برکتوں اور رحمتوں والےکی آمد کا مہینہ جشن میلادلنبیﷺکی تیاریاں شروع

برکتوں اور رحمتوں والےکی آمد کا مہینہ جشن میلادلنبیﷺکی تیاریاں شروع

ہفتہ رفتہ جہاں مبارک اور برکتوں والے قمری مہینے والا تھا،وہاں ہنگامہ خیز بھی تھا،الحمرا میں عالمی ادبی ثقافتی میلے نے زبردست رنگ جمایا تو الحمرا آرٹس کمپلیکس قذافی سٹیڈیم میں صوفی ازم چھایا رہا، اس کے ساتھ ہی لاہور پریس کلب کے باہر اور فیصل چوک شاہراہ قائداعظم پر احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا،اس سے شہریوں کو بھی پریشانی کا سامنا رہا۔

یہ مہینہ آمد مصطفےٰ ؐ کا ہے۔ ربیع الاول کا چاند ہوا،جس کے مطابق یوم میلاد النبیؐ24دسمبر بروز جمعرات کو ہو گا اور اس مرتبہ اس سے اگلے ہی روز یوم ولادت حضرت عیسیٰ علیہ السلام منایا جائے گا۔ یوں ملک میں مسلمانوں کے بعد سب سے بڑی آبادی(عیسائی) بھی کرسمس منائیں گے۔ ہفتہ رفتہ میں ربیع الاول کا چاند ہونے کی خبر کے ساتھ ہی فضا درود و سلام کے زمزموں سے گونج اُٹھی اور اسلامیان پاکستان منتظر تھے اور جونہی چاند ہوا تیاریاں شروع کر دی گئیں۔ واعظ حضرات نے باقاعدہ سیرۃ النبیؐ پر روشنی ڈالنا شروع کی، نوجوانوں نے جھنڈیاں اور روشنیوں کا اہتمام شروع کر دیا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس مرتبہ پہلے سے زیادہ جوش سے جشن میلاد النبیؐ منایا جائے گا کہ ابھی سے گھروں اور بازاروں کو سجانے کا سلسلہ شروع ہو گیا اور روشنیاں بھی لگائی جا رہی ہیں۔

الحمرا (مال روڈ) میں اس مرتبہ بہت بڑا اہتمام کیا گیا اور سہ روزہ عالمی ادبی ثقافتی میلہ لگایا گیا۔ بہت ہی مصروف پروگرام تھا، سبزہ زار میں ثقافتی میلہ تھا اس میں پاکستان کی ساری ثقافتوں کے رنگ موجود تھے اور اپنے پاکستانی ’’کھابے‘‘ بھی رکھے گئے تھے۔ کتابوں کی نمائش کے علاوہ مشاعرے، کانفرنسیں اور ادبی محافل ہوئیں، جبکہ کلچرل شو بھی منعقد کئے گئے ان سے پورے ملک کی ثقافت کا رنگ جھلکتا تھا، معروف پروگرام کی حد تو یہ ہے کہ آخری روز الحمرا کے تینوں ہال بھرے بھرے تھے کہ یہاں پندرہ سیشن ہوئے۔ یہ کامیاب تقریب تھی،اس میں شہریوں نے بڑی دلچسپی لی اور خوف کے بادل چھٹتے نظر آئے۔

اسی طرح الحمرا (آرٹس) کلچرل کمپلیکس قذافی سٹیڈیم میں سہ روزہ صوفی میلہ منعقد کیا گیا۔ یہ رفیع پیرزادہ تھیٹر کے تعاون سے تھا، اس میں قوالی اور صوفیانہ کلام کی محافل نے رنگ جمایا، معروف و مشہور فنکاروں نے جادو جگایا، شہریوں کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی۔ یوں ان تقریبات کی وجہ سے بڑی دیر بعد ملکی ثقافتی جھلک اور شہریوں کی دلچسپی نظر آئی۔ عام تاثر یہ ہے کہ لاہور جو ثقافتی مرکز بھی ہے اس میں ایسی تقریبات کا انعقاد لازمی ہے کہ شہریوں کے لئے مسائل تو ہیں ان کے لئے دلچسپی کے مراکز ٹھنڈے جا رہے ہیں۔

ایک طرف یہ صورت حال تھی تو دوسری طرف عوامی مسائل ہیں، لاہور پریس کلب تو یوں بھی اب احتجاجی مرکز بن چکا اور ہر روز کوئی نہ کوئی احتجاج ہوتا رہتا ہے۔ انتظامیہ کی طرف سے اس عمل کے باعث پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنے کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا، ہر احتجاج ٹریفک معطل کر دیتا ہے۔ بہرحال ہفتہ رفتہ میں تو بڑے مظاہروں کا مرکز فیصل چوک تھا،جہاں کسٹمز حکام کے خلاف بلال گنج کے تاجروں نے مظاہرہ کیا، اور ان کے علاوہ محکمہ صحت کے ملازمین نے بھی اسی چوک کو پسند کیا۔ تاجر اپنے ساتھ ٹائر لے کر آئے اور انہوں نے یکایک گاڑیوں سے ٹائر نکال کر چوک میں آگ لگا دی۔اس سے انتہائی خطرناک دھواں اُٹھا، جبکہ مال روڈ پر ٹریفک جام ہوئی جس کے اثرات ملحقہ سڑکوں پر بھی ہوئے اور بُری طرح کا ٹریفک جام نظر آیا، پولیس نے پانی سے پائپوں سے ٹائروں کی آگ بجھانے اور مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی تو ان کے ساتھ جھڑپیں ہو گئیں، مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی۔

تاجروں کے علاوہ محکمہ صحت کے ملازمین جو عرصہ سے اپنے مطالبات کے لئے مظاہرے کر رہے ہیں۔ پیر کو فیصل چوک آئے اور اسمبلی کا گھیراؤ کرنے کی کوشش کی، ان کی بھی پولیس والوں سے جھڑپیں ہوئیں۔ یہ سلسلہ دوپہر کے بعد سے شام گئے تک جاری رہا اور ٹریفک معطل رہی۔

حکومتی مشینری اس وقت تک حرکت میں نہیںآتی جب تک کوئی پریشان کرنے والا مظاہرہ نہ ہو، حالانکہ متعلقہ حکام اور وزارتوں کو ابتدا ہی سے نوٹس لے کر مذاکرات کا سلسلہ شروع کرنا چاہئے۔ اگر ایسا ہو تو اس قسم کے مظاہروں کی نوبت نہ آئے کہ حکمران ایسے مطالبات جو پورے کئے جا سکتے ہیں، مان لیں اور دوسروں کے لئے ایک دوسرے کو سمجھانے اور ان کے حل کی راہ تلاش کی جائے، لیکن ایسا ہوتا نہیں۔

اس کے ساتھ ہی شہر میں سیاسی سرگرمیاں بھی ہوئیں۔ عمران خان بھارت کے دو روزہ دورہ کے بعد دلی سے لاہور ائر پورٹ پر آئے اور میڈیا سے بات کر کے اپنے تاثرات کا اظہار کیا، جبکہ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے ایک مجلس مذاکرہ سے خطاب کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا کہ وہ بنگلہ دیش میں پھانسیوں کا مسئلہ عالمی عدالت میں لے کر جائے اور ان کے خلاف عالمی فورم پر آواز بلند کی جائے، ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کے جن حضرات کو بنگلہ دیش میں پھانسی دی گئی ان کا کوئی جرم نہیں۔ یہ سیاسی انتقام ہے،ان حضرات کو سزا پاکستان سے محبت کی دی جا رہی ہے، حالانکہ یہ لوگ اب بنگلہ دیشی ہیں اور وہاں کی سیاست میں بنگلہ دیش کے آئین کے مطابق حصہ لے رہے ہیں۔

عید میلاد النبی ؐ کا جشن بھی شروع ہے اور یہ مسائل بھی سامنے ہیں، جبکہ شہر میں 16دسمبر 2014ء کو پشاور کے آرمی پبلک ہائی سکول پر ہونے والی دہشت گردی کی بہیمانہ واردات کی یاد بھی منائی گئی یہاں تقریبات منعقد ہوئیں، شہدا کے بلندی درجات کی دُعا کی گئی۔ آج یہاں کئی تقریبات ہوں گی۔ سکولوں میں یاد منائی جائے گی اور شہدا کی یاد میں موم بتیاں بھی روشن کی جائیں گی کہ ان کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

مزید : علاقائی


loading...