سانحہ پشاور کا ایک سال

سانحہ پشاور کا ایک سال
سانحہ پشاور کا ایک سال

  


سانحہ اے پی ایس پشاور کو رونما ہوئے ایک سال کا عرصہ بیت چکا ہے، لیکن اس روح فرسا واقعہ کے زخم آج بھی تازہ ہیں۔16دسمبر 2014 کو آرمی پبلک سکول پشاور میں پیش آنے والے اس اندوہناک واقعہ میں بچوں سمیت لگ بھگ 144افراد شہید اور سو سے زائد زخمی ہوئے ، جس کے بعد وقتی طور پر چند دنوں کے لئے ایک غیر یقینی صورت حال نے جنم لیا اور ملک بھر کے تعلیمی ادارے بند کر دیئے گئے۔پاکستان مخالف عناصر یہ سمجھے کہ ملک کے تعلیمی نظام کو تعطل کا شکار کر کے شائدوہ اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہو جائیں گے، لیکن دوسری طرف قوم بھی ان کے خلاف سینہ سپر ہو گئی۔ ملک بھر کے تعلیمی اداروں کو سیکیورٹی کے مناسب اقدامات کے بعد جب ری اوپن کیا گیا تو ان ملک دشمنوں کو منہ کی کھانا پڑی ۔بچوں اور والدین کے جذبے نے ثابت کر دیا کہ وہ ایک زندہ قوم ہیں جو کسی بھی قربانی سے دریغ کرنے والے نیہں ۔اس موقع پر تما م سٹوڈنٹس اساتذہ والدین اور خاص طور پر آرمی پبلک سکول کے بچوں کی عظمت کو سلام۔ آج جب بچوں کے تاثرات سننے کو ملتے ہیں تو دل خوشی سے بھر جاتا ہے ۔سکول جاتے بچے نہ صرف یہ کہتے پھر رہے ہیں کہ بڑا دشمن بنا پھرتا ہے بچوں سے بھی لڑتا ہے، بلکہ ان کا جوش اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ اقبال کے ان شاہینوں کو ڈرا دھمکا کر ترقی کی راہوں سے کبھی بھٹکایا نہیں جا سکتا۔ہمارے سٹوڈنٹس ہمارا مستقبل ہیں اور ان کا یہ عزم صمیم اس حقیقت کو آشکار کر رہا ہے کہ پیارے ملک کا مستقبل نہایئت تابناک ہے ۔

یہ جنگ عظیم دوم کا واقعہ ہے جب برطانیہ کے آنجہانی وزیراعظم سر ونسنٹن چرچل سے معزین شہر نے سوال کیا کہ کیا جرمنی برطانیہ کو شکست دے دے گا تو ونسنٹن نے جواب دیا کہ جب تک ہمارئے تعلیمی ادارے ٹھیک کام کر رہے رہوں دنیا کی کو ئی طاقت انہیں شکست نیہں دے سکتی اور ہوا بھی یہی جرمنی کو منہ کی کھانا پڑی اور چرچل کے الفاط تاریخ کا سچ ثابت ہو ئے الحمداللہ اس وقت ہمارے تعلیمی ادارے بھی پورے زورو شور سے اپنا کام کر رہے ہیں ۔خیر جہاں تک دہشت گردی کی بات ہے تو نائن الیون کے بعد پاکستان میں لگی اس آگ کے خلاف جاری آپریشن ضرب عضب کے دائرہ کار کو مزید وسعت دی گئی ۔دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے مضبوط اور سخت فیصلے کیئے گئے ،دہشت گردوں کو سزادینے کے لئے ملٹری کورٹس کا قیام عمل میں لایا گیا،وزیراعظم کی قیادت میں تما م سیاسی جماعتیں بھی ایک ہی پیج پر آگیءں اور نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا، جس پر تیزی سے عمل درآمد جاری ہے ۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ آپریشن ضرب عضب کو ڈیڑھ سال مکمل ہو چکا ہے، جس میں پاک فوج کے جوانوں نے تین ہزار چار سو سے زائد دہشت گردوں کو ٹھکانے لگا دیا ہے ان کی کمین گاہوں کو ختم کر دیا ہے اور کامیابیاں سمیٹتا یہ آپریشن تکمیل کے مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ مٹھی بھر دہشت گرد چھپتے پھر رہے ہیں، لیکن ہماری نڈر فوج کے نڈر کمانڈر اور جوان پر عزم ہیں کہ آخری دہشت گرد کو بھی ماریں گے۔

انشاء اللہ وہ وقت دور نھیں جب وطن عزیز میں امن کے چراغوں سے روشنیاں پھوٹیں گی تو ضرورت اس امر کی ہے کہ آپریشن ضرب عضب کو کسی بھی قیمت پر منطقی انجام تک پہیچایا جائے اگر خدانخواستہ دہشت گرد پلٹ کر حملہ آور ہو گئے تو حالات کبھی قابو میں نہ آیءں گے اس بات کا ادراک تمام سیاسی جماعتوں اور ہر مکتبہ فکر کے لوگوں کو کرنا ہو گا۔ خیر جہاں تک دہشت گردی کے اس ناسور کے مکمل خاتمے کا سوال ہے تو اس سلسلہ میں کچھ ٹھوس اقدامات اٹھائے جانا ضروری ہیں ، ایک تو یہ کہ اس بات کا تعین کرنا ہو گا کہ پاکستان میں دہشت گردی پروان چڑھانے میں پس پردہ کون سی نادیدہ قوتیں سر گرم عمل ہیں اور کس طرح ان عناصر کے ہاتھ مضبوط کر رہی ہیں تو کچھ شک نہیں کہ ان دہشت گردوں کے سارے تانے بانے پاکستان مخالف ایجنسیوں سے جا کر ملتے ہیں جو ان ملک دشمن عناصر کے ہاتھ مضبوط کر کے پاکستان کا امن سبوتاژ کرنا چاہتی ہیں ، جس کے لئے ضروری ہے کہ ان کے اس مکروہ فعل کو دنیا کے سامنے رکھا جائے اس کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی آگاہی دی جائے کہ اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کے لئے جو مختلف طریقہ واردات استعمال کئے جاتے ہیں مثال کے طور پر کبھی فرقہ واریت اور لسانیت کو ہوا دے کر کبھی پیسوں کا لالچ اور کبھی مذہب کی آڑمیں دست و گریباں کروا دیا جاتا ہے تو ہمیں سوچنا ہو گا کہ ہم سب سے پہلے پاکستانی ہیں اور ایک ہی کلمہ کے بندھن میں بندھے ہوئے ہیں ان حالات میں ہمارے سیکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی اپنے دائرہ کار کو مزید بڑھائیں، تاکہ ان پاکستان مخالف ایجنسیوں کے خطرناک عزائم پر قابو پایا جا سکے ۔۔اب یہاں ایک اور سوال ذہن میں ابھرتا ہے کہ کیا دہشت گردی صرف حکومت اور فوج کا مسئلہ ہے تو ہمارا جواب یقیناً نفی میں ہو گا ،کیونکہ ہر ذی شعور جانتا ہے کہ آگ جب آتی ہے تو محلوں اور جھونپڑوں کی تمیز نہیں کرتی تو اس آگ کو بجھانے کے لئے ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔عوام کو چاہئے کہ وہ حکومتی اداروں سے مکمل تعاون کریں ان کی دی گئیں ہدایات پر عمل کریں اور اپنے ارد گرد کڑی نظر رکھیں اور کسی بھی مشکوک فرد یا سر گرمی کی اطلاع فوراانتظامیہ کو دیں،کیونکہ یہ ملک ہمارا گھر ہے او رگھر کی رکھوالی گھر کے تمام افراد پر فرض سمجھی جاتی ہے۔ بس نحوست کی یہ دیوار گرنے کے قریب ہے۔ اپنی تمام توانائیاں مجتمع کر کے آخری دھکا لگانا ہے ،کیونکہ دیوار کے پار محبتوں خوشیوں اور امن وآشتیوں کے موسم پورے جوبن پر ہیں ۔اور وہ وقت دور نہیں جب ہمارے یہاں ہر طرف امن کی پریاں محو رقص ہوں گی ،لیکن ان حالات میں ہمارے سیکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنے دائرہ کار کو مزید بڑھائیں تا کہ ان کے خطرناک عزائم پر قابو پایا جا سکے۔ آخر میں بتاتے جائیں کہ اس سال بھی شہدائے پشاور کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ملک بھر میں دُعا ئیہ تقاریب کا سلسلہ جاری ہے ۔تعلیمی اداروں میں دیشت گردی کے خلاف تقریری و تحریری مقابلہ جات منعقد ہو رہے ہیں، جن میں سٹوڈنٹس پورے جوش و خروش سے حصہ لے رہے ہیں اور آرمی پبلک سکول کے سٹوڈنٹس کے ساتھ نہ صرف اظہار یکجہتی کر رہے ہیں، بلکہ دہشت گردی کا نام و نشان بھی مٹانے کے لئے پیش پیش نظر آرہے ہیں اسی سلسلہ میں پنجاب حکومت نے 10دسمبر سے پورا ہفتہ منانے کا اعلان بھی کیا ہے جو کافی خوش آئند ہے۔یقینآ اندھیرے چھٹنے والے ہیں ۔آخر میں اس دعا کے ساتھ اجازت کہ

خدا کرے میری ارض پاک پہ اترے

وہ فصلِ گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو

مزید : کالم


loading...