سقوط ڈھاکہ اور پشاورسانحہ ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں، دردانہ صدیقی

سقوط ڈھاکہ اور پشاورسانحہ ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں، دردانہ صدیقی

کراچی (اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی پاکستان حلقہ خواتین کی مرکزی سیکرٹری جنرل دردانہ صدیقی نے کہا ہے کہ ہر سال 16دسمبر کا سورج ہمیں ندامت اور پچھتاوے کا احساس دلاتے ہوئے طلوع ہوتا ہے اور تاریخ سے سبق لینے کی تلقین کرتا ہوا غروب ہوجاتا ہے، یوم سقوط ڈھاکہ تاریخ کا وہ رستہ ہوا زخم ہے جو شاید کبھی نہ بھر پائے۔ سانحہ آرمی پبلک اسکول بھی ہماری ملکی تاریخ کا سیاہ باب ہے، جو قومیں تاریخ سے سبق نہیں سیکھتیں، ان کا نام و نشان صفحہ ہستی سے مٹ جاتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے 16 دسمبر یوم سقوط مشرقی پاکستان کے موقع پر اپنے جاری کردہ ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ اپنوں کے ستم اور کچھ غیروں کی سازشوں نے اسلام کے نام پر قائم ہونے والی مملکت خداد ادکو دولخت کردیا تھا‘ آج بھی بنگلہ دیش میں اسلام پسندوں پر عرصہ حیات تنگ کیا ہوا ہے، وطن عزیز کوٹوٹنے سے بچانے والوں کو پھانسی کے پھندوں پر لٹکایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سقوط ڈھاکہ کے بعد بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کا یہ بیان کہ ’’ہم نے آج مسلمانوں سے اپنی ہزار سالہ غلامی کا بدلہ لے کر نظریہ پاکستان کو خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے‘‘ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ہندوستان نے کبھی پاکستان کو تسلیم نہیں کیا، بلکہ ہمیشہ سے نقصان پہنچانے کی کوششوں میں لگارہتا ہے‘ سانحہ آرمی پبلک اسکول کے پیچھے بھی بھارتی ہاتھ بعید از قیاس نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ آرمی پبلک اسکول میں شہید ہونے والے بچے پوری قوم کے بچے تھے اور ان کا دکھ پوری قوم کا دکھ ہے، اسلام کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں‘ جو لوگ پاکستان میں تخریب کارانہ کاروائیاں کرتے ہیں وہ درحقیقت دشمن کے آلہ کار کا کردار ادا کررہے ہیں۔ دردانہ صدیقی نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم تاریخ سے سبق حاصل کریں اوربحیثیت قوم و ریاست ان رویوں کو ترک کریں جو ہمیں قومی سطح پر ناقابل تلافی نقصان پہنچاتے ہیں۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...