رنج وغم کےا حساس ،خوف و دہشت کے سائے میں آرمی پبلک سکول کے ننے شہدائ کی پہلی برسی آج منائی جا رہی ہے

رنج وغم کےا حساس ،خوف و دہشت کے سائے میں آرمی پبلک سکول کے ننے شہدائ کی پہلی ...

آرمی پبلک سکول کے دلخراش سانحہ کو آج ایک برس مکمل ہورہا ہے آرمی پبلک سکول کے ننھے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے اور لواحقین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے آج ملک کی عسکری وسیاسی قیادت پشاور آئے گی۔ اس المناک سانحہ کی یاد تازہ رکھنے کے لئے خیبر پختونخوا میں مختلف تقاریب منعقد کی جا رہی ہیں مرکزی تقریب اے پی ایس ہی میں ہو گی جس میں وزیراعظم نواز شریف ،آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان سمیت دیگر اہم قومی شخصیات شرکت کریں گی۔ پشاور میں برسی سے ایک روز قبل ہی فضاء ایک مرتبہ پھر سوگوار ہوگئی سٹرکوں اور بازاروں کی چہل پہل میں نمایاں کمی رہی شہداء کی پہلی برسی کے موقع پر دہشت گردی کے ایک اور سنگین واقع کا شدید خدشہ پایا جاتا تھا، جس کے پیش نظر پولیس اورسول انتظامیہ اور خفیہ ادارے نہ صرف پوری طرح چوکس رہے، بلکہ سیکیورٹی انتظامات کے حوالے سے خاصے پریشان بھی دکھائی دیئے برسی کا دن قریب ترآنے کے ساتھ ساتھ شہر کے باسیوں میں خوف اور دہشت بھی محسوس کی جانے لگی یوں رنج الم اور خوف دہشت کے سائے میں آج ننھے شہداء کی برسی کادن آگیا پشاور سمیت صوبے کے طول عرض میں سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کے باعث (تادم تحریر)کوئی بڑا واقعہ رونما نہ ہو سکا ،جس کے بعد دہشت گردوں نے فاٹا کا رُخ کیا اور کر م ایجنسی کے صدر مقام پارا چنار میں ایک ہولناک بم دھماکہ کر کے 30 معصوم شہریوں کو شہید اور 60 کے لگ بھگ لوگوں کوشدید زخمی کیازخمیوں میں بیشتر کی حالت اس قدر تشویشناک ہے کہ جاں بحق افراد کی تعداد میں اضافہ یقینی نظر آتا ہے یہ دھماکہ طوری قبیلے کے بازار یا عید گاہ کے قریب کیا گیا جو کہ ایک مخصوص مسلک سے تعلق رکھنے والوں کا علاقہ ہے اور مذکورہ مسلک کے لوگ طویل عرصہ سے دہشت گردی کا شکار ہوتے چلے آرہے ہیں، مگر آج تک کو ئی بھی حکومت اور کوئی بھی سیاسی و مذہبی پارٹی دہشت گردی کے اس غیر شرعی پہلو کو ختم کرنے کے لئے کوئی سنجیدہ اقدام نہ کرسکی ہر سنگین واقع کے بعد محض رسمی بیانات پرہی اکتفا کیا جاتا ہے حسب روایت پارا چنار کے حالیہ متاثرین اور غمزدہ خاندانوں کے ساتھ بھی اس طرح کے رسمی بیانات اور بعض رسمی اقدامات سے بڑھ کر کچھ خاص نہیں کیا جا سکا بندوبستی علاقوں میں ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کا ناسور ایک بار پھر سر اٹھانے لگا گزشتہ ہفتے ایک ڈی ایس پی سمیت کئی پولیس اہلکاروں کو ٹارگٹ کلنگ کانشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، جبکہ بھتہ خوروں کی طرف سے اپنے اہداف کے گھروں کے سامنے بم دھماکوں کے واقعات میں بھی اضافہ دیکھنے میںآیا اس تمام سنگین صورت حال کے باوجود دہشت گردوں کے خلاف ٹارگٹیڈ اپریشن کی بجائے روایتی کارروائیاں کی جا رہی ہیں جن کا دہشت گردوں کی صحت پر کوئی بڑاا اثر نہیں پڑتا پولیس اپنے مختلف آپریشنز میں شناختی کارڈ نہ رکھنے والے افراد سمیت نئے کرایہ داروں اور غیر مقامی افراد کو پکڑ پکڑ کر میڈیا کے ذریعے عوام کو طفل تسلی دیتی ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں ہو رہی ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ سانحہ اے پی ایس کی پہلی برسی کے موقع پر پشاور میں مشتبہ افراد کی نقل وحرکت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس سے شہری خوف محسوس کررہے ہیں اورکسی بھی وقت (خدانخواستہ) کسی بڑے حادثے کاخدشہ محسوس کر رہے ہیں۔ بہر حال تحریک انصاف کے قائد عمران خان ان تمام باتوں سے بے نیاز اپنی تقاریر اور پریس کانفرنسوں میں خیبر پختونخوا کی امن وامان سے متعلق سب اچھا کی نوید سنانے میں مصروف ہیں عمران خان سندھ میں فوجی آپریشن کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے رینجر کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہیں، مگر خیبر پختونخوا میں فوجی اپریشن سے متعلق کسی سوال کا کوئی معقول جواب دینے سے قاصر رہتے ہیں۔

گزشتہ دنوں پشاور اور پورن میں تقریب اور جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ تحریک انصاف نے ملک سے دوپارٹی نظام کا خاتمہ کردیا ہماری حکومت میٹروبس کی بجائے انسانوں پر پیسہ خرچ کررہی جو صوبائی وزیر کام نہیں کرسکتا وہ وزارت چھوڑ دے، ہم 2018ء تک خیبرپختونخوا میں ایک ا رب درخت لگائیں گے وغیرہ وغیرہ دلچسپ بات یہ ہے کہ عمران خان سمیت تحریک انصاف کے خردوکلان میٹروبس کی مخالفت کرتے نہیں، تھکتے مگر اس کے برعکس دوسری طرف جب تحریک انصاف کے کارکنوں سمیت خیبرپختونخوا کے لوگ لاہور جاتے ہیں تو وہ کم سے کم ایک مرتبہ میٹروبس کا مزہ ضرور لیتے ہیں اور اس کے بعد واپس آکر وہ میٹروبس کے بہترین میعار اور کم کرائے کی تعریفیں کرنے لگ پڑتے ہیں۔

مزید : علاقائی


loading...