مشرقی پاکستان کو اپنوں اور دشمنوں کی سازشوں نے بنگلہ دیش بنایا

مشرقی پاکستان کو اپنوں اور دشمنوں کی سازشوں نے بنگلہ دیش بنایا

 ملتان (سٹی رپورٹر،سٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی ملتان کے زیر اہتمام سیمینار سقوط ڈھاکہ، سانحہ پشاور اور ہماری قومی ذمہ داریاں سے بزرگ سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سقوط ڈھاکہ سے سبق سیکھتے ہوئے پاکستان کی تعمیر نو کا فیصلہ کرناچاہئے۔ جماعت اسلامی کی تنظیمیں التمش اور البدر کے نوجوانوں نے پاکستان کی سلامتی ، دفاع اور خود مختاری کیلئے افواج پاکستان کے شانہ بشانہ ، قربانیوں کی لازوال تاریخ رقم کی ہے اور آج بھی پاکستان اور اسلام سے محبت کرنے کے جرم میں پروفیسر غلام اعظم، مطیع الرحمن نظامی سمیت جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے قائدین اور کارکنان کو تختہ دار پر لٹکا یا جارہا ہے حکومت پاکستان کو اس مسئلہ کو عالمی سطح پر اٹھا نا چاہئے۔ سانحہ آرمی پبلک سکول کے معصوم اور پھولوں جیسے بچوں کی قربانی نے پوری قوم کودہشت گردی کیخلاف متحد کردیا اور دہشت گردی کیخلاف جنگ میں افواج پاکستان کی پشت پر ہے ۔ بچوں کا لہو ملک میں امن و سکون کا ذریعہ بنے گا ۔انہوں نے کہا کہ مشرقی پاکستان کو اپنوں اور دشمنوں کی سازشوں نے بنگلہ دیش بنایا ۔ موجودہ پاکستان میں علیحدگی کی باتیں کرنے والوں کو منہ کی کھانی پڑی پاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ بنانا ہوگا اسی میں ہماری بقا اور سلامتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یکجہتی کا مظاہرہ کیا گیا تو پاکستان کا دنیا خصوصاََ خطے میں اہم رول ہوگا۔ بھارت کے متعصبانہ رویئے خطے کے ممالک پر غاصبانہ قبضے کی سوچ کی وجہ سے اُس کا رول ختم ہوتا جا رہاہے وہ وقت بہت قریب ہے جب انڈیا ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا کشمیر سمیت دیگر ریاستیں آزاد ہونگی ۔ پاکستان نے عالم اسلام کی قیادت کرنی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بھٹو نے ایٹم بم کا سوچا ، جنرل ضیاء الحق نے اس کو بنایا اور میاں نواز شریف نے اس کو چلا یا۔ انہو ں نے کہا کہ دنیا جانتی ہے کہ اگر پاکستان کامیاب ہوا تو پھر اسلام کامیاب ہوگاکیونکہ اسلام اور پاکستان لازم وملزوم ہیں۔ اسی لئے ہمارے خلاف امریکہ و بھارت سمیت عالمی طاقتیں سازشوں میں مصروف ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کیلئے قربانیاں دینے والے نوجوانوں کو اپنے دفاع کیلئے ہتھیار تک نہیں دیئے گئے اور ان کو انڈیا اور مکتی بانہی کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا۔44سال بعد حسنہ واجد کی حکومت انڈیا کے کہنے پر اُنہیں نوجوانوں کو پھانسیاں دے رہی ہے اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن ملتان بنچ کے صدر سید محمد علی گیلانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سقوط ڈھاکہ مسلمانوں کی تاریخ کا تیسرا بڑا سانحہ تھا پہلا سقوط بغداد دوسرا سقوط غر ناطہ تھا مگر مسلمانوں نے ان سانحات سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔ قومیں سانحات سے سبق حاصل کرتی ہیں ۔ جنگ عظیم میں جرمن ، جاپان ، اٹلی سمیت دیگر شکست خوردہ ممالک نے اپنی شکست کے اسباب کا جائزہ لے کر نئے عزم و حوصلہ سے اپنے سفر کا آغاز کیا آج وہ ممالک اور قومیں دنیا کو لیڈ کررہی ہیں جبکہ جو اُس وقت فاتح تھے آج روس ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا امریکہ تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے جلد وہ بھی دنیا کے نقشے سے مٹ جا ئے گا۔جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جس کے قائدین و کارکنان نے پاکستان کی سلامتی کیلئے قربانیاں دیں۔ پروفیسر منیر ابن رزمی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھٹو نے ایک شاطرانہ چال چلتے ہوئے اسلامی ممالک کے سربراہوں کی کانفرنس بلا کر بنگلہ دیش کو تسلیم کیاورنہ اُس بنگلہ دیش نہ منظور تحریک کے باعث بنگلہ دیش کو منظور کرنا ناممکن تھا۔ میاں آصف اخوانی نے کہا کہ عقائد ونظریات کی بنیاد پر ہی قومیں زندہ رہ سکتی ہیں پاکستان جس نظریئے اور عقیدے پر بنا اُسی پر قائم رہ سکتا ہے اور قوم کو متحد رکھ سکتا ہے۔ سیمینار سے ڈاکٹر اورنگزیب شہزاد نے بھی خطاب کیا جبکہ خواجہ عبیدالرحمن، عظیم الحق پیرزادہ، رفیع رضا ایڈووکیٹ، کنور محمد صدیق سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ ڈاکٹر حفیظ انور نے شہداء سقط ڈھاکہ و سانحہ آرمی پبلک سکول کے بچوں کیلئے دعا کروائی۔ دریں ا ثنا ء سنیئر سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ کراچی میں امن برقرار رکھنے کے لیے رینجرز کے اختیارات میں توسیع کرنا ہوگی ۔حکومت کو چاہیے کہ دہشت گردوں کے خاتمہ کے کے لیے الگ ادارہ بنائے۔عمران خان نے تحریک انصاف کا گراف خود گرایا ہے جب تک کرپٹ ٹولہ پارٹی سے نہیں نکلتا اس وقت تک پارٹی کا گراف بلند نہیں ہوسکتا ۔میں آج بھی عمران خان کی قدر کرتا ہوں۔سانحہ پشاور ظلم و بر بریت کا ناقابل فراموش واقعہ ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ہم شہداء اور پاک فوج کی قربانیوں کو رائیگاں نہ جانے دیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی رہائش گاہ پر لیگی عہدیداروں اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ قبل ازیں مسلم لیگ(ن) ملتان کے سنیئر نائب صدر شاہد مختیار لودھی ، سٹی صدر رانا شاہد الحسن اور حمزہ شاہد لودھی ودیگر نے مخدوم جاوید ہاشمی سے انکی رہاشگاہ پر ملاقات کی۔ مخدوم جاوید ہاشمی نے مزید کہا کہ ملک کسی انتشار کا متھمل نہیں ہے ۔ملکی سالمیت کی خاطر اتحاد اور سیاسی فہم و فراست کی ضرورت ہے ۔ تخریب کاری کے خاتمہ کے لیے اداروں اور قوم کا اتحاد خوش آئند ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملکی سالمیت ، استحکام ، معاشی ترقی کے لیے قومی سوچ و فکر کی ضرورت ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی کسی سیاسی جماعت میں جانے کا ارادہ نہیں کیا تاہم جلد ہی فیصلہ کر کے اعلان کرونگا۔

جاوید ہاشمی

مزید : راولپنڈی صفحہ اول


loading...