بلدیاتی انتخابات :ایک مرحلہ باقی مخصوص نشستو ں کے بعد انتخابت مکمل ہوں گے

بلدیاتی انتخابات :ایک مرحلہ باقی مخصوص نشستو ں کے بعد انتخابت مکمل ہوں گے

سیاسی ڈائری شوکت اشفاق

بلدیاتی انتخابات کے مراحل ووٹنگ کی حدتک تو مکمل ہوگئے ہیں لیکن ابھی مخصوص نشستوں پر فیصلہ ہونا باقی ہے۔ جس کیلئے ابھی تک کوئی حتمی تاریخ مقرر نہیں کی گئی۔ البتہ ان نشستوں کیلئے جماعتوں نے درخواستیں طلب کر لی ہیں۔ جن میں ٹیکنو کریٹیس ، خواتین، ا قلیتی، مزدور اور کسان نشستیں شامل ہیں۔ جبکہ ان پر ووٹنگ کے بعد بلدیاتی اداروں کے ایوان مکمل ہو جائیں گے۔ پنجاب میں 11اضلاع کو میونسپل کارپوریشن کا درجہ دیا گیا ہے اور صرف لاہور ایسا شہر ہے جو میٹرو پولیٹین ہوگا۔ جبکہ باقی اضلاع ٹاؤن کمیٹی کے درجے میں رہیں جبکہ 16اضلاع میں ضلع کونسلیں بھی کام کریں گے۔ جس کیلئے مسلم لیگ ن ہی کو حکمران جماعت ہونے کی وجہ سے برتری حاصل ہوگی کہ وہ زیادہ تر اضلاع میں اپنی مرضی کے ایوان بنا سکیں۔ اپنی مرضی کا میئر اور چیئرمین ضلع کونسل لا سکیں۔ جس کیلئے ن لیگ نے ان عہدوں کے امیدواروں سے درخواستیں بھی طلب کر لی ہیں۔ جس کیلئے 2لاکھ روپیہ فیس بھی رکھی گئی ہے اور یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ ہر ضلع سے ان عہدوں کیلئے بیسوں امیدوار ہیں۔ یوں تمام اضلاع میں سینکڑوں کی تعداد بن جاتی ہے۔ جس میں وائس چیئرمین اور ڈپٹی میئر بھی ہوں گے۔ جب یہ ایوان مکمل ہوں گے تو ان کے اختیارات کے بارے میں بھی ایک ابہام پیدا ہوگیا ہے۔ کیونکہ اس وقت بلدیاتی ادارے موجود نہ ہونے کے باوجود سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی طرف سے متعارف کرایا جانے والا ضلعی حکومتوں کا نظام ہی چل رہا تھا اور ڈی سی اوز اپنے ایگزیکٹو اختیارات کے ساتھ ساتھ ضلعی نظامت کا عہدہ بھی استعمال کرتے تھے۔ جبکہ بڑے شہروں میں ٹاؤن بھی موجود ہیں اور ان پر ایڈمنسٹریٹر بھی سرکاری عہدیدار تعینات تھے۔ اختیارات کو نچلی سطح تک لانے والا یہ نظام جس میں ضلع ناظم تقریباً ایک صوبائی چیف ایگزیکٹو کے اختیارات رکھتا تھا اور جس میں صوبائی وزارت اعلیٰ کے اختیارات نہ ہونے کے برابر تھے تو اس وقت کے وزیراعلیٰ چودھری پرویز الہٰی نے جنرل (ر) پرویز مشرف کے ساتھ مشاورت کے بعد اس وقت کچھ انتظامی اختیارات کی حد تک قانونی تبدیلی کر لی تھی۔ لیکن پھر بھی اس نظام میں بہت سارا قانونی دم خم تھا لیکن پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ دور اقتدار میں بلدیاتی انتخابات کے حصے کو چھیڑا تک نہیں گیا اور ن لیگ بھی ملک کے سب سے بڑے صوبے میں مزے سے تمام تر اختیارات کے ساتھ حکومت کرتی رہی۔ لیکن اب جب انہیں موجودہ انتخابات کرانا پڑے ہیں تو انہیں اس بات کے لالے بھی پڑ چکے ہیں کہ اگر بلدیاتی اداروں کو ان اختیارات کے تحت بحال کیا گیا تو ان کے انتظامی اختیارات کو بڑی ضرب لگ سکتی ہے جو کم از کم میاں شہباز شریف جیسے ایڈمنسٹریٹر کیلئے کسی بھی طور پر قابل قبول نہیں ہے۔ جس کیلئے بلدیاتی انتخابات ممکن کوشش کر کے تاخیر سے کرائے گئے اور اب بھی انہیں تاخیری حربے کو استعمال کرکے مزید التوا کا شکار کیا جا رہا ہے تاکہ صوبائی حکومت بلدیاتی اداروں کے مزید انتظامی اور مالی اختیارات لیکر ایک مرتبہ بھر ڈی سی اوز کو دے دیئے جائیں۔ کمشنر کے عہدے کی بحالی کے ساتھ اب ڈپٹی کمشنر کا عہدے کی بحالی کیلئے ابھی کام مکمل ہے۔ جبکہ اسسٹنٹ کمشنر اور مجسٹریٹ کی حد تک تو یہ کام پہلے ہی مکمل ہو چکا ہے۔ ایسی صورت میں اب ان نو بلدیاتی اداروں کی حیثیت اور اختیارات کیا ہوں گے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

لیکن ایک بات بڑی واضح نظر آرہی ہے کہ ن لیگ کی یہ پالیسی شاید نافذ نہ ہوسکے کہ ان اداروں کے سربراہ ارکان اسمبلی پارلیمنٹ کے عزیز، رشتہ دار، بہن، بھائی وغیرہ نہیں ہوں گے۔ بلکہ ان سے ہٹ کر نئی قیادت سامنے لائی جائے گی۔ جو ایک نئی بات ہے۔ لیکن سیاست کے پنڈت اس پالیسی کو شاید ہضم نہ کر سکیں۔ جس کیلئے انہوں نے ایک پلاننگ کے تحت ان انتخابات میں اپنے ایسے عزیزوں اور رشتہ داروں کو کامیاب کرانے میں کامیاب کرایا ہے۔ محض وہ ان اداروں کے کسی ایک عہدہ کیلئے سامنے لے آئیں گے بلکہ لیکر آچکے ہیں اور اس کیلئے ایک مضبوط لابنگ بھی کر چکے ہیں۔ شجاع آباد ملتان میں ایم پی اے اور پارلیمانی سیکرٹری رانا اعجاز نون کے اپنے والد رانا شوکت حیات نون جو سابق ایم این اے ہیں کو چیئرمین بنانے کی جستجو میں ہیں۔ شجاع آباد سے ہی سید جاوید علی شاہ ایم این اے اپنے کزن سید مجاہد علی شاہ کیلئے لابنگ اور نمبر گیم میں مصروف ہیں جبکہ نو منتخب چیئرمین یونین کونسل ڈاکٹر خالد کھوکھر بھی اس مرتبہ چیئرمین ضلع کونسل کیلئے کوششوں میں ہیں۔ جو ن لیگ کی پالیسی پر بھی پورا اترتے ہیں۔ دوسری طرف ایم این اے ملک عبدالغفار ڈوگر اپنے بھائی کیلئے کوشاں ہیں تو وفاقی وزیر حاجی سکندر بوسن اپنے کزن کیلئے ملاقاتوں میں مصروف ہیں۔ اسی طرح بہاولپور، رحیم یار خان، ڈیرہ غازیخان، مظفر گڑھ، راجن پور اور دوسرے اضلاع میں لیگی ارکان اسمبلی ہی اس پاور گیم کو چلا رہے ہیں اور بظاہر ایسا کچھ نظر نہیں آرہا کہ یہ عہدے ان طاقت کے محوروں سے نکل پائیں گے۔ اسی طرح ملتان کی ممبر شپ کیلئے بھی لیگی ایم پی اے اور سابق صوبائی وزیر حاجی احسان الدین قریشی اپنے بیٹے منور احسان قریشی کیلئے تگ و دو میں مصروف ہیں۔ جبکہ لیگی عہدیدار اور سابق ایم این اے طارق رشید اپنا امیدوار لانا چاہتے ہیں۔ رکن پنجاب اسمبلی رانا محمود الحسن کوشاں ہیں کہ ان کے بھائی کو یہ سہرا پہنایا جائے تو دوسری طرف ان کے سیاسی مخالف سابق صوبائی وزیر عبدالوحید ارائیں جدوجہد کر رہے ہیں کہ ان کے سیاسی حلیفوں میں سے کسی کو یہ عہدہ دیدیا جائے۔ تحریک انصاف کے ایم این اے ملک عامر ڈوگر بھی اپنے بھائی کیلئے سیاسی رابطوں میں مصروف ہیں اور ان کی سیاسی حمایت مخدوم شاہ محمود حسین قریشی بھی کر رہے ہیں۔ جو چاہتے ہیں کہ اگر ضلع کونسلیں بنیں تو کم از کم ملتان شہر کی بلدیاتی سیاست میں ان کا کوئی نہ کوئی وجود ہو۔ لیکن مخدوم جاوید ہاشمی نے اس بارے خاموشی اختیار کر لی ہے۔ بلکہ انہوں نے اپنے داماد کے مقابلے میں چند ووٹوں سے جیتنے والے لیاقت شاہ کو اپنے گھر آنے پر اپنے داماد سے صلح کروا کر اس کا مینڈیٹ تسلیم کر لیا ہے۔ اور دونوں کو ہدایت کی ہے کہ مل جل کر کام کریں جو ایک اچھی سیاسی روایت بن سکتی ہے۔ کیونکہ یہ دونوں حضرات عدالتوں سے رجو ع کرتے رہے اوریہی رویہ عدالتوں میں نہ جانے کا دوسرے حلقوں میں بھی دیکھنے میں آجائے تو عدالتوں پر نصب بوجھ کم ہو سکتا ہے۔

مزید : علاقائی


loading...