سانحہ پشاور ، وہ تبدیلی نہیں دیکھی جس کی ضرورت تھی،دہشتگردی میں کمی ضرورآئی ،پہلے میڈیاہاﺅسز میں جمعہ بھی شفٹوں میں ہوتاتھا: نوشادعلی

سانحہ پشاور ، وہ تبدیلی نہیں دیکھی جس کی ضرورت تھی،دہشتگردی میں کمی ضرورآئی ...
سانحہ پشاور ، وہ تبدیلی نہیں دیکھی جس کی ضرورت تھی،دہشتگردی میں کمی ضرورآئی ،پہلے میڈیاہاﺅسز میں جمعہ بھی شفٹوں میں ہوتاتھا: نوشادعلی

  


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سانحہ آرمی پبلک سکول کو ایک سال مکمل ہونے پر ملک بھر تقریبات جاری ہیں اور اے پی ایس میں ہونیوالی مرکزی تقریب میں آرمی چیف ، وزیراعظم نوازشریف اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے شرکت کی ، سینئر صحافی و تجزیہ نگار نوشادعلی نے کہاکہ سانحے کو ایک سال گزر جانے کے باوجود وہ تبدیلی نہیں دیکھی گئی جس کی ضرورت تھی ،ملک سنبھالنا صرف فورسز کا کام نہیں ، کیا عام شہری یا سول سرونٹ بھی اپنا کام اسی طرح کررہاہے؟دہشتگردی میں واضح کمی ہوئی لیکن سویلین اداروں کی کارکردگی آج بھی اطمینان بخش نہیں ، استاد اور صحافی کو بھی جہاد کرناہے ، اس کیلئے ضروری نہیں کہ بندوق اٹھائیں ، قلم سے جہاد کریں،حملے کے بعد ابتدائی دنوں میں سب یکجاہوئے لیکن شاید بعد میں اپنے مقاصد بھول گئے ، قوم جب فیصلہ کرتی ہے تو ہوسکتاہے کہ دیر ہوجائے لیکن اتنی دیر نہیں ہوئی کہ مایوس ہوجائیں ، پوری قوم دنیا بھر میں متحدہوئی کیونکہ ماضی قریبی میں ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا، اسے بیشتر لوگ انسانیت سوز کہتے ہیں لیکن وہ انسانیت کش کہتے ہیں ، اس حملے سے پہلے میڈیاہاﺅسز میں نماز جمعہ کے موقع پر بھی سٹاف چاہیے ہوتاتھا، کسی نہ کسی جگہ دہشتگردی ہوجاتی تھی ، کسی کو فرض کی ادائیگی سے بھی نہیں روکاجاسکتا لیکن دفاتر بھی چلانے ہیں تو دفتر حاضری یقینی بنانے کی وجہ سے سٹاف تین ، تین شفٹوں میں نماز پڑھنے جاتاتھا ، جیسے کہ سٹوڈیو میں بیٹھے لوگ  نہیں اٹھ سکتے ، ہمیں بھی اپنے فرائض منصبی اداکرنے ہیں ۔

اے پی ایس شہداءکی پہلی برسی کے موقع پر کیپٹل ٹی وی کے پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے ڈائریکٹرنیوز و تجزیہ نگار نوشادعلی کاکہناتھاکہ سانحہ اے پی ایس ایک ایسا واقعہ تھا جو ہر مذہب ، قومیت کے لوگوں کو دکھی کرگیاکہ اتنی بربریت بھی ہوتی ہے ؟ ایک سال بعد سوچتاہوں کہ آنیوالی نسلوں کو کیادیں گے؟سویلین اداروں کی کارکردگی آج بھی اس طرح نہیں ، کیا ایک استاد اپنی ذمہ داری نبھارہاہے؟ہم ایسی قوم ہیں جس نے اس سانحے کو جھیل لیا، ہم کوہمیشہ آگے دیکھناہے ، رک کر نہیں رہ سکتے ، زندگی آگے بڑھنے کا نام ہے ، ایک سال بعد بات کرتے ہوئے یہ سوچنا ہے کہ کیا پایا اور آئندہ ایسے واقعے کو کیسے روک سکتے ہیں ۔

اُنہوں نے کہاکہ ہم شہداءکے ورثاء کےغم میں برابر کے شریک ہیں ، امریکہ میں نائن الیون کے بعد بھی آج تک اس حدتک تبدیلی نہیں آئی ، آج بھی ڈونلڈ ٹرمپ جیسا شخص موجود ہے جس کے بیانات پر دنیا بھر میں ردعمل آرہاہے ، ٹرمپ کے بیانات پر برطانیہ میں آن لائن پٹیشن دائر ہوئی لیکن ہمیں چاہیے کہ  الزام برائے الزام کی بجائے ہرسطح پر کام کرناچاہیے ، جہاد ہر کسی کو کرناہے ، میرا بھی فرض ہے ،استاد نے قلم سے جہاد کرناہے ۔ ایک سوال کے جواب میں اُن کاکہناتھا کہ وزیراعظم نے تقریب میں شرکت کرکے قوم کو اچھا پیغام دیا، تمام لوگوں کیلئے پیغام ہے کہ وہ بھی آگے آئیں ، سیاستدانوں نے سیاست ہی کرنی ہے لیکن ایسے اقدامات سے متاثرین کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے ۔

دوسری طرف سینئر صحافی شہزاد نے کہاکہ پی ٹی آئی یا وفاقی نمائندے آج تک والدین کو بھی مطمئن نہیں کرسکے ، ایک ایسے شخص کو بھی وہ جانتے ہیں ،  جو آج بھی اپنے شہید صاحبزادے کے کپڑے پہن کررکھتے ہیں اور دوپستول لگاکرسوتے ہیں ، وہ یا تو گھر رہتے ہیں یا پھر بیٹے کی قبر پر قبرستان میں ہی ملتے ہیں ، بحیثیت قوم ہماری یاداشت کمزور ہے ، شاید یہ اے پی ایس بھی میڈیا نے زندہ رکھاہواہے ، مستقبل میں ایسانہ ہو کہ  اس واقعہ کو بھلادیں۔

مزید : اسلام آباد


loading...