سانحہ پشاور، وہ فوجی افسر جس کا پاک فوج نے بزدلی دکھانے پر کورٹ مارشل کردیا

سانحہ پشاور، وہ فوجی افسر جس کا پاک فوج نے بزدلی دکھانے پر کورٹ مارشل کردیا
سانحہ پشاور، وہ فوجی افسر جس کا پاک فوج نے بزدلی دکھانے پر کورٹ مارشل کردیا

  


پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک)آرمی پبلک سکول کے سانحہ کو ایک سال کا عرصہ گزر چکا ہے اور آج بھی پوری قوم کا زخم اس کی وجہ سے ہرا ہے۔اس سانحے میں سینکڑوں والدین کے لخت جگر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ان سے بچھڑ گئے۔اس واقعے میں جہاں کئی لوگوں نے بہادری کی داستانیں رقم کرکے تاریخ میں اپنا نام لکھوالیا وہیں ایک فوجی افسر ایسا بھی ہے جس کا پاک فوج نے بزدلی دکھانے پر کورٹ مارشل کیا۔

انگریزی اخبار ٹریبیون نے لکھا ہے کہ جب دہشت گرد سکول میں داخل ہوئے تو اس وقت ایک حصے میں فرسٹ ایڈ کی ٹریننگ چل رہی تھی اور دو سیکیورٹی اہلکار بچوں کو یہ ٹریننگ دے رہے تھے جبکہ سکول کی پرنسپل طاہرہ قاضی بھی وہاں موجود تھیں۔دہشت گرد جب اس جگہ پہنچے تو طاہرہ قاضی نے اس قدر حاضر دماغی اور بہادری سے سے کام لیا کہ آج بھی لوگ ان کی اس بات پر حیران ہوتے ہیں۔انہوں نے ہال سے باہر نکل کر اپنے گھر کال کرنے کی بجائے ریسکیو کے لئے کال کی جس کی وجہ سے سکول سے باہر موجود سیکیورٹی اداروں کو دہشت گردی کے بارے میں علم ہوااور وہ حرکت میں آئے۔طاہرہ قاضی چاہتیں تو وہیں سے باہر نکل جاتیں جیسا کہ دو ٹریننگ دینے والے افراد نے کیا اور موقع سے فرار ہوگئے لیکن بہادر پرنسپل واپس ہال میں آگئیں اور بچوں کو بچانے کی کوشش میں اپنے خالق حقیقی سے جاملیں۔اخبار لکھتا ہے کہ دوٹریننگ دینے والے افراد میں سے ایک میجر بھی تھا جس کا بعد میں پاک فوج نے بزدلی دکھانے اور واپس ہال میں نہ جانے پر کورٹ مارشل بھی کیا۔

سوشل میڈیا پر کئی لوگ بے بنیاد پروپیگنڈہ کررہے ہیں کہ پاک فوج میں احتساب نہیں کیا جاتا لیکن ایک فوجی افسر کا کورٹ مارشل اس بات کا ثبوت ہے کہ ایسا ہرگز نہیں۔

مزید : قومی


loading...