چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ :نچلے درجے کے ملازمین کی طرف سے شکریہ

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ :نچلے درجے کے ملازمین کی طرف سے شکریہ
 چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ :نچلے درجے کے ملازمین کی طرف سے شکریہ

  


 مرخہ 11-12-2015کوچیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے تاریخ میں پہلی دفعہ غریب اور نچلے درجے کے ملازمین کی درخواست منظور کرکے تاریخ رقم کر دی ہے کیونکہ اس ملک میں غریبوں کی شنوائی نہیں ہوتی ہے ۔ تاریخ گواہ ہے لاہور کے خاکروبوں کی گزشتہ 68سالوں سے شنوائی نہیں ہوتی تھی ستم ظریفی ہے کہ خاکروبوں کو ریگولر نہیں کیا جاتا تھا ۔ کبھی کوئی خدا تر س آفیسر آئے تو ان غریبوں کی داد رسی بھی کر دی جاتی ہے ۔ چوکیدار ، مالی ، کلرک ، ڈرائیور ز وغیرہ نچلے درجے کے ملازمین کو عارضی طور پر کئی کئی سال ملازم رکھا جاتا ہے ۔ اور ان کی تنخواہیں بھی بہت کم دی جاتی ہیں لیکن شنوائی نہیں ہوتی ملک میں چار دفعہ مارشل لاء بھی لگایا گیا لیکن ملکی نظام تبدیل کر دیا جاتا ہے لیکن نچلے درجے کے ملازمین کی کہیں بھی شنوائی نہیں ہوتی تھی وزیر اعلیٰ پنجاب نے لاہور کی صفائی ترکی کے حوالے کرکے ایک انوکھا فیصلہ کر کے تاریخ رقم کر دی سوا ل یہ ہے کہ اربوں روپے بیرون ملک ترکی کو ادا کرکے بہت خوش کر دیا جاتا ہے ۔اگر یہی اربوں روپے لاہور کے خاکروبوں ، مالیوں اور ڈرائیوروں کی تنخواہ میں اضافہ کر دیا جاتا تو وہ تمام ملازمین ان کو دعائیں دینے مگر افسوس اس ملک میں غریبوں کی کہیں شنوائی نہیں ہوتی۔

آخر کار 281ملازمین نے لاہور ہائیکورٹ میں اپنی داد رسی کیلئے رٹ دائر کر دی اور آخر کار مورخہ 01-12-2015کا دن ان ملازمین کیلئے تاریخ ساز سورج طلوع ہوا۔ اور آج وہ تمام دعائیں دیتے سنے گئے ہیں اور آج وہ افسران شرمندہ ہو چکے ہیں ۔ ستم ظریفی ہے کہ لاہور کی صفائی کرنے والوں کو صبح 9بجے سے رات نو بجے تک سڑکوں پر صفائی کراتے رہنے کے احکامات صادر کر دئیے گئے گزشتہ تین ماہ قبل وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے LWMCسالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے ایم ڈی خالد مجید کو بہتر کارکردگی پر شاباش دی اور صرف ایک ماہ کے بعد ان کو بغیر وجہ بتائے ۔ ایم ڈی SWMکے منصب فارغ کرکے تاریخ رقم کر دی اس واقعہ پر مجھے بہت افسوس ہوا اس فیصلے نے ثابت کر دیا کہ حکمران کسی کے دوست نہیں ہوتے ہیں ۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ SWMکے ڈرائیور وں کو گریڈ آٹھ دیا جاتا ہے لیکن گذشتہ ماہ لاہور ویسٹ کے ڈرائیوروں کو دس پندرہ سالوں کے بعد تقریباً 5ہزار ملازمین کو ریگولر کر دیا ہے لیکن ڈرائیوروں کو 8گریڈ کی بجائے ان گریڈ چار کے لیٹر دے کر ناانصافی کرکے ان کو دلبرداشتہ کر دیا گیا ہے ۔ اب دیکھنا ہے کہ چیف جسٹس کے احکامات پر عملدر آمد کرکے تمام ڈرائیوروں کو آٹھواں گریڈ دیا جائے گا یا پھر ان کو بھی اپنا حق لینے کے لئے عدالت میں اپنی داد رسی کے لئے جانا پڑے گا۔ میری طرف سے تمام ملازمین کو مبارکباد ہو۔

مزید : کالم


loading...