خاتون وفاقی محتسب کا عدالتی حکم ماننے سے صاف انکار ،وارنٹ گرفتاری جاری ،وکلاءتنظیمیں ہائی کورٹ کے حمایت میں میدان میں آگئیں

خاتون وفاقی محتسب کا عدالتی حکم ماننے سے صاف انکار ،وارنٹ گرفتاری جاری ...
خاتون وفاقی محتسب کا عدالتی حکم ماننے سے صاف انکار ،وارنٹ گرفتاری جاری ،وکلاءتنظیمیں ہائی کورٹ کے حمایت میں میدان میں آگئیں

  


لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے مسلسل عدم پیشی پر خاتون و فاقی محتسب یاسمین عباسی کے دوبارہ قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے اسلام آباد پولیس کو حکم دیا ہے کہ 14جنوری کو یاسمین عباسی کی ہائی کورٹ میں پیشی یقینی بنائی جائے ۔یاسمین عباسی کے پیش نہ ہونے کو عدلیہ کی تضحیک قرار دیتے ہوئے پاکستان بار کونسل اور لاہورہائیکورٹ بار بھی ان کے خلاف میدان میں آگئی ہیں۔جسٹس سید منصور علی شاہ نے سلیم بیگ ایڈووکیٹ کی توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کی، وفاقی حکومت کی طرف سے ڈپٹی اٹارنی جنرل مرزا نصر نے خاتون محتسب کے رویے کے سامنے بے بسی ظاہر کرتے ہوئے کہ وفاقی محتسب کو عدالت میں پیشی کے حکم بارے آگاہ کیا گیا مگر انہوں نے جواب دیا ہے کہ ہائیکورٹ انہیں طلب نہیں کر سکتی، درخواست گزار کے وکیل نے نشاندہی کی کہ خاتون محتسب نے فاضل جج کے خلاف صدر کو ریفرنس بھیجنے کی درخواست دی ہے جو عدلیہ کی تضحیک کے مترادف ہے لہذا خاتون محتسب کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے، اس نشاندہی پر کمرہ عدالت میں اپنے اپنے مقدمات کی پیروی کیلئے موجود وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل اعظم نذیر تارڑ اور صدر ہائیکورٹ بار پیر مسعود چشتی نے روسٹرم پر آ کر کہا کہ عدلیہ کو تضحیک کا نشانہ بنانے پر بار ایسوسی ایشنز عدلیہ کے ساتھ کھڑی ہوں گی ، کسی انتظامی سربراہ کو عدلیہ کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دیں گے ، فاضل جج نے دونوں عہدیداروں کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کی ہدایت کی، عدالت نے تفصیلی دلائل سننے کے بعد خاتون محتسب کے دوبارہ قابل ضمانت وارنٹ جاری کرتے ہوئے ایس ایس پی اسلام آباد کو حکم دیا کہ یاسمین عباسی کی 14جنوری کو عدالت میں حاضری یقینی بنائی جائے ،عدالت نے رجسٹرار محتسب کو بھی آئندہ سماعت پر متعلقہ ریکارڈ سمیت پیش ہونے کا حکم دیا ہے ۔بعدازاں لاہور ہائی کورٹ بار کے اجلاس میں بھی یہ معاملہ اٹھایا گیا ۔جہاں پر پیر محمد مسعود چشتی، صدر لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے اعلان کیا کہ حال ہی میں مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ سینئر پیونی جج لاہور ہائیکورٹ نے وفاقی محتسب برائے تحفظ نسواں کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا جس پر وفاقی محتسب نے کہا کہ کسی بھی عدالت کو محتسب کے پاس زیر التواءمعاملے کو سننے کا اختیار نہیں۔انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی حکم عدولی لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کسی صورت برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں کا کام عوام کو انصاف فراہم کرنا ہے اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ بصورت دیگر لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن عدلیہ کی بالادستی کے لئے ہر سطح پر عدلیہ کے شانہ بشانہ کھڑی ہو گی۔

مزید : لاہور


loading...