کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ ہم 16دسمبر کو بھول جائیں، لیکن حادثات سے قومیں سیکھتی اور مستقبل کا تعین کرتی ہیں:سینٹرسراج الحق

کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ ہم 16دسمبر کو بھول جائیں، لیکن حادثات سے قومیں سیکھتی اور ...
کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ ہم 16دسمبر کو بھول جائیں، لیکن حادثات سے قومیں سیکھتی اور مستقبل کا تعین کرتی ہیں:سینٹرسراج الحق

  


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)امیر جماعتِ اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہکچھ لوگ چاہتے ہیں کہ ہم 16دسمبر کو بھول جائیں، لیکن حادثات سے قومیں سیکھتی ہیں اور اپنے مستقبل کا تعین کرتی ہیں، مشرقی پاکستان میں ہماری فوج نے بھارتی بالادستی کے خلاف ہمارے بنگالی بھائیوں کے ساتھ مل کر جنگ لڑی تھی، اس لیے حکومت پاکستان کا فرض ہے کہ وہ ایک فریق کی حیثیت سے ڈھاکہ کی جیلوں میں قید بنگالی بھائیوں کی رہائی کے لیے سفارتی سطح پر کوششیں کرے،نجی ٹی وی کے مطابق اسلام آباد میں” سقوطِ ڈھاکہ اور سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور “کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ دسمبر ہماری تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے، اس دن سقوطِ ڈھاکہ رونما ہوا، اور اِسی دن گزشتہ سال آرمی پبلک سکول پشاور میں ڈیڑھ سو سے زائد ہمارے معصوم بچوں، اساتذہ اور سٹاف کو شہید کیا گیا۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہماری حکومت اور اپوزیشن میں اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو مودی سے عشق رکھتے ہیں، سب جانتے ہیں کہ ملک کی اس بھارت نواز لابی کے اشاروں پر کس طرح راتوں رات پالیسیاں تبدیل کردی جاتی ہیں۔ انہوںنے کہا کہ انہی عناصر کی وجہ سے پاکستان آج بھی خطرات میں گھرا ہوا ہے۔ ہندوستان نے اب تک پاکستان کی جغرافیہ اور نظریہ کو تسلیم نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کبھی سقوطِ ڈھاکہ کی شکل میں، کبھی مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر بے تحاشا ظلم و جبر کی صورت میں اور کبھی ہمارے بارڈر پر ہمارے جوانوں کو شہید کرکے ہم سے انتقام لینے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ لیکن اس کے باوجود ہمارے حکمران مودی جیسے سفاک قاتل اور شدّت پسند ذہنیت کے حامل شخص سے دوستی کی پینگیں بڑھانے کے لیے بے تاب ہیں۔سینیٹر سراج الحق نے واضح کیا کہ پاکستان سے ہمارا تعلق نظریے کا تعلق ہے اور نظریے کبھی ختم نہیں ہوتے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حسینہ واجد کی حکومت محبانِ پاکستان کو پھانسی پر لٹکارہی ہے، ایسے میں ایک فریق ہونے کے ناطے وہ بنگلہ کی جیلوں میں اس وقت قید ہمارے 25ہزار کارکنوں کی رہائی کی بات بنگلہ دیش حکومت کے سامنے اٹھائے۔ نیز بنگلہ دیش میں ہونے والے ظلم اور سہ فریقی معاہدے کی کھلم کھلا خلاف ورزی کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر بھی آواز اٹھائی جائے۔

مزید : قومی


loading...