سارک آسیان اور آئی سی ممالک پر مشتمل علاقائی پارلیمان تشکیل دی جائے،سردار ایاز صادق

سارک آسیان اور آئی سی ممالک پر مشتمل علاقائی پارلیمان تشکیل دی جائے،سردار ...

اسلا م آباد(نمائندہ خصوصی)سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے سارک، آسیان اور او آئی سیممالک پر مشتمل علاقائی پارلیمان کی تشکیل کی تجویز دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی تعاون کو فروغ دینے اور مسائل کو حل کرنے کے لئے علاقائی پارلیمان ایک متحرک فورم ثابت ہو سکتا ہے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار ویسٹ منسٹر فاؤنڈیشن فار ڈیماکریسی کے وفد سے گفتگو کے دوران کیا جو ریجنل ڈائریکٹر مس ڈینا میلہم کی قیادت میںآج ان سے ملاقات کے لئے پارلیمنٹ ہاؤس میں آیا تھا۔سردار ایاز صادق نے کہا کہ پارلیمنٹ قومی و صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ کے افسران و عملے کی استعداد کار کو بڑھانے کے لئے پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پارلیمنٹری سروسز میں تربیتی ورکشاپ کا باقاعدگی سے انعقاد کرواتی ہے۔انہوں نے قومی اسمبلی اور ہاؤس آف کامنز کے درمیان رابطے بڑھانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں قانون ساز ادارے ایک دوسرے کے تجربات سے مستفید ہوسکتے ہیں تاہم یہ روابط کسی مقامی یا بین الاقوامی این جی او کو شامل کئے بغیر قائم ہونے چاہیے۔انہوں نے بتایا کہ پارلیمنٹ ہاؤس کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جارہا ہے جس کے ذریعے 1میگاواٹ بجلی کی پیداوار ہوگی۔ انہوں نے ای۔پارلیمنٹ منصوبے سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس منصوبے کے ذریعے کاغذ اور دیگر اخراجات کی بچت ممکن ہوسکے گی۔انہوں نے وفد کو لیجسلیٹو ڈرافٹنگ کونسل کی تشکیل سے بھی آگاہ کیا۔اس موقع پر سپیکر قومی اسمبلی نے قومی اسمبلی میں خواتین پارلیمان پر مشتمل وومن پارلیمانی کاکس کی افادیت سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد خواتین کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے پارلیمان میں قانون سازی میں معاونت فراہم کرنا ہے۔انہوں نے پاکستانی نژاد برطانوی اراکین پارلیمان کو دور ہ پاکستان کی دعوت بھی دی۔ مس ڈینا میلہم نے پاکستان کی پارلیمان کی جانب سے ملک میں جمہوریت اور منتخب اداروں کی بالادستی کے لئے کی جانے والی کاوشوں کو سراہا۔انہوں نے وومن پارلیمانی کاکس کو ایک سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ اور پاکستان باہمی تعاون کے ذریعے پارلیمانی اور قانون سازی کے معاملات میں ایک دوسرے سے سیکھ سکتے ہیں جس کے لئے ویسٹ منسٹر فاؤنڈیشن فار ڈیماکریسی (WFD) اپنی خدمات پیش کر سکتا ہے۔دریں اثناء سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ آرمی پبلک سکول حملے میں شہید ہونے والے بچوں نے اپنے لہو سے ایک پر امن پاکستان کا پیغام دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ16دسمبر کا دن اس اندوہناک واقعے کی یاد دلاتا ہے جب معصوم بچوں کو درندہ صفت لوگوں نے بہیمانہ طریقے سے شہید کر دیا تھا جس سے پوری قوم سوگ اورصدمے کی کیفیت میں چلی گئی تھی۔ انہوں نے یہ بات سانحہ اے پی ایس کے ایک سال مکمل ہونے پر قوم کے نام اپنے خصوصی پیغام میں کہی۔سردار ایاز صادق نے کہا کہ 132بچوں اور اساتذہ کوانسانیت کے دشمنوں نے جس طرح شہید کیا اس سے پوری دنیا ہل کر رہ گئی۔ اس موقع پر انہوں نے سوگوار خاندانوں سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ دکھ و تکلیف کی اس گھڑی میں وہ اکیلے نہیں ہیں اور پوری قوم ان کے درد میں شریک ہے۔انہوں نے کہا اس سانحے کو قومی سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمدردی کے چند بول غم زدہ خاندانوں کے دکھ کو کسی طور بھی کم نہیں کر سکتے۔انہوں نے آرمی پبلک سکول کے طلبا، ان کے والدین اور اساتذہ کی جرائت اور بہادری کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم کو ان کی ہمت اور حوصلہ پر فخر ہے جنہوں نے دہشت گردوں کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر ان کا مقابلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ میں ایسی مثالیں بہت کم ہیں۔ انہوں نے کہا یہ ان کی بہادری اور جواں مردی ہے جس سے پوری قوم میں دہشتگردوں کے خلاف پوری قوت سے مقابلہ کرنے کا حوصلہ پیدا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ پارلیمان کی جانب سے قومی ایکشن پلان اور فوجی آپریشن کی وجہ سے آج دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ گئی ہے اور قوم بہت جلد اس ناسور سے چھٹکارا حاصل کر لے گی۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ہمارے بچوں کے ہاتھ میں قلم ہے جس سے دہشت گرد خوفزدہ ہیں۔سردار ایاز صادق نے کہا کہ ہم شہید بچوں کی روحوں سے وعدہ کرتے ہیں کہ ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،کہ اس ملک میں ان کے جیسے دوسرے بچے تعلیم مکمل کر کے ان کے خواب کو شرمندہ تعبیر ضرور بنائیں گے اور اس حملے میں ملوث انسانیت کے قاتلوں کو ہر صورت انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔ انہوں نے اس عز م کا اعادہ کیا کہ پاکستانی قوم نفرت ، تشدد اور انتہا پسندی کی اس ذہنیت کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھے گی۔

مزید : راولپنڈی صفحہ اول


loading...