قومی اسمبلی میں  سانحہ پشاور پر بحث کے دوران اراکین  کا دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف زبردست یکجہتی کا مظاہر ہ

قومی اسمبلی میں  سانحہ پشاور پر بحث کے دوران اراکین  کا دہشت گردی اور انتہا ...
قومی اسمبلی میں  سانحہ پشاور پر بحث کے دوران اراکین  کا دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف زبردست یکجہتی کا مظاہر ہ

  


اسلام آباد(صباح نیوز)قومی اسمبلی میں بدھ کو سانحہ پشاور پر بحث کے دوران اراکین نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف زبردست یکجہتی کا مظاہر ہ کیا گیا ہے ۔ واضح کیا گیا ہے کہ شہید بچوں کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔ ہمیشہ ان بچوں کو یادرکھا جائے گا۔ مختلف جماعتوں نے ملکی سلامتی اور استحکام کیلئے آزاد و خود مختار داخلہ و خارجہ پالیسیوں کی تشکیل کو ناگزیر قرار دیا ہے واضح کیا گیا ہے کہ آزادانہ فیصلوں سے ملک کو دہشت گردی سے پاک کیا جاسکتا ہے آزاد خارجہ پالیسیوں کی وجہ سے پوری قوم بالخصوص عالم اسلام میں وقار کے ساتھ کھڑے ہو سکتے ہیں۔ اور صنعتی تاثر کو زائل کیا جا سکتا ہے ۔ بدھ کو قومی اسمبلی میں دن بھر سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور پر بحث کا سلسلہ جاری رہا ،سقوط ڈھاکہ 16 دسمبر 1971کے حوالے سے بھی اراکین نے خیالات کا اظہار کیا سانحہ پشاور پر بحث کیلئے معمولی کارروائی کو معطل کر دیا گیا ہے ۔ معمول کا بزنس ملتوی کرنے کیلئے وفاقی وزیر موسمیات تبدیلی زاہد حامد نے تحریک پیش کی جسے اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا ۔  پیپلز پارٹی کے رہنما سید نوید قمر نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ  16 دسمبر کو گزشتہ سال  دہشتگردوں نے ہمارے دل پر حملہ کیا اور معصوم جانوں کو نشانہ بنایا پوری قوم اشک بار ہے تاہم  پوری قوم کو متحدکردیا اور دہشتگردوں کے خلاف آپریشن شروع کیا گیا۔ مسلم لیگ (ن) کی رکن شائستہ پرویز ملک نے کہا کہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ پوری قوم یکجا ہوکر دشمن کا مقابلہ کرے' تمام مسائل کے حل کیلئے سر جوڑ کر ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر آگے بڑھنا ہوگا۔  پاکستان تحریک انصاف کے رکن اسد عمر نے کہا کہ فرقہ واریت اور نفرت پھیلانے والے عناصر کو روکنے کے لئے پوری قوم کو سیاسی وابستگیوں اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے۔  عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ اسلام کے خلاف عالمی سطح پر سازشیں زور پکڑ رہی ہیں' ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں مل بیٹھ کر اس مسئلے کے حل کیلئے آگے بڑھیں۔ جماعت اسلامی کی رکن عائشہ سید نے سفارش کی کہ اے اے پی ایس میں شہید ہونے والے بچوں کو نشان حیدر دیا جائے اور 16 دسمبر کو قومی سطح پر عام تعطیل کا اعلان کیا جائے' سانحہ پشاور میں 144 بچوں کی شہادت سے نہ صرف ان کے خاندان بلکہ پوری قوم اشک بار ہے۔ جمعیت علماء اسلام (ف) کی رکن نعیمہ کشور خان نے کہا کہ 16 دسمبر کو اے پی ایس پر حملے نے ہمارے زخم ایک مرتبہ پھر تازہ کردیئے ہیں' اسلام روا داری اور امن کا درس دیتا ہے' دہشت گردی کو اسلام سے نہ جوڑا جائے۔ ایم کیو ایم کے رکن عبدالوسیم نے کہا کہ فوج دہشتگردی کے خاتمے کیلئے قربانیاں دے رہی ہے' اگر ملک کی سیاسی قیادت نے سر نہ جوڑے اور کوئی جامع منصوبہ بندی نہ کی تو ایسے واقعات خدانخواستہ مزید رونما ہوسکتے ہیں۔ مسلم لیگ فنکشنل کے رکن غوث بخش مہر نے کہا کہ آرمی پبلک سکول پر حملے کا واقعہ کوئی معمولی دہشتگردی نہیں' ہمیں سیاسی و ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ وزیر مملکت شیخ آفتاب احمد نے کہا کہ آج کے دن حکومت' سیاسی قوتوں کو پھر عہد کرنا ہے کہ سبز پرچم کو رہتی دنیا تک قائم و دائم رکھنا ہے۔ پاکستان ایک لازوال حقیقت ہے' یہ ختم ہونے کے لئے نہیں بنا۔ قائد اعظم کی روح ہم سے یہ سوال کرتی ہے کہ ہم نے کیا کیا۔ آج شکر ہے کہ ایک ایسی حکومت موجود ہے جو پاکستان کی فلاح و بہبود کی بات کرتی ہے۔ سب کو ساتھ لے کر چلتی ہے' پاکستانی سالمیت' آئین کی بالادستی کے لئے ہم سب کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔ 18 کروڑ عوام آج اشک بار ہے اور دعا گو ہے کہ اللہ لواحقین کو صبر دے۔ پیپلز پارٹی کی رکن نفیسہ شاہ نے کہا کہ آرمی پبلک سکول پر حملہ پاکستان کے دل پر حملہ تھا' ہم ان شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں' قوم اس وقت ہی ہمیں پرعزم سمجھے گی کہ جب نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد مکمل طور پر ہو۔ مسلم لیگ (ن) کے رکن ڈاکٹر عباد اللہ نے کہا کہ 1971ء کو پاکستان دولخت ہوا اور 16 دسمبر 2014ء کے دہشتگردی کے واقعہ نے قوم کو متحد کیا' دہشت گردی جہاں بھی ہے ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ تحریک انصاف کے رکن ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ سانحہ پشاور کے بعد دہشت گردی کے خلاف سب متحد ہوئے' مستقبل میں بچوں کو مفت تعلیم دی جائے۔ مسلم لیگ (ضیائ) کے سربراہ اعجاز الحق نے کہا کہ آرمی پبلک سکول کے واقعہ نے سیاسی و فوجی قیادت میں اتحاد و اتفاق پیدا کیا' دھرنے کی سیاست ختم کرائی' نیشنل ایکشن پلان سے دہشتگردی کم ہوئی۔ ایم کیو ایم کی رکن ثمن سلطانہ جعفری نے کہا کہ تعلیم مسائل کا حل ہے تاہم یہ تعلیم کس طرز کی ہونی چاہیے اس پر بھی غور کی ضرورت ہے' نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے گزشتہ عزم کے اعادے کی ضرورت ہے۔ جمعیت علماء اسلام (ف) کی رکن آسیہ ناصر نے کہا کہ اے پی ایس پشاور کے معصوم بچوں کی قربانی رنگ لائے گی اور پاکستان ایک پرامن ملک بنے گا۔ فاٹا سے رکن شاہ جی گل آفریدی نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان اور شہداء کے خون نے ہمیں بہت کچھ دیا' اس پلان کی وجہ سے آج سیاسی قائدین پشاور میں جمع ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے رکن محسن شاہنواز رانجھا نے کہا کہ افغانستان میں بیٹھ کر جو ممالک پاکستان میں دہشتگردی کی فنانسنگ کر رہے ہیں ان کے سفیروں کو طلب کرکے ان سے سخت احتجاج کیا جائے' پالیسی سازوں کو پالیسیوں میں ناکامی پر جواب دہ ہونا چاہیے' دوسرے ممالک کی سرد جنگ کے وقت پالیسی سازوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس جنگ میں شریک لوگوں کو کیسے محفوظ راستہ دیا جائے گا جس کا خمیازہ ہم آج بھگت رہے ہیں۔ عمران ظفر لغاری نے کہا کہ دشمن کے بچوں کو تعلیم دینے سے پہلے اپنے بچوں کو تعلیم دی جائے' پہلے اپنے گھر کو سنوارا جائے۔ پیپلز پارٹی دہشت گردی کی کبھی حمایت نہیں کر سکتی۔ ہم نے اپنی لیڈر قربان کی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیاسی جماعتوں کی بھی قربانیاں ہیں۔ یہ جنگ ہم سب کی جنگ ہے۔ یہ اس جنگ کو متنازعہ نہیں بنانا چاہتے۔ ہم دہشت گردی کا مکمل خاتمہ چاہتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے رکن اور پارلیمانی سیکرٹری راجہ جاوید اخلاص نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھرپور قربانیاں دی ہیں۔ حکومت اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ اپنی سرزمین کو دہشتگردی سے پاک کریںگے اور آخری دہشتگرد کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔ آنے والے وقت میں حالات مزید بہتر ہونگے۔ شیر اکبر خان نے کہا کہ جب ایسا سانحہ پیش آتا ہے تو پوری قوم متحد ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کے خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کرتا ہوں اور یقین دلاتا ہوں کہ پوری قوم ان کے ساتھ ہے اور ان کوسلام پیش کرتی ہے۔قبل ازیں قومی اسمبلی نے اے پی ایس سکول پشاور کے دہشتگردی کے واقعہ کا ایک سال مکمل ہونے پر مذمتی قرارداد متفقہ منظور کرتے ہوئے سفارش کی ہے کہ 16 دسمبر کا دن '' پاکستان کے بچوں کے دن '' کے طور پر منایا جائے' اور اس دن کی مناسبت سے ہر سال ملک کے تمام تعلیمی اداروں میں ملک کی ترقی اور خوشحالی کیلئے دعائیہ تقاریب کا انعقاد کیا جائے۔ بدھ کو قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر زاہد حامد نے قرارداد پیش کی کہ '' یہ ایوان 16 دسمبر 2014ء کو آرمی پبلک سکول پر دہشت گردوں کے حملوں میں معصوم طلباء اور اساتذہ کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتا ہے اور دہشتگردی کے اس سنگین واقعہ کی شدید مذمت کرتا ہے اور اس بربریت کی کارروائی کی شدید مذمت کرتا ہے جوکہ انسانیت کے خلاف جرم تھا۔ یہ ایوان متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ایک مرتبہ پھر دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتا ہے' قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان اس ظالمانہ حملے کے بعد فوجی آپریشن کے عمل کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے کہ اس بزدلانہ اور وحشیانہ حملے کے نیتجے میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب کے نام سے ملٹری ایکشن شروع کیا گیا جس میں بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اس واقعہ کے بعد دہشت گردی کے خلاف قومی اتحاد سے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ ہوا کہ اس مجرمانہ فعل کے مرتکب شرپسندوں کے خاتمے اور ان کی تباہی کی جنگ میں اہل پاکستان متحد ہیں۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ 16 دسمبر کا دن '' پاکستان کے بچوں کے دن '' کے طور پر منایا جانا چاہیے یا اسے کوئی اور مناسب نام دیا جائے اور یہ بھی سفارش کی گئی ہے کہ اس روز شہداء کے لئے خصوصی دعا کے ساتھ ساتھ ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لئے بھی تمام تعلیمی اداروں میں ہر سال 16 دسمبر کو دعائیہ تقاریب منعقد کی جائیں۔

مزید : اسلام آباد


loading...