آرمی پبلک سکول حملے کے شہدا کی پہلی برسی آج عقیدت و احترام سے منائی جائیگی

آرمی پبلک سکول حملے کے شہدا کی پہلی برسی آج عقیدت و احترام سے منائی جائیگی

لاہور،پشاور/اسلام آباد(اپنے نامہ نگار سے ،اے این این) پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملے میں شہید ہونے والے بچوں کی پہلی برسی(آج) عقیدت و احترام سے منائی جائے گی، اے پی ایس میں تعزیتی ریفرنس اور دعائیہ تقریب کا انعقاد ہو گا،آرمی چیف ،گورنر خیبر پختون خوا اور وزیر اعلیٰ سمیت اہم شخصیات کی شرکت کا امکان،لواحقین سے اظہار یکجہتی کے لئے واک اور ریلیوں کا اہتمام ، شہدا میں چار خاندانوں کے دو، دو بیٹے شامل،کئی والدین سال بعد میں بچوں کی شہادت کی حقیقت کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں اور بچوں کی واپسی کی امید لگائے بیٹھے ہیں ۔تفصیلات کے مطابق(آج)16دسمبر کو پشاور میں آرمی پبلک سکول پر دہشتگردوں کے حملے کو ایک سال پورا ہو رہاہے۔16دسمبر2014کو آج ہی کے دن اِس سانحے میں 147افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں 130 سے زیادہ بچے تھے۔اس سانحہ میں شہید ہونے والے بچوں اور اساتذہ کی یاد میں ملک بھر میں شہداء کی برسی عقیدت و احترام سے منائی جائے گی اور شہداء کی خدمات اور لواحقین کے جذبے کو خراج تحسین پیش کیا جائے گا اس ضمن میں ملک بھر میں دعائیہ تقریبات اور تعزیتی ریفرنسز کا انعقاد کیا جائے گا۔اس حوالے سے مرکزی تقریب پشاور کے آرمی پبلک سکول میں ہوگی جس میں چیف آف آرمی سٹاف،گورنرخیبر پختون خوا سردار مہتاب احمد خان،وزیر اعلیٰ پرویز خٹک سمیت اعلیٰ شخصیات کی شرکت کا امکان ہے،دریں اثناء فصل آباد،لاہور،پشاور اور گوجرانوالہ سمیت ملک کے مختلف شہروں میں شہدا کی یاد اور لواحقین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے ریلیوں اور واک کا اہتمام کیا گیا جن میں مرو و خواتین سمیت بچوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ متاثرہ خاندانوں میں سے چار خاندان ایسے بھی ہیں جن کے دو ،دو بیٹے شہید ہوئے۔شامویل طارق ، ننگیال طارق، نور اللہ درانی ، سیف اللہ درانی ، ذیشان احمد، اویس احمد ، سیدعبداللہ اور سید حسنین نے سانحہ میں شہادت پائی۔15سالہ شامویل طارق اور13 سال کے ننگیال طارق بالترتیب نویں اور آٹھویں کلاس کے طالب علم تھے۔دو سال پہلے ہی دونوں کو اچھی تعلیمی سہولیات کے باعث آرمی پبلک اسکول ورسک روڈ میں داخل کروایا گیا۔دونوں کو پاک آرمی جوائن کرنے کا شوق تھا۔شہدا کی بہن مہوش جو مقامی یونیورسٹی میں بی ایس آنر کر رہی ہیں وہ کہتی ہیں۔ اس واقعے نے ہماری زندگی ویران کردی ہے، میرے دونوں بھائی بہت ذہین اور خوش اخلاق تھے۔ہمارے سامنے دونوں بھائیوں کی گولیوں سے چھلنی لاشیں پڑی تھیں۔ وہ بھائی جو ہماری امیدوں کا مرکز تھے، ہمارے والدین کے بڑھاپے کا سہارا تھے، ہمیں یقین نہیں آرہا کہ وہ چلے گئے۔میری والدہ کے آنسو اب بھی خشک نہیں ہوئے۔16 دسمبر سانحہ آرمی پبلک اسکول ہمارے ہنستے بستے گھر کو ہمیشہ کے لئے اجاڑ کر گیا۔میں چاہتی ہوں کہ ان بچوں کو انصاف دیا جائے اور دہشت گردوں کو کڑی سزا دی جائے۔نور اللہ ،سیف اللہ دونوں بھائی آرمی پبلک اسکول میں نویں اور آٹھویں کلاس کے طالب علم تھے۔دونوں بچپن سے ہی آرمی پبلک اسکول و کالج ورسک روڈ میں زیر تعلیم تھے۔شرارتی نٹ کھٹ نور اللہ اور سیف اللہ گھر بھر کی جان تھے۔اکثر دونوں کھلونا بندوقیں خریدتے اور پھر آرمی کے سپاہی بن کر دہشت گردوں کو پکڑنے کا کھیل کھیلتے۔ دونوں کو آرمی میں جانے کا بہت شوق تھا۔نور کو بری فوج اور سیف کو پاک فضائیہ جوائن کرنے کا جنون کی حد تک شوق تھا۔نور کہتا تھا کہ میں فوج میں جاکر تمام ملک دشمنوں کا خاتمہ کروں گا اور سیف کو تو جہاز اڑانے کا شوق تھا ۔وہ کہتا تھا میں ایف سولہ طیارہ اڑاؤں گا اور دشمن کے ٹھکانوں پر بمباری کرکے انہیں نیست و نابود کردوں گا۔ایسا کوئی دن نہیں گزرتا کہ وہ یاد نا آتے ہوں ۔ہم کھانا بھی کھانا چاہیں پر چند لقموں کے بعد نوالے حلق میں رک جاتے ہیں۔ میرے والدین صبرو ہمت کی مثال ہیں لیکن ایسا کوئی دن نہیں گزرتا جس میں ہم روتے نا ہوں۔میں بس یہ دعا کرتی ہوں کہ اللہ تعالی سب والدین کو صبر دے ۔سانحہ آرمی پبلک اسکول اپنے پیچھے بہت سی دردناک داستانیں چھوڑ گیا جس میں ایک دل سوز داستان سید فضل حسین کی بھی ہے جن کے دونوں بیٹوں سید عبداللہ اور سید حسنین نے آرمی پبلک اسکول و کالج ورسک روڈ میں16 دسمبر کو شہادت پائی۔عبداللہ دسویں حماعت کے طالب علم تھے اور ڈاکٹر بن کر ملک اور قوم کی خدمت کرنا چاہتے تھے جبکہ سید حسنین آٹھویں جماعت کے طالب علم تھے ،ان کی والدہ انہیں فوج میں بھیجنے کا ارادہ رکھتی تھیں۔ سانحے کو ایک سال بیت گیا لیکن والدین کی نگاہیں اب بھی ان دونوں کی راہ تک رہی ہیں۔گھر سے دو بچوں کا چلے جانا کسی قیامت سے کم نہیں۔شہدا کے والد فضل حسین کہتے ہیں ہمارا گھر ان کے جانے کے بعد کسی کھنڈر کا سا سماں پیش کررہا ہے۔ ان کی والدہ بچوں کے کپڑوں کو نکال کر چومتی ہیں اور روتی ہیں۔ہمارے بچے شروع سے ہی اے پی ایس میں زیر تعلیم تھے۔ عبد اللہ خاص طور پر پوزیشن ہولڈر تھا۔عبداللہ کی شہادت کے بعد جب اس کا نتیجہ آیا تو اس نے پہلی پوزیشن حاصل کی ۔ان دونوں کے بعد ہماری زندگی تباہ ہوگئی۔ملاکنڈ سے تعلق رکھنے والے صوبیدارر اکرام اللہ کے دو بیٹوں نے بھی سانحہ آرمی پبلک ا سکول میں شہادت پائی۔ذیشان احمد دسویں کلاس میں اور اویس احمد آٹھویں کلاس میں تھے۔پلے گروپ سے ہی دونوں اے پی ایس میں زیر تعلیم تھے۔ذیشان ڈاکٹر بننا چاہتے تھے اور اویس کی دلچسپی کمپیوٹر میں تھی۔شہید بچوں کے والد اکرام اللہ کہتے ہیں میرے دونوں بچے بہت اخلاق والے تھے۔ہمیشہ سب کی مدد کرتے۔ہمیں لگتا ہے کہ جیسے آج بھی ہم 16 دسمبر 2014 میں ہی کھڑے ہیں۔ان کی والدہ بہت ہی رنجیدہ رہتی ہیں۔میں نے خود ساری زندگی فوج میں رہ کر وطن کی خدمت کی ،مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میرے بیٹوں نے پاکستان کے لئے اپنی جان دی۔ان بچوں کی قربانی کے بعد پاکستان کے امن و امان پر بہت فرق پڑا اور صورتحال بہتر ہوئی۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالی پاکستان کو امن کا گہوارا بنادے ۔اس حملے میں شدید زخمی ہونے والے احمد نواز برطانیہ کے شہر برمنگھم میں زیر علاج ہیں جہاں ان کی والدہ ثمینہ نواز بھی ان کے ساتھ موجود ہیں۔ثمینہ نواز نے 16 دسمبر 2014 کو ایک ہی دن میں جہاں ایک بیٹا کھویا، وہیں دوسرا اب تک بسترِ علالت پر ہے جبکہ تیسرا بیٹا آج بھی اس دن کی خوفناک یادوں سے مکمل طور پر چھٹکارا نہیں پا سکا۔صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب بھر کے تعلیمی اداروں میں سانحہ پشاور کے شہدا کو خراج تحسین پہنچانے کے لئے آج خصوصی تقریبات منعقد ہوں گی۔ ریلیاں نکالی جائیں گی اور شہدا کے لئے قرآن خوانی، دعائیہ تقریبات اور شمع روشن کی جائیں گئیں، لاہور میں پنجاب یونیورسٹی میں جبکہ سکولز اور کالجز میں بھی تقریبات منعقد کی جائیں گے پنجاب یونیورسٹی سمیت کالجز اور سکولز میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے جانے کیلئے اقدامات کئے گئے ہیں، پنجاب یونیورسٹی میں سانحہ پشاور کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ایک خصوصی تقریب میں پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران صدارت کریں گے، اس طرح محکمہ تعلیم کے زیر اہتمام ای ڈی او تعلیم لاہور پرویز اختر خان کی قیادت میں ہال روڈ سے پنجاب اسمبلی تک ریلی کا انعقاد کیا جا رہا ہے، اس حوالے سے ای ڈی او تعلیم لاہور پرویز اختر خان نے ’’پاکستان‘‘ کو بتایا کہ لاہور کے تمام تعلیمی اداروں میں شہداء پشاور کو خراج تحسین پہنچانے کے لئے تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا جس میں قرآن خوانی کی جائے گی بعد میں ڈی ای اوز تعلیم اور ڈپٹی ڈی ای آوز کی صدارت میں دعائیہ تقریبات ہو ں گی انہوں نے کہا کہ سانحہ پشاور کے لواحقین کے غم میں ہم برابر کے شریک ہیں اور ایسے واقعات سے قوم اور نوجوانوں بالخصوص طلباء و طالبات کے جذبے سے کم نہیں ہوئے ہیں۔

مزید : صفحہ اول


loading...