۔ اور اس کانفرنس میں شریک ہو کر اپنے مقالات پیش کئے ۔دو روزہ کانفرنس کی تقریبات اسی سلسلے میں منعقد کی گئی تھی ۔ خانہ فرہنگ اسلامی جمہوری ایران لاہور کے ڈائریکٹر جنرل اور کلچرل اتاشی اکبر برخورداری نے کانفرنس سے خطاب کیا اور کانفرنس کے بارے میں آگاہ کیا۔اور کانفرنس میں شرکت کرنے والے پاکستان ،ایران،تاجکستان،افغانستان اور بنگلہ دیش سے تشریف لانے والے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔اس موقع پر اسلامی جمہوریہ ایران کے قونصل جنرل محمد حسین بنی اسدی ، اسلام آباد میں موجود ایران کے کلچرل قونصلیٹ شہاب الدین دارایی ، پاکستان میں موجود تاجکستان کے قونصل جنرل شیر علی جانان،ڈاکٹرمعین نظامی ،صدر شعبہ فارسی پنجاب یونیورسٹی لاہور، منیب اقبال نائب صدر اقبال اکیڈمی لاہور ،ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار بنگلہ دیش اور ڈاکٹر عصمت اللہ زاھد، ڈاکٹر منیب اقبال،ڈاکٹر عارف نوشاہی،ڈاکٹر محمد سلیم مظہر ، ڈاکٹر معین نظامی ،ڈاکٹر محمد ناصر، ڈاکٹر اقبال ثاقب،ڈاکٹر شعیب اقبال ، ڈاکٹر شعیب احمد،ڈاکٹر مصباح الدین نرزیقول(تاجکستان)،ڈاکٹر قاسم صافی(تہران،ایران)، ڈاکٹر حکیمہ دبیران(ایران)،ڈاکٹر محمد ابراھیم ایرج پور(ایران)،ڈاکٹر محمد امیر جلالی(ایران)،ڈاکٹر محمد حسین مقیسہ(تہران،ایران)،ڈاکٹر نرگس جابری نسب(تہران،ایران)ڈاکٹرفرہنگ مہاجرانی(تہران،ایران)ڈاکٹر سمیہ مہاجرانی (تہران،ایران) ڈاکٹر صفا کاظمیان(مشھد،ایران)اور ڈاکٹر لیلا ھاشمیان(حمدان۔ایران) نے بھی خطاب کیا۔تقریب کے آخر میں مقالہ نگاروں اور شرکت کنندگان میں شیلڈز تقسیم کی گئیں۔مجلس ترقی ادب کے سربراہ تحسین فراقی نے تجویز پیش کی کہ یونیورسٹی لیول پر فارسی زبان سکھانا ایسا ہی ہے جیسے ایک درخت کو کسی دوسری جگہ منتقل کیا جائے ۔اس لئے اس کانفرنس میں یہ قرارداد پیش کی جائے کہ فارسی زبان کو پہلے کی طرح پرائمری لیول سے شروع کیا جائے۔ تاکہ فارسی کی ترویج میں اہم کردار ادا ہو سکے۔ اور ان مقالات کو شائع کیا جائے تاکہ لوگ ان تحقیقات سے فائدہ اٹھا سکیں۔

مزید : صفحہ آخر


loading...