پابندیاں اٹھتے ہی ایران ایک دھماکے سے عالمی منڈی میں داخل ہو گا

پابندیاں اٹھتے ہی ایران ایک دھماکے سے عالمی منڈی میں داخل ہو گا

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری:

’’تاپی‘‘ گیس پائپ لائن منصوبے کے تعمیراتی کام کا سنگ بنیاد رکھے جانے کے بعد اب پاکستان کیلئے یہ سوال اہمیت اختیار کرگیا ہے کہ پاک ایران پائپ لائن کی تعمیر کا کام بھی جلد شروع کردیا جائے یا نہیں۔ تاپی منصوبے پر تعمیراتی کام تو 25 برس بعد شروع ہوا ہے، جبکہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کا سنگِ بنیاد ایرانی سرحد کے قریب آصف علی زرداری نے اپنی صدارت کے آخری ایام میں رکھا تھا، یہ وہ دور تھا جب ایران پر عالمی تجارتی و اقتصادی پابندیاں عائد تھیں اور یہ بات ایران کی قیادت اور آصف علی زرداری دونوں کے بخوبی علم میں تھی لیکن دونوں ملکوں نے نہ صرف منصوبے پر دستخط کئے بلکہ پاکستان کو ایک مقررہ مدت کے اندر اپنی حدود میں پائپ لائن تعمیر کرنے کا پابند بھی کیا، بصورت دیگر ایک بھاری رقم جرمانے کے طور پر عائد ہونا تھی۔

دونوں ملکوں کے درمیان پائپ لائن بچھانے کا معاہدہ تو ہوگیا، لیکن پاکستان کی حدود کے اندر اب تک تعمیراتی کام شروع نہیں ہوسکا جبکہ ایران پاکستان کی سرحد تک پائپ لائن کی تکمیل کرکے پاکستان کو اس کی اطلاع دے چکا ہے۔ پاکستان میں اس لیے کام شروع نہیں ہوسکا کہ اس سارے عرصے میں ایران پر پابندیاں تھیں اور یہ خدشہ تھا کہ اگر پاکستان نے کام شروع کیا تو وہ بھی پابندیوں کی زد میں نہ آ جائے۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ پاکستان نے پائپ لائن کی تعمیر کیلئے ایران سے قرض مانگا جس سے ایران نے معذرت کرلی۔ پابندیوں کی وجہ سے دنیا بھر کے بینک بھی اس پر سرمایہ کاری کیلئے آمادہ نہ تھے۔ ایرانی انکار کی وجہ یہ تھی کہ پابندیوں کی وجہ سے ایرانی تیل کے خریدار نہیں رہے تھے، صرف ایک بھارت تھا جس نے ایران کی اس مجبوری کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور ایران سے ادھار تیل کی خریداری جاری رکھی، بھارت نے اس طرح دہرا فائدہ اٹھایا ایک تو اپنی ضرورت کا 37 فیصد تیل ادھار حاصل کرلیا اور دوسرے ایران پر یہ ’’احسان‘‘ بھی چڑھا دیا کہ وہ اقتصادی پابندیوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ایرانی تیل خرید رہا ہے۔ ایران نے بھی بھارت کے اس ’’احسان‘‘ کو تسلیم کرلیا اور جواب میں دونوں ملک ایک دوسرے کے زیادہ قریب آگئے۔ اسی قربت کا فائدہ اٹھا کر بھارت نے ایک تیر سے دوسرا شکار یہ کیا کہ ایرانی بندرگاہ چاہ بہار کی توسیع کا اعلان کردیا۔ یہ بندرگاہ پاکستان کی گوادر بندرگاہ کی حریف ثابت ہوسکتی ہے۔ اگرچہ ہمارے ملک کے رہنماؤں کا خیال ہے کہ یہ حریف نہیں جڑواں بہنیں ثابت ہوں گی۔ ایران بھارت قریبی تعلقات کا ایک اور مظہر یہ بھی ہے کہ ایران کی گیس بھارت کو پہنچانے کیلئے ایک متبادل پائپ لائن بچھانے کا اعلان کیا گیا جو ایران سے عمان اور وہاں سے زیر سمندر بھارتی علاقے میں جائے گی۔ آپ کو یاد ہوگا بھارت پہلے ایران پاکستان پائپ لائن منصوبے میں شریک تھا اور اس پائپ لائن نے ایران سے پاکستان اور پھر بھارت جانا تھا، لیکن بھارت منصوبے کو بیچ منجدھار کے چھوڑ کر چلا گیا، پہلے لارا لپا لگاتا رہا پھر منصوبے سے علیحدہ ہوگیا۔ اب ایران اور پاکستان کی کامیابی تو یہ تھی کہ دونوں ملک جلد سے جلد پائپ لائن مکمل کرکے بھارت پر واضح کردیتے کہ اس کے مرغا بغل میں دبا کر چلے جانے کے باوجود اذانِ سحر ہو جائے گی اور صبح بھی طلوع ہوگی لیکن افسوس ایسا نہ ہوسکا۔ پچھلے دنوں ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا تھا کہ پائپ لائن کے پاکستانی حصے میں کام جلد شروع ہوگا اور ایرانی صدر حسن روحانی اس سے پہلے پاکستان کا دورہ کریں گے۔ اب چونکہ ایران پر عالمی پابندیاں ختم ہو رہی ہیں اور ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے نے اس امر کی توثیق کردی ہے کہ ’’ایران، امریکہ پلس فائیو‘‘ ڈیل کے تحت ایران نے اپنا ایٹمی پروگرام معاہدے کے مطابق کردیا ہے۔ اس لیے پابندیوں کا خاتمہ ہوتے ہی ایران کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ جائیں گے کیونکہ دنیا بھر کے بینکوں میں اس کے جو اربوں ڈالر پابندیوں کی وجہ سے منجمد پڑے تھے وہ اب اس کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہو جائیں گے اور یوں ایران ایک بگ بینگ کے ساتھ عالمی تجارتی منڈی میں داخل ہونے جا رہا ہے جہاں سے وہ کافی عرصے تک غائب رہا، ایرانی مصنوعات بڑی پائیدار اور عالمی قیمتوں کے مقابلے میں سستی ہیں ان کی ایکسپورٹ کا منصوبہ بھی ایران نے بنا لیا ہے۔ جہاں تک ایرانی تیل کا تعلق ہے وہ اس کی معیشت کی بنیاد ہے، عالمی پابندیوں اور تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے ایرانی معیشت پر جو جمود آیا ہوا تھا وہ اب ختم ہو جائے گا۔ ایرانی تیل کے نئے خریدار پیدا ہوں گے۔ پاکستان کو اپنی صنعتوں کیلئے گیس کی شدید ضرورت ہے، ٹیکسٹائل انڈسٹری اس سے متاثر ہو رہی ہے۔ ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل انڈسٹری بھی مشکل میں ہے جو ملک کیلئے آٹھ ارب روپے سالانہ کا زرمبادلہ کماتی ہے۔ ایکسپورٹ مارکیٹ داؤ پر لگی ہوئی ہے اور لاکھوں مزدوروں کی بیروزگاری کا خدشہ ہے، ایسے میں اگر ایران پاکستان گیس پائپ لائن کی تعمیر کا کام شروع کیا جائے تو یہ تاپی سے پہلے مکمل ہو جائے گی۔ تاپی گیس پائپ لائن سے گیس تو 2019ء کے اوائل میں ملے گی (اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق ہوتا رہا) لیکن ایران سے گیس جلد مل سکتی ہے۔ اب ایران پر پابندیوں کے خاتمے کے بعد بظاہر اس میں کوئی رکاوٹ بھی نہیں اس لیے امید کی جاسکتی ہے کہ اس منصوبے پر بھی کام جلد شروع ہو جائے گا۔ گیس پاکستان کی صنعتوں کیلئے ہی نہیں گھریلو ضرورت بھی ہے اور اس موسم سرما میں گھروں کے چولہے بھی ٹھنڈے ہونے کے خدشات ہیں، سی این جی گاڑیاں بھی پٹرول پر واپس آگئی ہیں اور اس شعبے میں کی جانے والی اربوں کی سرمایہ کاری بھی رائیگاں جا رہی ہے۔ گھریلو ایندھن کیلئے گیس اس لیے بھی ضروری ہے کہ بصورت دیگر درختوں کی کٹائی ہوگی جو بطور ایندھن استعمال ہوں گے۔ اگرچہ تحریک انصاف کے سربراہ نے اعلان کیا ہے کہ کے پی کے میں ایک ارب سے زیادہ درخت لگائے جائیں گے، جن میں سے ایک کروڑ لگا بھی دیئے گئے ہیں جو وزیر اطلاعات پرویز رشید کے بقول کہیں نظر نہیں آتے، لیکن یہ ایک طویل المیعاد منصوبہ ہے۔ ایک درخت بیس سال بعد لکڑی دینے کے قابل ہوتا ہے، اس دوران اس کے متبادل درخت بھی تیار ہونے چاہئیں، لیکن ایرانی گیس تو سال ڈیڑھ سال میں پاکستان پہنچ سکتی ہے کیوں نہ اس پر سرمایہ کاری کردی جائے؟

مزید : تجزیہ


loading...