سقوط ڈھاکہ اور سانحہ پشاور انڈیا کی بہت بڑی دہشت گردی ہے، نظریہ پاکستان کانفرنس

سقوط ڈھاکہ اور سانحہ پشاور انڈیا کی بہت بڑی دہشت گردی ہے، نظریہ پاکستان ...

لاہور( نمائندہ خصوصی )مذہبی و سیاسی جماعتوں کے قائدین، وکلاء رہنماؤں، جید علماء کرام اور دانشوروں نے نظریہ پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقی پاکستان کو الگ کرنااور سانحہ پشاور انڈیا کی بہت بڑی دہشت گردی ہے‘ اس کا انتقام لینا سب پر فرض ہے۔ بھارت سے آزاد کشمیر نہیں حیدر آباد دکن اور جونا گڑھ کے مسئلہ پر بات ہوگی جہاں زبردستی فوجی قبضہ کیا گیا۔ کنٹرول لائن کو بارڈر لائن میں بدلنے کی بھارتی و امریکی سازشیں کامیاب نہیں ہوں گی۔ بعض سیاستدان انتخابات کا غصہ نکالنے کیلئے نریندر مودی سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ مفادات کی بنیادپر سیاست کرنے والے ملک کی لٹیا ڈبو رہے ہیں۔ لبرل ازم اور سیکولر ازم کے نعرے قوم کو تقسیم کرنے کی سازش ہے۔بنگلہ دیش میں پھانسیوں سے نظریہ پاکستان اجاگر ہو رہا ہے۔خطہ میں امن اور ترقی کے نام پر بھارتی بالادستی قبول نہیں کریں گے۔بھارت کی خوشنودی کیلئے کشمیریوں کا اعتماد مجروح نہ کیاجائے۔ ملک و ملت کے دفاع کیلئے پوری پاکستانی قوم جانوں کے نذرانے پیش کرنے کیلئے تیار ہے۔تحفظ نظریہ پاکستان کونسل کے زیر اہتمام چوبرجی چوک میں ہونے والی کانفرنس سے امیر جماعۃ الدعوۃ پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید،تحفظ نظریہ پاکستان کونسل کے کنوینر پیر سید ہارون علی گیلانی، لیاقت بلوچ،پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی، علامہ ابتسام الہٰی ظہیر، خواجہ معین الدین محبوب کوریجہ، حافظ عبدالغفارروپڑی، مولانا امیر حمزہ،قاری یعقوب شیخ،مولانا محمد یوسف شاہ، چوہدری ذوالفقار علی ایڈوکیٹ،میر عبداللہ بگٹی، پیر ولی اللہ شاہ بخاری،شیخ نعیم بادشاہ، رضیت باللہ،جمیل احمد فیضی ایڈوکیٹ،عقیل چوہدری ایڈووکیٹ، محمد شفیق قادری، ابوالہاشم ربانی،مولانا احسان الحق شہباز،مولانا ادریس فاروقی،مولانا ثناء اللہ فاروقی،حافظ مسعود خان،قاری ابو عبیدہ و دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شہر بھر سے طلباء، وکلاء، تاجروں، علماء ، سول سوسائٹی اور دیگر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد موجود تھے۔ شرکاء کی جانب سے کشمیریوں کے حق میں اور بھارتی دہشت گردی کے خلاف زبردست نعرے لگائے جاتے رہے۔جماعۃالدعوۃ پاکستان کے سربراہ حافظ محمد سعید نے اپنے خطاب میں کہاکہ فاروق عبداللہ کہا کرتا تھا کہ کنٹرول لائن کو بارڈر لائن میں تبدیل کر کے اس مسئلہ کو ہمیشہ کیلئے ختم کیا جائے۔ مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج اسلام آباد سے بھی یہی باتیں کی جارہی ہیں۔بیک چینل ڈپلومیسی چل رہی ہے اور کہاجارہا ہے کہ کشمیر ملکی ترقی میں بہت بڑی رکاوٹ ہے اس لئے کنٹرول لائن کو بارڈر لائن میں تبدیل کردیا جائے۔ کشمیر پاکستان کا حصہ بنے گا۔تحفظ نظریہ پاکستان کونسل کے کنوینر پیر سید ہارون علی گیلانی نے کہاکہ را،سی آئی اے،موساد کی سازشوں کے آگے تحفظ نظریہ پاکستان کونسل کی قیادت آہنی دیوار بنے گی۔بلوچستان،گلگت،بلتستان،سندھ میں بھارتی سازشوں کے جواب انہیں مل رہے ہیں۔پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ کے نعرے کے آگے سب سازشیں ختم ہو جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ آرمی پبلک سکول کے ننھے بچوں پر جو ظلم کیا گیا اسکا انتقام ان ننھے شہداء کی روحیں لیں گی۔آرمی چیف جنرل راحیل شریف خارجیت اور تکفیریت کے خلاف عظیم جہاد کر رہے ہیں۔ہمیں ان کے کام کو استحکام دینا ہے۔جنرل لیاقت بلوچ نے کہاکہ سقوط ڈھاکہ اور آرمی پبلک سکول سانحہ کے حوالہ سے 16دسمبر بہت اہمیت والا دن بن گیا ہے۔1971میں اس وقت کی قیادت نے ملک کو کلمہ کی بنیاد پر مضبوط نہیں کیا اور نظام تعلیم کو اغیار کے حوالے کر دیا۔سیاسی قیادت نے عوام کو مایوسیوں کی دلدل میں دھکیلا۔ بھارت نے مکتی باہنی کے ذریعہ سازش کر کے پاکستان کو دولخت کیا لیکن یہ بھی المیہ ہے کہ اتنے بڑے حادثہ کے بعدبھی سیاسی شخصیات اور دانشور اکٹھے نہ ہو سکے اور پھر گزشتہ برس آرمی پبلک سکول کا سانحہ ہوگیا۔جماعۃ الدعوۃ سیاسی امور کے سربراہ پروفیسر حافظ عبدالرحمان مکی نے کہا کہ1965میں لڑائی جبکہ1971میں سازش ہوئی تھی۔65ء میں اس کی فوج اورسیاستدانوں کو بھرکس نکلا لیکن71ء میں ہندوستان نے نظریہ پاکستان پر کاری ضرب لگائی اور اسکی بنیادوں کو کھوکھلا کیا۔ہندو اساتذہ تعینات کئے گئے جنہوں نے نظریہ پاکستان کو سخت نقصان پہنچایا ۔مکتی باہنی کو پروان چڑھایا گیا۔جمعیت اہلحدیث کے ناظم اعلیٰ علامہ ابتسام الہیٰ ظہیر نے کہا کہ 16دسمبر کو پاکستان سے محبت کرنے والا کوئی فرد فراموش نہیں کر سکتا۔بیت المقدس پر قبضہ،سانحہ سقوط بغداد اور سقوط ڈھاکہ بھلائے نہیں جا سکتے۔خواجہ غلام فرید کوٹ مٹھن کے سجادہ نشین خواجہ معین الدین کوریجہ نے کہا کہ قیام پاکستان کے وقت قوم ایک مٹھی کی طرح متحد ہو چکی تھی ۔ہم نے اتحاد کو آہستہ آہستہ کھو دیا جسکی وجہ سے انڈیا نے ہمارا ملک توڑا۔اب ہمیں سازشوں کے خاتمے کے لئے متحد ہونا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ تحفظ نظریہ پاکستان کے لئے جنوبی پنجاب میں ضلع اور تحصیل کی سطح پر ایسے عظیم الشان پروگرام منعقد کریں گے تا کہ قوم کو آگاہی دی جا سکے۔ممبر پنجاب بار کونسل چوہدری ذوالفقا ر علی ایڈووکیٹ ، پیر ولی اللہ شاہ بخاری، رضیت باللہ،جمیل احمد فیضی ایڈوکیٹ،عقیل چوہدری ایڈووکیٹ، محمد شفیق قادری، ابوالہاشم ربانی،مولانا احسان الحق شہباز،مولانا ادریس فاروقی،مولانا ثناء اللہ فاروقی،حافظ مسعود خان،قاری ابو عبیدہ و دیگر نے کہا کہ بنگلہ دیش میں پھانسیوں پر چڑھنے والے لوگ محب وطن پاکستانی ہیں۔وہاں نام نہاد ٹربیونل بنایا گیا ہے۔وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے پالیسی بیان دے دیا لیکن وزیر اعظم اس مسئلہ پر خاموش رہے۔انہوں نے کہا کہ این جی اوز،جماعتیں اس مسئلہ پر کیوں خاموش نہیں یہ انکا اندرونی مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کا مسئلہ ہے۔ ہمیں نظریہ پاکستان پر متحد ہونے کی ضرورت ہے۔پاکستان سے محبت کرنے والوں کو تختہ در پر لٹکایا جار ہا ہے اور حکمران لبرل ازم کے نعرے لگا رہے ہیں۔مسلم ملکوں کو احتجاجابنگلہ دیش کے سفارتکاروں کو پاکستان سے نکالنا چاہئے تھا۔

مزید : صفحہ آخر


loading...