وزیراعلیٰ شہباز شریف نے پنجاب کی تمام 9ڈویثرن میں اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں کی منظوری دےدی

وزیراعلیٰ شہباز شریف نے پنجاب کی تمام 9ڈویثرن میں اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں ...
وزیراعلیٰ شہباز شریف نے پنجاب کی تمام 9ڈویثرن میں اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں کی منظوری دےدی

  


لاہور( این این آئی) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے پنجاب کی تمام 09ڈویثرن میں خصوصی اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں کی منظوری دےدی ہے جس کے تحت پنجاب کی تمام ڈویثرنز میں خصوصی اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی جس کے لئے 1585.476ملین روپے مختص کیے گئے ہیں، پاکستان آرمی ریسکیو1122کے ماسٹر ٹرینرز کو ابتدائی سطح پر پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرے گی جو ان اربن سرچ اینڈ ریسکیوٹیموں کے دیگر ممبران کو تربیت دیں گے۔ واضح رہے پاکستان آرمی اور اسلام آباد کی کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے پاس یہ جدید انفرا سٹرکچر اور پیشہ ورانہ صلاحیت موجود ہے۔ ڈی جی ریسکیو پنجاب بریگیڈئر (ر)ڈاکٹر ارشد ضیاءکے مطابق اربن سرچ اینڈ ریسکیوٹیموں کی ضرورت ،آئے روز وقوع پذیر ہونے والے بڑے حادثات اور سانحات اور مندرجہ بالا محکموں کے پاس اس انفراسٹرکچر اور پیشہ ورانہ تربیت کی دستیابی کو دیکھتے ہوئے ، محکمہ داخلہ پنجاب نے ڈی جی ریسکیو پنجاب بریگیڈ(ر)ڈاکٹر ارشد ضیاءکی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جس میں پاکستان آرمی، سی ڈی اے، پی ڈی ایم اے پنجاب اور محکمہ داخلہ پنجاب کے نمائندگان شامل تھے۔کمیٹی نے متعلقہ انفراسٹرکچر ، آلات کی نشاندہی کی اور انہیں معیاری کیا ۔یہ خصوصی اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں پنجاب کی کل 09ڈویثرنز بشمول لاہور، فیصل آباد، ملتان ، راولپنڈی ،گوجرانوالہ، سرگودھا، ساہیوال، ڈی جی خان اور بہاولپور میں تشکیل دی جائیںگی۔ مزید براں ، پاکستان آرمی اور دیگر محکموں کے ماہرین سے تفصیلی مشاور ت کے بعد ، ڈائریکٹر جنرل پنجاب ایمرجنسی سروس (ریسکیو1122) بریگیڈئیر( ر) ڈاکٹر ارشد ضیاءنے یہ تجویز دی کہ ہر USARٹیم 50ریسکیو اہلکارو ں پر مشتمل ہوگی جو صرف ان خصوصی آپریشنز بشمول عمارتیں منہدم ہونے کے واقعات، زلزلوں اور دیگر پیچیدہ ایمرجنسیز پر اپنے فرائض سرانجام دی گی۔ ڈی جی ریسکیو پنجاب نے کہا ہے کہ ان ٹیموں کی تشکیل سے بلاشبہ ریسکیو 1122کی آپریشنل کیپسٹی میں اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ عمارتیں منہدم ہونے کے واقعات ، پیچیدہ ایمرجنسیز اور دیگر قدرتی آفات کے پیشِ نظر یہ وقت کی اہم ضرورت تھی کہ جدید خطوط پر استوار اور جدید بھاری مشینری ریسکیو سروس کا حصہ ہو تاکہ ایسی ایمرجنسیز سے بہتر انداز میں نبرد آزما ہوا جاسکے۔

مزید : لاہور


loading...