پاک بھارت مذاکرات ایک اور حملے کی صورت میں ڈی ریل نہیں ہوں گے ، پاکستانی ہائی کمشنر

پاک بھارت مذاکرات ایک اور حملے کی صورت میں ڈی ریل نہیں ہوں گے ، پاکستانی ہائی ...

نئی دہلی (آن لائن)بھارت میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر عبد الباسط نے کہا ہے کہ نئی دہلی کی جانب سے داؤد ابراہیم کے حوالے سے کسی قسم کی دستاویزات کا تبادلہ نہیں کیا گیا جبکہ بھارت خود بھی اس بات کااعتراف کرتا ہے کہ وہ انڈرورلڈ مافیا داؤد ابراہیم کی موجودگی کے حوالے سے کچھ نہیں جانتا ،پاک بھارت مذاکرات ایک اور حملے کی صورت میں ڈی ریل نہیں ہوں گے۔یہ بات انہوں نے بھارتی اخبار انڈیا ٹو ڈے سے بات چیت کرتے ہوئے کہی ۔پاکستانی ہائی کمشنر کا کہنا تھاکہ بھارت نے خود اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وہ یہ نہیں جانتاکہ داؤد ابراہیم کہاں پر موجود ہے ان کا کہنا تھا کہ انڈر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم سے متعلق پاکستان کے ساتھ دستاویزات کا تبادلہ نہیں کیا گیا ہے،پاکستانی ہائی کمشنر نے واضح کیا ہے کہ امن مذاکرات سے متعلق پاکستان کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور وزیر اعظم پاکستان نواز شریف بھی ہمیشہ بھارت کے ساتھ مذاکرات کی اہمیت اور ضرورت کو واضح کرتے رہے ہیں ان سے جب پوچھا گیا کہ کیا ممکنہ دہشت گردانہ حملے کی صورت میں بھی دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات عمل جاری رہ سکتا ہے اس کے جواب میں پاکستانی ہائی کمشنر نے کہا کہ ان کے مطابق دونوں فریقین اس بات پر متفق ہیں کہ اس مرتبہ طاقت کے زور پر مذاکرات کے عمل کو سبوتاژ نہیں ہونے دیا جائیگا ،پاکستانی ہائی کمشنر نے حریت رہنما کے ساتھ ملاقات کے حوالے سے کہا کہ اس ملاقات میں مسئلہ کشمیر سمیت دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ،ان کا کہنا تھا کہ امن مذاکرات سے متعلق پاکستان کا موقف دیرینہ ہے اور اب بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کے دورہ پاکستان کے بعد امن مذاکرات میں بھارتی موقف میں مثبت تبدیلی آئی ہے ،عبد الباسط کا کہنا تھا کہ بھارت کواس بات کااندازا ہوگیا ہے کہ تعلقات کی بہتری کا واحد راستہ بات چیت ہی ہے جبکہ بھارت نے یقین دلایا ہے کہ دہشت گردانہ حملوں کی صورت میں نہ تعلقات متاثر ہوں گے اور نہ ہی مذاکرات ختم ہوں گے ،انہوں نے کہا کہ حریت رہنماؤں سے ملاقاتوں کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا ،انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کی نمائندگی کررہا ہے اور ہماری اس پالیسی میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

مزید : پشاورصفحہ اول


loading...