کراچی رینجرز کے اختیارات میں توسیع۔فیصلہ سندھ اسمبلی میں نہیں ،آصف علی زرداری نے کرنا ہے؟

کراچی رینجرز کے اختیارات میں توسیع۔فیصلہ سندھ اسمبلی میں نہیں ،آصف علی ...

سندھ کے سیاسی اور صحافتی حلقوں میں جو موضوع سب سے زیادہ زیر بحث ہے وہ آصف علی زرداری کے ذاتی معتمد اور دستِ راست ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری کے بعد رینجرز کے خصوصی اختیارات کی مدت میں توسیع کا ایشو ہے، جو سندھ اسمبلی میں پہنچ چکا ہے جسے سندھ حکومت ’’لیور‘‘ کے طور پر استعمال کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔ منگل کے روز بھی رینجرز کے حوالے سے اپوزیشن کی کئی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی کی طرف سے جمع کرائی جانے والی قرارداد کو تکنیکی بنیادوں پر سپیکر نے پیش نہیں ہونے دیا۔

خصوصی اختیارات کے تنازعہ نے وفاق اور صوبے کو آمنے سامنے لاکھڑا کیا ہے،اس میں سب سے زیادہ مشکل جناب وزیراعظم کو پیش آ رہی ہے،جو ایک طرف کراچی میں جاری دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف جنگ کو حتمی اور منطقی انجام تک پہنچانے کے عزم کا اعلان کرتے ہیں تو دوسری طرف وہ آصف علی زرداری سے مفاہمت کو بھی برقرار رکھنے کے خواہش مند ہیں اور اس کو سیاسی عمل کے لئے ضروری بھی سمجھتے ہیں،مگر مشکل یہ آن پڑی ہے کہ ڈاکٹر عاصم حسین کو آزاد کئے بغیر آصف علی زرداری کو مطمئن نہیں کیا جا سکتا،جن کی رہائی کے لئے حکومتِ سندھ کھل کر وفاق کے سامنے آ چکی ہے۔ مسئلہ رینجرز کے اختیارات میں توسیع کا بالکل نہیں ہے اس حوالے سے سید قائم علی شاہ کے بیانات موجود ہیں اور سب جانتے ہیں کہ سندھ کے وزیراعلیٰ18ویں آئینی ترمیم کے بعد بھی اپنے آئینی اور قانونی اختیار کے استعمال میں کتنے بااختیار رہیں؟ سندھ واحد بدقسمت صوبہ ہے جہاں وزیراعلیٰ کے اختیارات کا مسئلہ یہ رہا ہے کہ وہ کون استعمال کرتا ہے؟

سید قائم علی شاہ1988ء سے2008ء کے بعد 2013ء میں تیسری بار وزیراعلیٰ بنے ہیں وہ مرنجاں مرنج سیاسی رہنما ہیں ،مگر ان کی بدقسمتی یہ ہے کہ ان کو اپنے آئینی اور قانونی اختیارات استعمال کرنے سے پہلے آصف علی زرداری کی منظوری درکار ہوتی ہے۔اگر اختیارات میں توسیع کا فیصلہ انہوں نے اپنی صوابدید پر کرنا ہوتا تو یہ پانچ دسمبر کی شب اسی وقت ہو چکا ہوتا جب اختیار کی مدت ختم ہو رہی تھی۔

رینجرز سندھ میں گزشتہ25سال سے سندھ حکومت کی درخواست پر موجود ہے اور یہ سید قائم علی شاہ ہی تھے جنہوں نے وفاق سے درخواست کی تھی کہ رینجرز کو ہماری مدد کے لئے سندھ میں تعین کیا جائے۔1989ء میں جب سندھ حکومت نے مرکز سے درخواست کی تھی اس وقت سندھ کی سول انتظامیہ کی بے بسی کی کیا حالت تھی؟ اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ سول انتظامیہ حکمران جماعت اور الگ ہو کر اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے والی جماعت ایم کیو ایم کے ایک دوسرے کے ہاتھوں مغوی کارکنوں کو بازیاب کرانے کی سکت بھی نہیں رکھتی تھی اس وقت کی وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کو اس کے لئے اُس وقت کے صدرِ مملکت غلام اسحاق خان کو درخواست کرنا پڑی تھی۔ وہ مداخلت کر کے ایم کیو ایم کی قید سے پیپلزپارٹی کے کارکنوں کو رہائی دلائیں، جس پر صدرِ مملکت نے رینجرز کو ہدایت کی کہ وہ دونوں متحارب جماعتوں کے قبضے سے ایک دوسرے کے کارکنوں کو بازیاب کرائیں جس پر رینجرز نے دونوں جماعتوں کے قائدین سے مذاکرات کے بعد دونوں طرف کے مغویوں کو اس حالت میں کہ پیپلزپارٹی نے ایم کیو ایم کے مغوی کارکنوں کو اور ایم کیو ایم نے پیپلزپارٹی کے مغوی کارکنوں کو ڈی جی رینجرز کے سامنے فائیو کور ہیڈ کوارٹر میں پیش کیا تو دونوں طرف کے مغوی ایک دوسرے کے ہاتھوں ٹارچر کے باعث زخموں سے بُری طرح گھائل تھے، دونوں طرف کے کارکنوں کو ایک دوسرے نے ’’ڈرل مشین‘‘ کے ذریعے تشدد کر کے ہپ، گھٹنوں، ٹخنوں کے علاوہ پیشاب کی نالیاں چھید دی تھیں یہ مغوی اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی سکت نہیں رکھتے تھے۔ خدا جانے وہ اب زندہ بھی ہیں یا نہیں۔ پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم نے مغویوں کو بازیاب کرانے پر رینجرز فائیو کور کے کور کمانڈر اور صدر اسحاق خان کا خصوصی شکریہ ادا کیا تھا،حالانکہ وہ دور آج کے دور سے بدرجہا بہتر تھا۔اگر سندھ حکومت اس وقت امن و امان کی صورت حال پر اپنے طور پر قابو پانے کی پوزیشن میں نہیں تھی تو آج وہ کیسے رینجرز کے بغیر امن بحال کرنے کی پوزیشن میں ہے؟

سندھ حکومت کے سامنے رینجرز کے اختیارات میں توسیع کا فیصلہ اصل ایشو نہیں ہے، بلکہ وہ چاہتی ہے کہ وہ صرف دہشت گردوں، ٹارگٹ کلرز،اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری کے کیسوں تک اپنے کو محدود کریں اور یہ کہ جن پر کرپشن کے الزامات یا ڈاکٹر عاصم حسین کی طرح مبینہ سہولت کاری کے الزامات ہیں رینجرز کوئی کارروائی نہ کرنے کی ضمانت دے۔ کرپشن کے حوالے سے تو جناب سید قائم علی شاہ کہہ ہی چکے ہیں کہ کرپشن تو پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے دور سے ہے (واضح رہے کہ وزیراعلیٰ ہاؤس نے جناب وزیراعلیٰ کی تقریر کی جو پریس ریلیز جاری کی تھی اس میں کرپشن کا حوالہ لیاقت علی خان کے دور سے تھا، بعد میں شدید ردعمل آیا تو رات گئے اخبارات کو وضاحت جاری کی گئی کہ وزیراعلیٰ نے کرپشن کا حوالہ لیاقت علی خان کے دور سے نہیں، لیاقت علی خان کے بعد سے دیا تھا) حالانکہ امر واقعہ یہ ہے کہ1947ء سے لے کر 1958ء تک کسی سیاسی شخصیت پر رشوت کا کوئی الزام لگا تھا اور نہ ہی کسی پر قومی خزانہ اور قومی وسائل کی لوٹ مار کرنے اور نہ ہی سرکاری وسائل سے اپنے ذاتی وفاداروں اور رشتہ داروں کو نوازنے کے کوئی الزامات تھے۔ قائداعظمؒ نے تو صوابدیدی اختیارات کو بھی غلط استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی تھی اور اپنے ذاتی دوست اور تحریک پاکستان میں کردار ادا کرنے والے رہنما آئی آئی چندریگر کو کابینہ سے اس غلطی پر برطرف کر دیا تھا کہ وزیر تجارت نے اپنے ایک ایسے رشتہ دار کو صوابدیدی اختیار کے تحت امپورٹ ایکسپورٹ کا لائسنس جاری کر دیا تھا جو تجارت کے بجائے ذاتی استعمال کے لئے حاصل کیا گیا تھا،متعلقہ شخص پرائیویٹ ادارے میں ملازمت کرنے کی وجہ سے قواعد کے مطابق امپورٹ ایکسپورٹ کا لائسنس حاصل کرنے کا مجاز نہیں تھا۔ قائداعظمؒ نے جناب آئی آئی چندیگر(مرحوم) کی برطرفی کی سمری پر جو تاریخی نوٹ تحریر کیا تھا۔ وہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے اس بحث سے قطع نظر سندھ حکومت رینجرز کے اختیارات میں توسیع انہی اختیارات کے ساتھ کرتی ہے یا نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اب کراچی کے آپریشن کو ضربِ عضب کے آپریشن کے تسلسل سے الگ کرنا سندھ حکومت کے بس میں ہے،اور نہ ہی وفاقی حکومت کراچی آپریشن سے ہاتھ کھینچ سکتی ہے اور نہ ہی کراچی کا امن ممکن ہے جب تک دہشت گردوں کے مالی،سیاسی اور انتظامی سہولت کاروں کو قانون کے شکنجے میں کسا نہیں جاتا۔ بہتر یہی ہے کہ سندھ حکومت رینجرز کے اختیارات میں توسیع بھی کر دے اور ساتھ ہی ساتھ پولیس میں میرٹ کی بنیاد پر بھرتی کو یقینی بنا کر پولیس کو اس قابل بنایا جائے۔ تب ہی حقیقی معنوں میں سندھ میں مستقل بدامنی کا خاتمہ ممکن ہو گا،اس کے لئے کرپشن کا خاتمہ بھی لازمی ہے اور ان سہولت کاروں کا بھی جو سرکاری وسائل کی لوٹ مار سے دہشت گردوں اور ان کے طاقتور سرپرستوں کے سہولت کار بنتے ہیں۔

مزید : علاقائی


loading...