سانحہ اے پی ایس کا ایک سال، وکلاءکا یوم سیاہ ،مذمتی قراردادیں ،ہڑتال اور ریلیاں

سانحہ اے پی ایس کا ایک سال، وکلاءکا یوم سیاہ ،مذمتی قراردادیں ،ہڑتال اور ...
سانحہ اے پی ایس کا ایک سال، وکلاءکا یوم سیاہ ،مذمتی قراردادیں ،ہڑتال اور ریلیاں

  


لاہور(نامہ نگار خصوصی )سانحہ اے پی ایس کا ایک سال مکمل ہونے پر ملک بھر کے وکلا ءنے یوم سیاہ منایا ۔وکلا بازوﺅں پرسیاہ پٹیاں باندھ کر عدالتوں میں پیش ہوئے جبکہ لاہور ہائی کورٹ سمیت ماتحت عدالتوں میں وکلاءنے صبح 11بجے کے بعد ہڑتال کی ۔بار رومز پر سیاہ جھنڈے لہرائے گئے آرمی پبلک سکول پشاور کے شہداءکے ورثاءسے اظہار یکجہتی اوردہشت گردی کی مذمت کے لئے قراردادیں بھی منظور کی گئیں ۔اس سلسلے میں صدرسپریم کورٹ بار سیدعلی ظفرکا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پوری قوم نے قربانیاں دیں ،سانحہ پشاورکے شہداءنے پوری قوم کو متحد کرکے دہشت گردی کے خلاف تحریک کو جنم دیا۔سپریم کورٹ بارلاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بار کے صدرعلی ظفر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف عسکری اور سیاسی قیادت ایک پلیٹ فارم پر ہے،انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا مسئلہ صرف طاقت سے حل نہیں ہو سکتا اس کے لئے سویلین قیادت کو سیاسی سطح پر دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمہ کے لئے دیر پا حل ڈھونڈنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے ملک میں فوری طور پر تعلیمی ایمر جنسی کے نفاذ کا اعلان کرے کیوں کہ تعلیم واحد ہتھیار ہے جو دہشت گردی کا خاتمہ کر سکتی ہے۔لاہور ہائی کورٹ بار میں سانحہ پشاور کے حوالے سے پاکستان بار کونسل اور لاہور ہائی کورٹ بار کا مشترکہ اجلاس ہوا جس میں لاہور ہائی کورٹ بار کے صدر پیر مسعود چشتی اور پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین اعظم نذیر تارڑ سمیت وکلاءکی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔محمد احمد قیوم سیکرٹری لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے ہاﺅس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 16دسمبر 2014ءکو آرمی پبلک سکول پشاور کے معصوم بچوں کو بہیمانہ طریقے سے شہید کر دیا گیا۔ اس سے پہلے سقوط ڈھاکہ ہوا۔ ان دونوں واقعات نے قوم کو سوگوار کیا۔ سانحہ پشاور نے تو پوری قوم کو خواب غفلت سے بیدار کر کے متحد کر دیا اور ساری قوم ہر قسم کے تفرقات و اختلافات کو بھلا کر دہشت گردی کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی۔ اس موقع پر اعظم نذیر تارڑ وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل ،صدر ہائی کورٹ بار پیر مسعود چشتی ،سابق جسٹس سید زاہد حسین بخاری، محمد اعظم چوہان ، آمنہ اجمل ، سید منظور گیلانی ، احمد اویس اور غلام فرید سنوترا ،نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دسمبر 1971ءکا واقعہ ابھی تک ذہنوں میں زندہ ہے۔ اس وقت پوری قوم منتشر تھی منزل کا تعین نہ تھا۔ سانحہ پشاور نے قوم کو نا صرف متحد کیا بلکہ صحیح سمت متعین کرنے کا موقع فراہم کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کا دن نہ صرف یوم سیاہ بلکہ یوم احتساب بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی رائے کو تسلیم نہ کرنے کے باعث سقوط ڈھاکہ پیش آیا اگر اس وقت احتساب کیا جاتا تو سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور رونما نہ ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظم کے بعد قوم کو مخلص لیڈ ر نہ ملا۔ اس کے بعد آنے والے حکمران آپس میں الجھتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی جنگ میں ملک بھر کے وکلاءحکومت اور افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ ایڈہاک ججز کی تعیناتی کے بارے انہوں نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ اجلاس میں سانحہ پشاور کے شہداءکی ارواح کو ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی بھی کی گئی ۔ وکلاءنے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری کے باہر مظاہرہ بھی کیا۔وکلاءنے پلے کارڈ ا ±ٹھا رکھے تھے جن پر دہشت گردی کے خلاف نعرے درج تھے۔

مزید : لاہور


loading...