خطے کے ممالک کو شدید خطرات لاحق ہیں، انتہا پسندانہ سوچ کا مل کر مقابلہ کرنا ہو گا: نواز شریف

خطے کے ممالک کو شدید خطرات لاحق ہیں، انتہا پسندانہ سوچ کا مل کر مقابلہ کرنا ...

شنگھائی(آن لائن) وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ خطے کے ممالک کو اندرونی سلامتی کے شدید خطرات لاحق ہیں، دہشت گردی سنجیدہ مسئلہ ہے اور ہمیں مل کر انتہا پسندانہ سوچ کا مقابلہ کرنا ہوگا،خطے میں پائیدار امن و سلامتی اور خوشحالی کے لیے مضبوط روابط کی اشد ضرورت ہے، پاکستان رابطوں کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے،چین میں جاری شنگھائی تعاون تنظیم کے 14ویں سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہاکہ 15 سال قبل شنگھائی میں رکن ممالک نے علاقائی تعاون کے ماڈل کی بنیاد رکھی جس کے بعد تنظیم نے سمگلنگ اور دیگر جرائم کی روک تھام کے ساتھ بنیادی ڈھانچے کی ترقی، سیاحت اور ماحولیاتی تحفظ کے شعبوں میں بھی شراکت داری کو مستحکم بنایا،انہوں نے کہا کہ ایس سی او کا 2025 کا ترقیاتی ایجنڈا حکمت عملی فراہم کرتا ہے، ہمیں پرامن اور خوشگوار دنیا کے مشترکہ ویژن کو حاصل کرنا ہے اور آپس میں تعاون کے ذریعے مشترکہ خوشحالی کا حصول ممکن ہے،انہوں نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم تخفیف اسلحہ کیلئے کام کر رہی ہے ، دور حاضر کا سب سے بڑا چیلنج دہشت گردی اور انتہا پسندی ہے، دہشت گردی اور انتہائی پسندی عالمی مسئلہ ہے جس سے مل کر نمٹنا ہے، دہشت گردی، قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے خطے کے ممالک کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں،وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اور ایس سی او ممالک کے مقاصد یکساں ہیں اور پاکستان کے ایس سی او رکن ممالک کے ساتھ گہرے اور تاریخی تعلقات ہیں اور جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے پاکستان چین اقتصادی راہداری کو مثالی بنانا چاہتے ہیں،وزیر اعظم نے کہا کہ خطے میں ریاستی خود مختاری اور اندرونی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں، ہمیں اپنے ارد گرد سلامتی کی نازک صورتحال کا سامنا ہے اور ایس سی او کا کردار خطے میں امن اور سلامتی کے لیے اہم ہے،انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سنجیدہ مسئلہ ہے اور ہمیں مل کر انتہا پسندانہ سوچ کا مقابلہ کرنا ہوگا،ان کا کہنا تھا کہ خطے میں پائیدار امن و سلامتی اور خوشحالی کے لئے مضبوط روابط کی اشد ضرورت ہے اور پاکستان رابطوں کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے، نواز شریف نے کہا ہے کہ خطے میں ریاستی خود مختاری اور اندرونی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں ، دہشتگردی سنجیدہ مسئلہ ہے ،انتہا پسندی کی سوچ کا مقابلہ کرنا ہو گا تاہم تعاون کے ذریعے امن کو فروغ دیا جا سکتا ہے، اجلاس میں قازقستان ، کرغزستان ، روس ، تاجکستان اور چین کے وزرائے اعظم نے بھی شرکت کی ، جبکہ افغانستان ، ایران ، بھارت ، بیلا روس اور منگولیا کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں دہشت گردی اور انتہاء پسندی کے مشترکہ خطرات سے نمٹنے کا ایجنڈا سر فہرست رہا،پاکستانی وفد میں وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف بھی موجود تھے

نواز شریف

اسلام آباد،ژینگ ژو(آن لائن ) وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کو شنگھائی تعاون تنظیم کی اہمیت کا ادراک ہے ،شنگھائی تنظیم میں ممبر شپ کیلئے حمایت کرنے پر چینی حکام کے شکر گزار ہیں ، شنگھائی تعاون تنظیم کے انعقاد پر چینی حکام مبارکباد کے مستحق ہیں، پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے پر ہونے والی پیش رفت سے مطمئن ہیں ،منصوبہ خطے کے ممالک کے لئے خوشحالی کا پیغام ہے ، آپریشن ضرب عضب کے موثر نتائج برآمد ہو رہے ہیں ،ملک میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئی ہے ،پاکستان میں موجود چینی بھائیوں کا تحفظ اہم فریضہ سمجھتے ہیں ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز چینی ہم منصب سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا ، وزیر اعظم نواز شریف اورچینی ہم منصب لی کی چیانگ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں دوطرفہ تعلقات ،پاک چین راہداری منصوبہ ،نیشنل ایکشن پلان ، اور دہشتگردوں کیخلاف پاکستان میں جاری آپریشن ضرب عضب سمیت دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ اس موقع پر وفاقی وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال ، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف ، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی ، اور پاکستانی سفیر مسعود خالد بھی موجود تھے ،چینی ہم منصب سے دوران ملاقات نواز شریف نے کہا کہ پاک چین اقتصادی رہداری منصبوبہ خطے کے ممالک کے لیے خوشحالی کا پیغام ہے اس سے نہ صرف پاکستان میں خوشحالی آئے گی بلکہ پورا خطہ مستفید ہو گا ،اکنامک کو ری ڈور منصوبے پر ہونے والی پیش رفت سے مطمین ہیں ،خطے کی خوشحالی کے لیے منصوبے کو ہر صورت مکمل کریں گے، وزیراعظم نے چینی باشندوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے چینی ہم منصب کو یقینی دلاتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں موجود چینی بھائیوں کی سیکیورٹی اہم فریضہ سمجھتے ہیں انکی سیکیورٹی کے لیے تما م وسائل برو ے کار لا رہے ہیں اور اس حوالے سے سپیشل سیکیورٹی ڈویژن تشکیل دے دیا ہے ، نواز شریف نے کہا کہ پاک چین دوستی لازوال رشتے سے جڑی ہوئی ہے، آئندہ سال دونوں ممالک سفارتی تعلقات کی 65ویں سالگرہ منائیں گے ،انہوں نے کہا کہ چین کے یوآن کی عالمی مالیاتی نظام میں شمولیت اس کی اقتصادی قوت کا اعتراف ہے اس پر چین مبارکباد کا مستحق ہے ، وزیراعظم نے کہا پاکستان میں دہشت گردوں کیخلاف جاری آپریشن ضرب عضب کے موثر نتائج برآمد ہو رہے ہیں اور ملک میں امن و امان کی صورتحال بہترہو رہی ہے۔اس موقع پر چینی وزیر اعظم لی کی چیانگ نے آپریشن ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان کے نتائج پراطمینان کا اظہار کیا اور پاک فوج کی قربانیوں کو سراہا ،انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات بہت مضبوط ہیں اور آنے والے وقتوں میں مزید بلندیوں کوچھوئیں گے،بعد ازاں ترجمان وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف نے چینی ہم منصب لی کی چیانگ سے ملاقات کے دوران انہیں دورہ پاکستان کی دعوت دی جو انہوں نے قبول کر لی

چینی ہم منصب سے ملاقات

وزیر اعظم کے طیارے سے (مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان معاملات کو فہم و فراست سے ہی آگے بڑھایا جا سکتا ہے ‘ مسائل حل کرنے کا واحد راستہ مذاکرات ہیں اور منزل کی طرف پہنچنے کیلئے بھی یہی راستہ ہے ‘ چین پاکستان کا قابل اعتماد دوست ہے ‘اقتصادی راہداری منصوبہ نہ صرف پاک چین دوستی کو مزید مستحکم بنائے گا بلکہ پاکستان سمیت پورے خطے کی ترقی کا ضامن ثابت ہو گا‘ بلدیاتی انتخابات میں عوام کا مسلم لیگ (ن) پر اعتماد کا اظہار اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عوام نے مسلم لیگ (ن) کی پالیسیوں کو سراہا ہے ‘میں نے اس وقت کہا تھا کہ دھرنا پیچھے رہ جائیگا اور پاکستان ترقی کر کے آگے نکل جائیگا اور ایسا ہی ہوا ، کراچی آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچایا جائیگا۔گزشتہ روز وزیر اعظم نے یہ بات چین کے دو روزہ دورہ سے وطن واپسی کے دوران اپنے خصوصی طیارے میں اخبار نویسوں اور ’’آئی این پی‘‘ سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف ‘ وفاقی وزیر احسن اقبال ‘ معاون خصوصی طارق فاطمی ‘ وزیر اعظم کے سیکرٹری فواد حسن فواد اور چیئرمین این ایچ اے شاہد اشرف تارڑ بھی موجود تھے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ کاسا 1000 کا منصوبہ بجلی کے شعبے کیلئے اہمیت کا حامل ہے۔ تنقید کرنے والے تنقید کرتے رہیں گے ہم ترقی کا سفر جاری رکھیں گے۔ آج 3 سال پہلے والا بلوچستان نہیں ہے وہاں امن بحال ہوا ہے ۔ گوادر پورٹ جلد آپریشنل ہو جائیگی۔ عالمی معیار کا ایئر پورٹ تیار کیا جا رہا ہے۔ سی پیک کے منصوبے گیم چینجر ثابت ہوں گے۔ گیس کے منصوبوں کیلئے روس سے بھی بات چیت ہو سکتی ہے۔ ایک سوال پر وزیر اعظم نے کہاکہ بلدیاتی الیکشن دراصل مڈٹرم الیکشن تھے جس میں عوام نے مسلم لیگ (ن) پر بھرپور اعتما دکا اظہار کیا۔ نئی ٹیم منتخب ہو کر آئی ہے جو مقامی سطح پر عوام کے مسائل حل کرے گی۔ انہوں نے کہاکہ ان کی پارٹی شروع میں جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات کے حق میں نہیں تھی کیونکہ اس سے مقامی سطح پر مسائل پیدا ہوتا ہے تاہم اللہ تعالیٰ جو بھی کرتا ہے بہتر کرتا ہے اور جماعتی الیکشن کے نتیجے میں مسلم لیگ (ن) پر جس اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عوام حکومتی پالیسیوں سے مطمئن ہے۔ ایک اور سوال پر وزیر اعظم نے کہاکہ میں نے اس وقت کہا تھا کہ دھرنا پیچھے رہ جائیگا پاکستان ترقی کر کے آگے نکل جائیگا اور ایسا ہی ہوا۔ پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے وزیر اعظم نے کہاکہ ا بھی شروعات ہوئی ہیں65 سال گزر گئے ہیں ہم نہیں چاہتے کہ اگلے 65 سال بھی اسی طرح گزریں ۔ اب بھارت کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ فہم و فراست کے ساتھ معاملات آگے بڑھانے میں پاکستان سے تعاون کرے۔ انہوں نے کہا کہ 1999ء میں سابق بھارتی وزیر اعظم واجپائی لاہور آئے اور لاہور کا اعلامیہ جاری ہوا اور بات چیت سے مسائل حل کرنے پر اتفاق ہوا لیکن بعد میں ایسا نہ ہوسکا۔ انہوں نے کہا کہ مسائل حل کرنے کا واحد راستہ مذاکرات ہیں جتنی جلدی یہ بات سمجھ لی جائے اتنا ہی بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ اڑھائی سالوں سے پاکستان نے سنجیدگی کا مظاہرہ کیا لیکن بھارت کی طرف سے ایسا نہیں ہوا ۔ اچھی سوچ لے کر نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی تھی اور میں نے اس وقت کہا تھا کہ دونوں ممالک کو تعلقات کا سفر کرنا چاہیے ۔ دونوں ممالک آپس میں مذاکرات کریں تاکہ بہتر نتائج برآمد ہوں۔ کچھ دیر سے ہی یہی سفر شروع ہوا ہے لیکن منزل اسی طرح ملے گی۔کراچی کی صورتحال کے بارے میں سوال پر وزیر اعظم نے کہاکہ کراچی آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچایا جائیگا۔ اقتدار میں آتے ہی ہم نے کراچی میں امن لانے کیلئے اقدامات کئے اور سیاسی جماعتوں نے مل کر فیصلہ کیا کہ دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن کیا جائے ۔ جس میں نمایاں کامیابی ملی۔ کراچی کو روشنیوں کا شہر بنائیں گے اور امن کا گہوارہ بنا کر دم لیں گے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ کراچی کے حالات بہتر ہوں گے تو ملک کے حالات بہتر رہیں گے۔ کراچی کے حالات بہتر بنانے کیلئے کوشاں ہیں اور اس کیلئے کوششیں جاری رہیں گی۔وزیر اعظم نے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے حوالے سے کہا کہ 1992ء میں بننے والی موٹر وے پر بعد میں کسی حکومت نے کام نہیں کیا اب ایک کنسورشیم کے ذریعے اس کی مرمت کا کام جاری ہے یہ جدید نئی موٹر وے بن جائیگی۔ موٹر وے پر حفاظتی باڑ لگائی جائیگی اور سروس ایریا کو بھی عالمی معیار کے مطابق بنایا جائیگا۔وزیر اعظم نے کہاکہ سابق حکومتوں نے اگر اس منصوبے پر توجہ دی ہوتی تو 2007ء میں موٹر وے کی مرمت ہونی چاہیے تھی موٹر وے قو م کا اثاثہ ہے۔ حیدر آباد سے کراچی کیلئے بھی موٹر وے بنایا جائیگا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پنجاب میں فارم سے مارکیٹوں سے سڑکیں بنائی جا رہی ہیں سندھ میں بھی فارم سے مارکیٹوں تک سڑکیں بنائی جانی چاہئیں تاکہ کاشتکاروں کو فائدہ پہنچے ۔ انہوں نے کہاکہ زراعت اور انڈسٹری کو ترقی ملنی چاہیے۔ ایک سوال پر وزیر اعظم نے کہاکہ اگر 1999ء میں غیر آئینی طریقے سے ان کی حکومت کو نہ ہٹایا جاتا تو اب تک پشاورسے کراچی اور گوادر تک موٹر وے مکمل ہو چکا ہوتااور اب ہم وسطی ایشیائی ریاستوں تک بذریعہ سڑک راستہ قائم کر رہے ہوتے۔ انہوں نے کہاکہ جلال آباد اور کابل تک موٹر وے بنانے کی خواہش ہے اور اسی راستے سے ترکمانستان ‘ ازبکستان ‘ کرغزستان ‘قازقستان کے ساتھ روڈ بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ چینی وزیر اعظم نے ملاقات کے عدوران بتایا چین کو ریل کے ذریعے جرمنی سے لنک کر دیا گیا ہے اور روٹ پر گڈز سروس شروع ہو چکی ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ آج ہم جو کوششیں کر رہے ہیں موٹر وے کے ذریعے ملانے کیلئے یہ کوششیں سابقہ حکومتوں نے کیوں نہیں کی انہیں ایسی کوششیں کرنی چاہئیں تھیں۔ ایک اور سوال پر وزیر اعظم نے تھر میں کوئلے کی مائننگ پہلی مرتبہ کی جا رہی ہے اس سے نہ صرف پاکستان بلکہ سندھ بھی ترقی کرے گا اور کوئلے سے سستی بجلی پیدا ہو گی اور پسماندہ علاقوں کی قسمت بدل جائیگی۔ 2600میگا واٹ کے منصوبے زیر غور ہیں ان پر تیزی سے کام جاری ہے ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ اگر بھارتی علاقے تھر میں کوئلے سے بجلی بنائی جا سکتی ہے تو پاکستان میں ایسا کیوں نہیں کیا جا سکتا۔ ہم نے اس پر کام شروع کر دیا ہے بجلی سستی ہو گی تو مصنوعات سستی ہوں گی ایکسپورٹ اور زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو گا تیل اور گیس باہر سے خریدنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔

مزید : صفحہ اول


loading...