پاکستان کی ثقافتی پالیسی موجودہے،پرویز رشید کا دعویٰ غلط ہے،فخر زمان

پاکستان کی ثقافتی پالیسی موجودہے،پرویز رشید کا دعویٰ غلط ہے،فخر زمان

لاہور(پ ر)نیشنل کمیشن برائے تاریخ و ثقافت اور اکیڈیمی آف لیٹرزکے سابق چیئرمین فخرزمان نے کہا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات و قومی ورثہ پرویز رشید کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ پاکستان کی کوئی ثقافتی پالیسی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے دور میں جب وہ ان اداروں کے سربراہ تھے تو انہوں نے پاکستان کی پہلی ثقافتی پالیسی مرتب کی تھی جو بعد کی حکومتوں سے اب تک موجود ہے۔ فخر زمان نے کہا کہ ایک اعلیٰ سطح کے کمیشن نے جس میں خواجہ مسعود،ڈاکٹر محمد علی صدیقی،حمید اختر،احمد بشیر ، حیات احمد خاں،عبداللہ ملک،انور علی،آئی اے ر حمن،سو ھو گیان چندانی،ابراہیم جویو،ڈاکٹر فہمیدہ حسین،فہمیدہ ریاض،احمد سلیم، وفاقی سیکرٹری کلچراورچاروں صوبوں کے سیکرٹری کلچرز کی سربراہی میں اکیڈیمی آف لیٹرز کے سیکرٹریٹ میں متعلقہ اجلاس کے بعد ڈرافٹ ترتیب دیا تھا جو بعد میں فخر زمان نے بطور منسٹر کلچرل افیئرز کابینہ میں پیش کیا تھا اور -31اگست 1995ء کو پہلی ثقافتی پالیسی عمل میں آگئی۔انہوں نے کہا کہ اس میں نیشنل آرٹ گیلری،فلم سٹی،نیشنل ڈرامہ انسٹی ٹیوٹ، اکیڈیمی آف پر فارمنگ آرٹ کے قیام پرزور دیا گیا اور مقتدر قومی زبان نیشنل کونسل آف آرٹس کو تمام زبانوں اور تمام کلچر کے مظاہرکا ادارہ بنانے پر زور دیا تھا۔فخرزمان نے کہا کہ یہ ثقافتی پالیسی انہوں نے یونیسکو کے پیرس اجلاس میں پیش کیں اوربعد میں کئی ممالک نے اس کے مطابق ثقافتی پالیسیاں مرتب کیں۔فخرزمان نے کہا کہ فیض احمد فیض جب وہ بھٹو دور میں وزارت ثقافت اور تعلیم کے مشیر تھے ثقافتی پالیسی بنانا چاہتے تھے لیکن حفیظ پیرزادہ سے اختلافات کی بناء پر مستعفی ہوگئے ۔

مزید : میٹروپولیٹن 4


loading...