ملک میں بین الاقوامی معیار کا نصاب مرتب کر کے رائج کیا جائے، زہرہ رشید

ملک میں بین الاقوامی معیار کا نصاب مرتب کر کے رائج کیا جائے، زہرہ رشید

راولپنڈی(نیوز رپورٹر) معروف ماہر تعلیم پاکستان نژاد برطانوی خاتون زہرہ رشید نے کہا ہے کہ نصاب تعلیم کو تبدیل کرکے بین الاقوامی معیار کا نصاب مرتب کر کے رائج کیا جائے،پاکستان میں پڑھایا جانیوال موجودہ تعلیمی نصاب بین الاقوامی ضروریات کو پورا نہیں کر سکتا ہمارے ملک میں ڈاکٹرز، انجنیئرز اور وکلاء صرف ڈگری کی خاطر تعلیم حاصل کرتے ہیں تعلیم انسان کو شعور سکھاتی ہے،اِن خیالات کا اظہار اُنہوں نے روزنامہ پاکستان کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا،زہرہ رشید نے کہا ہے کہ برطانیہ میں کام کرنیوالے پاکستانی محب وطن ہیں اور پاکستان سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں لیکن بدقسمتی سے برطانیہ میں رہنے والے پاکستانیوں کو اپنے ملک کے اندر وہ سہولتیں میسر نہیں جو کہ ہونی چاہیں،اُنہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کے تعلیمی اداروں میں کمرشل ازم بہت زیادہ ہے جو کہ معاشرے کیلئے انتہائی نقصان دہ ہے تعلیم کے نام پر تجارت نہیں ہونے چاہیے،سستی اور معیاری تعلیم فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اگر حکومت سرپرستی کرے تو پسماندہ علاقوں میں تعلیمی ادارے قائم کرنیکی خواہش ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان کے اندر ایسا ماحول پیدا ہوا ہے کہ جس ادارے کو بھی دیکھیں اسمیں پہلے کمرشل ازم نظرآتا ہے،راولپنڈی کے تعلیمی اداروں میں جانے کا اتفاق ہوا ہے لیکن کسی جگہ بھی مجھے تعلیمی ماحول نظر نہیں آیا اور سرکاری اداروں میں پڑھانے والے اساتذہ پرائیویٹ اداروں میں پڑھانے کو ترجیح دیتے ہیں وہی اساتذہ اگر محنت و لگن اور حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہو کر سرکاری تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے بچوں پر توجہ دیں تو وہی بچے بورڈ اور یونیورسٹیز میں نمایاں پوزیشنیں حاصل کر سکتے ہیں،اُنہوں نے کہا ہے کہ حکومت اربوں روپے کی بلڈنگ تو تیار کر کے دے دیتی ہے لیکن بلڈنگ کے اندر ایسا ماحول بھی نہیں ہوتا کہ کوئی بچہ یا بچی تعلیم حاصل کر سکے،اُنہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ سرکاری ملازمت کرنیوالے اساتذہ کو پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں پڑھانے پر پابندی لگانی چاہیے تاکہ وہ اچھے طریقے سے بچوں پر توجہ دے سکیں اُنہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے کے اندر ایک لفظ ہے ’’چل جائے گا‘‘ اسی لفظ کو حکمرانوں سے لیکر عام عوام چل جانے پر ہی ترجیح دیتی ہے جبکہ ایسا نہیں ہونا چاہیے ہمیں پلاننگ،دانشمندی اور عوام کے مفاد کو سامنے رکھ کر ہر شعبہ ہائے زندگی میں کام کرنا چاہیے،اُنہوں نے کہا کہ میں نے راولپنڈی کے انتہائی پسماندہ علاقے مظہرآباد میں تعلیمی ادارہ قائم کیا ہے جس میں تعلیم حاصل کرنیوالے طلباء و طالبات کو یونیفارم،کتابیں بھی فری فراہم کی جاتی ہیں اور کسی قسم کی کوئی فیس نہیں لی جاتی میں ایسے ادارے راولپنڈی کے دیگر علاقوں میں بھی قائم کرنے کی خواہشمند ہوں لیکن حکومت اور محکمہ تعلیم کے حکام تعاون نہیں کرتے جس کے باعث مشکلات پیش آرہی ہیں،اُنہوں نے کہا کہ حکومت،میڈیا کو تعلیمی پسماندگی دور کرنے کیلئے اپنا اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...