جنت الفردوس میں آمد کی پہلی سالگرہ

جنت الفردوس میں آمد کی پہلی سالگرہ
جنت الفردوس میں آمد کی پہلی سالگرہ

  


آج 16دسمبر 2015 ہے ہم ’’شہداء پشاور کو جنت الفردوس کے مکین بنے ایک سال ہوچکا ہے ہم جب یہاں آنے سے پہلے اپنے ماما پاپا کے ساتھ تھے تو ہم مختلف مواقع پر اپنے گھروں اور سکول میں مختلف تقریبات کا انعقاد کرتے تھے ۔ ہم اپنی سالگرہ والے دن بھی خوب ھلاگُلا کرتے تھے مزے مزے کے کیک کھاتے تھے۔ عید وغیرہ کے مواقع پر بھی خوب مستی کرتے تھے لیکن آج یہاں جس قدر خوبصورت تقریب کا اہتمام کیا گیا ہے اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔دنیا بھر کی زبانوں میں شاید اتنے خوبصورت الفاظ ہی موجود نہیں جو اس شاندار تقریب کا احوال بیان کرسکیں۔ گزشتہ کئی روز سے حورو ملائکہ اس سلسلے میں خصوصی انتظامات میں مصروف ہیں۔ مہمانوں کی آمد شروع ہوچکی ہے۔ نہایت خوبصورت سرسبز و شاداب وسیع و عریض باغ ہے۔ جو رنگ برنگے پھولوں سے مہک رہاہے، بے حد خوبصورت پرندے پھلوں سے لدے ہوئے گھنے پیڑوں پر بیٹھے اپنی مترنم آوازوں میں خدائے بزرگ و برتر کی حمدو ثناء میں مصروف ہیں اُن کی مدھر آوازوں کی وجہ سے کائنات کی ہر چیز نغمہ خواں دکھائی دے رہی ہے آبشاروں کی آواز فضا میں نغمگی بکھیر رہی ہے۔ ہم سب بچوں نے زرق برق پوشاکیں پہن رکھی ہیں اور ہاںآج ہم سب نے بہت خوبصورت تاج بھی پہن رکھے ہیں جن میں یا قوت ، لولو اور مرجان جڑے ہوئے ہیں۔ جس ہال میں کیک کاٹا جائے گا۔ اس میں بہت بڑے دیدہ زیب فانوس لٹک رہے ہیں اُن سے چھن کر آنے والی روشنی سے ماحول بقعہ نور بنا ہوا ہے۔ مشک وعنبر کی خوشبو چاروں طرف پھیلی ہوئی ہے۔ فرش پر سفید ریشم نہایت خوبصورتی سے بچھا ہوا ہے۔ خوشیوں سے دمکتے شاداب چہرے اور مسرور آنکھیں چاروں طرف دکھائی دے رہی ہیں۔ غرض یہ کہ ہمارے چارو ں طرف حسن و رعنائی کا ایک دریا موجزن ہے۔اور ہاں آج کی اس تقریب کے مہمان خصوصی ہیں۔ جناب سیدالشہداء حضرات امام حسینؓ ۔ آپ ہماری خوش قسمتی کا اندازا لگائیے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے کس قدر شاندار انعام سے نوازا ہے کہ سید الشہداء �آج ہمارے ساتھ ہوں گے۔میں حمزہ ہوں جب میں یہاں آیاتھا تو 10سال کا تھا اب میں 11سال کا ہو گیا ہوں اس سال 9مارچ کو میرا برتھ ڈے تھا اس دن مجھے میرے ماما پاپا بہت یاد آئے لیکن عجیب بات ہے کہ اس کے باوجود میں نے اپنی سالگرہ بہت اچھے طریقے سے منائی ۔ مجھے میرے سب دوستوں نے ایسے ایسے خوبصورت تحفے دیے جواس سے پہلے میں نے کبھی دیکھے بھی نہ تھے۔۔۔میرا نام خولہ ہے جی ہاں وہی خولہ جسے سب پیار سے یہاں’’جنت کی گڑیا ‘‘کہتے ہیں وہی خولہ جو صرف ایک دن سکول جاسکی تھی۔ آج مجھے بہت ساری باربی ڈولز کا تحفہ ملا ہے۔ میرا کمرہ اس وقت مختلف قسم کی گڑیاؤں سے بھرا ہوا ہے۔ میں آج یہاں موجود مہمانوں کی خصوصی توجہ کا مرکز ہوں کہ آخر میں ’’جنت کی گڑیا جو ہوں‘‘۔۔۔اور میں عبداللہ آفریدی ہوں یہ تو آپ جانتے ہیں نا کہ میں بہت اچھا کرکٹر ہوں آج یہاں پر ہمارا ایک دوستانہ کرکٹ میچ بھی ہوا ۔ جس میں ہم نے خوب مزا کیا مجھے مین آف دی میچ کا انعام بھی ملا۔ آج میرے سب دوستوں نے مجھے بہت سارے گیند اور بیٹ گفٹ کیے ہیں۔

میں شاہدہ قاضی ہوں جو پہلے تو ان بچوں کے سکول کی پرنسپل تھی لیکن اب میں ان سب پیارے پیارے بچوں کی ماں بھی ہوں۔ پچھلے مہینے میرے اس بیٹے کی جو میں دنیا میں چھوڑ آئی ہوں کی سالگرہ تھی مجھے اُس دن وہ بے حد یاد آیا کاش میں حسبِ معمول اپنے بیٹے کے لیے اپنے ہاتھوں سے اس کا پسندیدہ کیک بناتی اور اسے اس کو اچھے اچھے تحفے دیتی لیکن میرے بیٹے میری جان تم پریشان مت ہونا تمہاری ماں کی دعائیں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہیں میں تمہیں ہر لمحہ اپنے ارد گرد محسوس کرتی ہوں کہ محبت زمان و مکان کی پابندیوں سے ماورا ہوتی ہے۔ تمہاری خوشبو مجھے ہر لمحہ اپنے حصار میں لیے رکھتی ہے۔ اپنے پاپا کا بہت خیال رکھنا۔ میرے آنے کے بعد وہ یقیناًبہت تنہامحسوس کر رہے ہوں گے سب بہن بھائی ایک دوسرے کا اور اپنے پاپا کا بے حد خیال رکھنا۔ جن دھشت گردوں نے میرے سکول میں خون کی ہولی کھیلی تھی اُن دھشت گردوں کے جن ساتھیوں کو کچھ دن قبل پھانسی دی گئی تھی ان کا احوال ملائکہ کے ذریعے ہمیں معلوم ہوچکا۔ وہ لوگ جہنم کے نچلے ترین حصے میں نہایت دردناک عذاب سے دوچار ہیں کاش ان دہشت گردوں کے ہمدرد اور ساتھی جو ابھی زندہ ہیں ان کو ملنے والے اس خوفناک عذاب کی ایک جھلک اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں ۔

عزیز ہم وطنو! آپ براہ کرم دہشت گردوں کے اُن معاونوں اور دوستوں کو جو قرآن و حدیث کی روشن تعلیمات کو مسخ کرکے دہشت گردی کا جواز ڈھونڈنے کی کوشش کررہے ہیں کو بتادیں کہ اگر وہ اس عبرتناک اور ہولناک عذاب سے بچنا چاہتے ہیں تو اپنی فکر کو راہ راست پر لے آئیں بے گناہوں کا خون بہانے سے باز آجائیں۔ اور میرے عزیز ہم و طنو! ہم شہدائے پشاور آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ آپ دہشت گردی کے خلاف پاک فوج کی کاوشوں میں اپنی افواج کے دست و بازو بن جائیں ہمارے وطن عزیز کو دہشت گردی کے جس عفریت کا سامنا ہے اس کے سامنے پوری قوم ایک سیسہ پلائی دیوار کی طرح ڈٹ جائے آپ جانتے ہیں کہ کوئی بڑی سے بڑی فوج بھی اپنی قوم کی حمایت اور ریاست کے تمام تر اداروں کی مدد کے بغیر کوئی جنگ نہیں جیت سکتی۔ اس لیے آپ اپنی تمام تر توانائیوں کے ساتھ یکسو ہو کر اپنی بہادر افواج کا ساتھ دیں تاکہ ہمارے پیارے وطن میں چھائی خزاں ختم ہواوریہاں بہار کا موسم پھر سے واپس آسکے۔

مزید : کالم


loading...