مشرقی پاکستان پربھارت کی ناجائز جارحیت (1)

مشرقی پاکستان پربھارت کی ناجائز جارحیت (1)
 مشرقی پاکستان پربھارت کی ناجائز جارحیت (1)

  



23مارچ1940ء کی قرارداد لاہور ’’خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی ‘‘کی بنیاد پرپاکستان کے قیام کا سبب بنی تھی۔اس قراردادمیں مطالبہ کیاگیاتھا کہ ہندوستان کے وہ علاقے جہاں مسلمانوں کی عددی اکثریت ہے، وہاں ان کی آزاداورخودمختارمملکت تسلیم کی جائے ۔چنانچہ لارڈماؤنٹ بیٹن نے مسلمانوں اور ہندؤوں کے لئے الگ الگ وطن کے قیام کامطالبہ تسلیم کرتے ہوئے 3جون 1947ء کوتقسیم ہندکامنصوبہ پیش کردیا ۔اس طرح پاکستان اوربھارت کے نام سے دو آزاد اور خود مختارملک معرض وجود میں آئے۔ آزادیِ ہند کے جس اصول کی روسے بھارت قائم ہوااسی اصول کی روسے پاکستان قائم ہواتھا۔

تقسیم کے بعد بھارت، پاکستان کے کسی حصے پر دعوے یاقبضے کاحق نہیں رکھتا تھا۔اسی طرح مشرقی پاکستان بھی مسلمہ اور مکمل طور پروفاق پاکستان کاحصہ اورصوبہ تھا۔اندراگاندھی بخوبی سمجھتی تھیں کہ مشرقی پاکستان متنازع نہیں اور نہ کبھی بھارت کاحصہ بن سکتا ہے،اس کے باوجودانداراگاندھی نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے لئے فضاہموارکی۔مکتی باہنی کی بنیاد رکھوائی، علیحدگی پسندعناصرکی حوصلہ افزائی کی ،دو بھائیوں کے درمیان غلط فہمیوں ،نفرتوں اورعداوتوں کے بیج بوئے ۔

بدقسمتی سے ہمارے اس وقت کے حکمران ان غلط فہمیوں کا بروقت ازالہ وتدارک نہ کرسکے۔چنانچہ غلط فہمیوں کے بیج بڑھتے بڑھتے ببول کے تناور درخت بن گئے۔ان درختوں کی خاردارشاخوں اور کانٹوں سے الجھ کر دونوں بھائیوں کے دامن تارتار ،ہاتھ لہولہان اوربازوشل ہوگئے تھے۔’’را‘‘کی تربیت یافتہ مکتی باہنی اوربھارتی فوج نے مسجدوں کی سرزمین ڈھاکہ سمیت پورے مشرقی پاکستان میں محب وطن بنگالیوں کابے دریغ اور بے پناہ قتل عام کیا ۔پاکستان کانام لینے والوں کی زبانیں اورپاکستان کا پرچم تھامنے والوں کے ہاتھ کاٹ دیئے گئے،مسجدوں میں پناہ گزین عفت ماٰب خواتین کوبے آبروکرکے ذبح کیاگیا، دودھ پیتے بچوں کو درختوں کے ساتھ لٹکا ،تڑپا اور سسکا سسکا کر مارا گیا۔ یہی مکتی باہنی تھی جس نے مشرقی پاکستان میں پاک فوج کے لئے مشکلات اورمصائب کے پہاڑ کھڑے کئے۔ محب وطن بنگالیوں کو چوکوں، چوراہوں، گلیوں ، بازاروں، مسجدوں ،کھیتوں اورکھلیانوں میں ذبح کیا۔ عسکری اور عوامی اہمیت کی حامل تنصیبات کوتباہ کیا۔اس سفاک گروہ کے ہاتھوں محب وطن بنگالیوں پرجوگزری ان میں سے ہرواقعہ اپنی جگہ ایک مستقل عنوان ہے۔جمال احمد مشرقی پاکستان کے گورنرمنعم خان کی کابینہ میں وزیر تھے،سلہٹ کے رہنے والے تھے،ظاہر وباطن ایک جیسا،نیک طینت پاکباز،خوش اخلاق ،خوش گفتار،سراپا ایثار،مہذب اورمحب وطن پاکستانی تھے۔مکتی باہنی جمال احمد کے گھر پرحملہ آورہوئی ۔اہل خانہ کے سامنے جمال احمدکوپکڑا،دونوں ٹانگوں کے ساتھ دو عدد رسے باندھے ،رسوں کودوجیپوں کے ساتھ باندھاگیا اورجیپوں کومخالف سمتوں میں چلادیا گیا جس سے جمال احمد کی ٹانگیں چر گئیں ، اورجسم دوحصوں میں تقسیم ہو گیا۔اس ایک واقعے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ باقی محب وطن بنگالیوں پر کیا گزری ہوگی۔ظلم وستم کے وہی مناظر دھرائے گئے جو1947ء کے موقع پر دیکھنے میںآئے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ مکتی باہنی کے سازشی کردارکے سارے رازآشکاراہورہے ہیں لیکن کچھ رازایسے ہیں جوبہت پہلے آشکاراہوگئے تھے۔

دکھ کی بات ہے کہ ہم وہ سب کچھ بھول چکے ہیں ۔آج جبکہ 16دسمبرکادن ہے لازم ہے کہ ہم ماضی کے ان زخموں کوکریدیں، ان حالات وواقعات کوتازہ کریں کہ شائد ہم اپنے دشمن کو پہچان لیں اورآئندہ کے لئے اس کی سازشوں کے بچھائے جال سے بچ جائیں۔مکتی باہنی کے بارے میں ایک عرصہ تک یہ کہاجاتارہا ہے کہ یہ ان افرادپر مشتمل تھی جن کا تعلق پاکستان کی مسلح افواج کی ایسٹ بنگال رجمنٹ ،ایسٹ پاکستان پولیس اور ایسٹ پاکستان رائفلز سے تھا لیکن جیسا کہ سچائی خود کومنواکررہتی ہے مکتی باہنی کے بارے میں بھی یہی کچھ ہوا اور ہورہا ہے۔’’مکتی باہنی‘‘ بنگالی زبان کالفظ ہے اس کامطلب ہے ’’مجاہدین آزادی‘‘ لیکن کیا واقعی مکتی باہنی مشرقی پاکستان کے مجاہدینِ آزادی کی جماعت تھی؟اس رازسے بھارت کے سابق وزیراعظم مرارجی ڈیسائی نے بہت پہلے پردہ اٹھادیا تھاانہوں نے اٹلی کی معروف خاتون صحافی’’ اوریانافلاشی‘‘ کو27 جون 1975ء کوایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا’’مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی کاکوئی وجودنہ تھا۔یہ سب کے سب بھارت کے تربیت یافتہ چھاپہ مارکمانڈوفوجی تھے جوبنگالی مسلمانوں کے بھیس میں اپریل 1971ء سے دسمبر1971ء تک لڑتے رہے اوردنیا کویہ تاثردیاجاتارہا کہ مشرقی پاکستان کے بنگالی پاک فوج کے خلاف ہتھیاربدست ہیں۔‘‘یہ تھی مکتی باہنی کی حقیقت اوراصلیت۔بھارتی ذرائع کے بقول نومبر کے آخر میں مکتی باہنی اور اس کی ذیلی تنظیموں کی افرادی قوت دولاکھ تک پہنچ چکی تھی ۔اس کے برعکس پاک فوج کی فائٹنگ فورس کی تعداد45 ہزار کے قریب تھی۔حالات سخت نامساعد تھے، افرادی قوت اوراسلحہ کی کمی تھی،بھارت سے متصل مشرقی پاکستان کابارڈر طویل اوردشوار گزارتھااس کے باوجودپاک فوج کے جوانوں نے مکتی باہنی کی شورش اوربغاوت پرقابو پا لیا تھا۔اندراگاندھی کوجب مکتی باہنی کی بغاوت بارآورہوتی نظر نہ آئی تواس نے 3دسمبر کواپنی 5لاکھ فوج کومشرقی پاکستان پر اعلانیہ حملے کاحکم دے دیا۔اس طرح بھارت کی لڑاکا فوج کی تعداد 7لاکھ تک جاپہنچی۔ آخرغیروں کی عیاری ومکاری اپنوں کی نااتفاقی رنگ لائی اور16دسمبرکو مشرقی پاکستان ہم سے جداہوگیا۔

اندراگاندھی نے عسکری محاذ کو گرم کرنے کے ساتھ ساتھ سفارتی محاذ پر بھی کام کیا۔بھارت کے ایک عسکری تجزیہ نگار’’روی راکھی‘‘کے بقول اندراگاندھی نے مشرقی پاکستان کی سرحدوں سے متصل آسام میں نام نہاد مفروربنگالیوں کے لئے کیمپ بنائے اور ان کیمپوں میں پناہ گزین بنگالیوں کی دوکروڑ تعدادکاڈھنڈوراپیٹاگیا تھا۔اس کے بعداندراگاندھی نے بہت سے ممالک کے طوفانی دورے کئے اوردنیا کوباورکروایاکہ دوکروڑ بنگالی ہماری معیشت پربوجھ ہیں۔

مزید یہ کہ دوکروڑ بنگالیوں کاہمارے ہاں پناہ گزین ہونااس بات کاثبوت ہے کہ مغربی پاکستان والے مشرقی پاکستان کے لوگوں پرظلم کررہے ہیں ،وہ اس ظلم سے بچنے کے لئے ہمارے ہاں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں اورہرصورت مغربی پاکستان کے تسلط سے آزادی چاہتے ہیں۔ہم نے خالصتاََ انسانی ہمدری کی بنیاد پر ان لوگوں کواپنے ہاں پناہ دی ہے،لہذا یہ انسانی ہمدردی کامسئلہ ہے دنیا کو چاہئے کہ وہ اس مسئلہ کے حل کے لئے ہماری مددکرے۔روی راکھی کہتاہے ’’ان کیمپوں میں مشرقی پاکستان سے آنے والے آٹے میں نمک کے برابرتھے۔اکثریت بھوکے ننگے انڈین بنگالیوں کی تھی جودووقت کی روٹی کی تلاش میں غول درغول ان کیمپوں کی خاک چھانتے تھے جبکہ چالاک بھارتی میڈیانے نہایت ہی چابکدستی اورعیاری سے کام لیتے ہوئے اپنے وطن کے بھوکے ننگے بنگالیوں کومشرقی پاکستان کے لٹے پٹے اورمغربی پاکستان کی فوج کے ستائے اور ظلم اٹھائے ظاہرکیا۔اس طرح اندراگاندھی نے بہت سے ممالک کی ہمدردیاں سمیٹیں،نام نہاد پناہ گزینوں کے نام پر کروڑوں ڈالر اکٹھے کئے، مسئلہ اسلام دشمنی کا تھا سوامریکہ اور روس نے بھی بھارت کا ساتھ دیا اس طریقے سے اندرا گاندھی پاکستان کودولخت کرنے اوربنگلہ دیش کے قیام کی راہ ہموارکرنے میں کامیاب ہوگئیں۔‘‘

پاکستان کادولخت ہونا بلاشبہ بھولنے اور بھرنے والا زخم نہ تھا۔ یہ ایسا زخم تھا کہ جس نے پاکستان کوداغ داغ اورلہو لہو کردیا تھا۔ سقوط بغداد اورسقوط غرناطہ کے بعد امت مسلمہ کو لگنے والایہ سب سے بڑازخم تھا اورایسا دلخراش سانحہ تھا جس کے نتیجے میں پاکستان سے اسلامی دنیا کی سب سے بڑی مملکت ہونے کا اعزاز چھن گیا تھا۔ نہرو کی بیٹی اندرا گاندھی کویہ کہنے کاموقع ملا کہ آج ہم نے دوقومی نظریہ خلیج بنگال میں ڈبودیا، مسلمانوں سے ہزارسالہ تاریخ کابدلہ لے لیا اوران کی عسکری برتری کاتصورپاش پاش کردیا ہے۔جب پاکستان دولخت ہوااس وقت اندراگاندھی کے پیش نظر ہرگز یہ بات نہ تھی کہ مشرقی پاکستان بھارت کاحصہ بن جائے گا، بھارت کے رقبہ ،حجم اورآبادی میں اضافہ ہوجائے گا۔اندراگاندھی کے پیش نظر ایک ہی بات تھی کہ کسی طریقے سے پاکستان دولخت کردیا جائے اوردونوں بازؤوں کے درمیان محبت والفت کارشتہ توڑدیا جائے ۔بھارت کے لئے یہ تصور ہی سوہان روح تھا کہ اس کے ایک طرف پاکستان کاایک بازو اوردوسری طرف دوسرابازوتھا۔برہمن سمجھتا تھا کہ یہ دوطاقتوربازوکسی وقت بھی اس کاگلادبوچ سکتے ہیں۔سواس کے نزدیک اس مسئلے کاایک ہی حل تھا کہ پاکستان کے دوبازؤوں میں سے ایک بازوتوڑ دیا جائے تاکہ اس کامستقبل محفوظ ہو جائے۔ اندراگاندھی نے جوچاہا پوری قوت، طاقت، مستقل مزاجی اوردنیا کی ملامت کی پرواکئے بغیر اس پرعمل کرڈالا۔ (جاری ہے)

بھارت کی یہ حکمت عملی کامیاب رہی ہے کہ مشرقی پاکستان جس کے ساتھ اس کا کچھ تعلق ،واسطہ نہ تھااسے نہ صرف اپنا مسئلہ بلکہ متنازع بھی بناڈالا اوردوسری طرف ہمارے حکمرانوں کی ناکامی ہے کہ مسئلہ کشمیر جوسوفیصد متنازع ہے اورپاکستان یقینی طورپراس کافریق بھی ہے،اسے دنیاسے منوانے اورتسلیم کروانے میں ناکام ہیں۔حالانکہ اگربدیہی نظر سے بھی دیکھاجائے تویہ حقیقت اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی بھارت کے لئے اتنی ضروری نہ تھی جتنا پاکستان کے لئے مسئلہ کشمیر کاحل ہوناضروری ہے۔جب ہم کشمیر کوپاکستان کی شہ رگ قراردیتے ہیں تواس کا مطلب یہ ہے کہ کشمیر ہمارے لئے زندگی اورموت کی حیثیت رکھتا ہے۔پاکستان کادفاع، استحکام، بقااورمستقبل مسئلہ کشمیر کے حل ہونے سے مشروط ہے۔پاکستان میں بہنے والے سارے دریاؤں کامنبع اورآکسیجن کشمیر ہے ۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اہل کشمیر کے ساتھ ہمارادین اورایمان کارشتہ ہے۔ان حقائق کا ادراک اورتقاضہ تھا کہ ہمارے سارے سیاستدان ،حکمران ،مذہبی رہنمااورافواج پاکستان پوری یکسوئی ،دلجمعی اورطاقت کے ساتھ کشمیر کویک نکاتی ایجنڈاقراردیتے ہوئے اس کی آزادی کیلئے نتیجہ خیز کوشش کرتے ،اپنے کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے،بھارتی مظالم سے دنیا کوآگاہ کرتے اور مقبوضہ جموں کشمیر کی آزادی کے لئے اسی طرح اپنا خون بہاتے ،جان ومال قربان کرتے جس طرح کشمیری بھائیوں نے قیام پاکستان کے لئے جدوجہد کی تھی۔یہاں صورت حال یہ ہے کہ70سال کاعرصہ گزرنے کے باوجود ہمارے حکمرانوں اورسیاستدانوں کاپسندیدہ ومحبوب مشغلہ قراردادوں کی منظوری اوراخباری بیانات تک محدودرہا ہے۔آج تک پاس ہونے والی قراردادوں کے پلندے اکٹھے کئے جائیں تو یقیناان کے پہاڑ بن سکتے ہیں لیکن یہ کاغذی پہاڑ بھارتی مظالم کے سامنے ڈھال نہیں بن سکتے ،مظلوم کشمیری بچوں پربرسنے والی پیلٹ گنوں ،لاٹھیوں ، بندو قوں ،آنسوگیس،مرچی گیس کے شیلوں کارخ نہیں موڑسکتے ،پاکستان کی طرف بہنے والا وہ پانی جسے بھارت نے روک رکھا ہے اس میں روانی نہیں لاسکتے اورنہ ہمارے سیاستدانوں کے ٖفضاؤں میں اچھالے جانے والے بیانات، میزائل اور راکٹ کا روپ دھار سکتے ہیں۔ہم نہیں کہتے کہ جنگ برپا کی جائے اس لئے کہ جنگ کسی کے فائدے میں نہیں لیکن ہم یہ بھی پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ پاکستان کی شہ رگ پرقبضہ کس نے کررکھا ہے، پاکستان کا پانی کس نے روک رکھا ہے، 1971ء، میں جنگ کے شعلے کس نے بھڑکائے تھے ،پاکستان کی سالمیت کو کس نے داغ داغ کیا تھا،پاکستان میں دہشت گردی کون کروارہا ہے،افغانستان میں دہشت گردی کے اڈے کس نے بنارکھے ہیں ، کلبھوشن یادیو کس ملک کاایجنٹ ہے اوروہ پاکستان میں کس مقصد کی خاطرآیا تھا۔۔؟

ہمارے حکمران16دسمبرکاسانحہ بھول چکے، اپنے ماتھے پرلگے شکست کے داغ اوراپنے دشمن کو فراموش چکے ہیں لیکن بھارت کی ڈھٹائی اوردشمنی کی یہ حالت ہے کہ مودی اب علی الاعلان پاکستان کوتوڑنے کااقرارواعتراف کررہے اوردھمکیاں دے رہے ہیں۔امسال بھی بھارت میں سرکاری سطح پر 16دسمبرکادن جشنِ فتح کے طورپرمنایا جارہاہے۔یہ بات یقینی ہے کہ جب فتح کاجشن منایاجاتا ہے تواس موقع پر جہاں حریف کی تباہی کے تذکرے ہوتے وہا ں اس کی مزید بربادی کے منصوبے بھی بنتے ہیں۔ گویا اب بھارت باقیماندہ پاکستان کے درپے ہے۔جس کااظہارمودی بلوچستان میں مداخلت کی صورت میں کرچکے ہیں۔بھارتی وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ بھی گذشتہ دنوں مقبوضہ جموں کشمیر کے دورے کے دوران مودی کی زبان بولتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ پہلے پاکستان کے دوٹکڑے کئے اب دس ٹکڑے کریں گے۔

یہاں یہ امر سمجھنا بھی ضروری ہے کہ اقوام متحدہ نے بھارت کو مشرقی پاکستان کاوکیل ہرگزمقررنہیں کیا تھااورنہ بنگالی مسلمانوں نے بھارت کواپناوکیل بنایا تھا بلکہ بھارت زبردستی ان کا وکیل بن بیٹھا تھااس کے برعکس پاکستان کو اقوام متحدہ کی وساطت سے پوری دنیا نے کشمیر کاوکیل تسلیم کررکھا ہے ۔کشمیری مسلمان ’’پاکستان کامطلب کیا،لاالہ الااللہ ‘‘کے نعرے لگاکرسینوں پر گولیاں کھارہے اورہم لاالہ الا اللہ کے تقاضوں کوسمجھ رہے ،نہ پوراکررہے، نہ حقِ مسلمانی اداکررہے اورنہ اہل کشمیر کی محبت کی قدردانی کررہے ہیں۔سچی بات یہ ہے کہ اگر ہم نے کلمہ توحید کے تقاضوں کوسمجھاہوتا توہمارے کشمیری بھائی یوں کسمپرسی وبے بسی کاشکار ہوتے اور نہ وہاں سے روزانہ لاشے اٹھ رہے ہوتے۔مقبوضہ جموں کشمیر میں اس وقت قیامت صغری کا منظربرپا ہے،پانچ ماہ سے زندگی مفلوج ہے ،ہڑتال اورکرفیو ہے،بچے بھوک سے بلک رہے ہیں۔دوسال کے بچوں سے لے کر30سال کے جوانوں کوپیلٹ گن کانشانہ بناکر بینائی چھینی جارہی ہے۔26سال کی تاریخ میں پہلی دفعہ دوہفتوں میں 50سے زائد افرادجام شہادت نوش کرچکے ہیں۔ستم یہ ہے کہ جب بھارتی وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ سے سری نگر میں اس اندھے ظلم وستم کے بارے میں پوچھا گیاتوانہوں نے نہایت ہی لاپرواہی سے کندھے جھٹکتے ہوئے کہا ۔۔۔’’افسوس کرنے سے کچھ نہیں ہوگا۔‘‘سفاک بھارتی حکمرانوں کا رویہ بتاتا ہے کہ انہیں کشمیر کے باشندوں کی نہیں، صرف سرزمین کشمیر کی ضرورت ہے۔یہی وجہ ہے کہ بھارتی حکمران ہرصورت کشمیری مسلمانوں کے حوصلے توڑنا اوران کے دلوں سے پاکستان کی محبت نکالنا چاہتے ہیں لیکن کشمیری قوم کے بہادر وشجاع سپوت پاکستانی پرچم سینوں سے لگائے ستونِ دارپرسروں کے چراغ رکھتے چلے جارہے اوراپنی ہمت و استعداد سے بڑھ کرجانی ومالی قربانیاں پیش کررہے ہیں۔ان حالات میں دیکھنا یہ ہے کہ ہم کیا کررہے ہیں ۔کیا ہم بھی پاکستان سے بے لوث محبت کرنے والے اہل کشمیرکے مٹ جانے کاانتظارکررہے ہیں۔اللہ نہ کرے۔ایسا وقت آنے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم اہل کشمیر کے مسائل ومصائب کوسمجھیں، ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں،اپنے اندر اتحاد واتفاق پیدا کریں ،تمام اختلافات کوبالائے طاق رکھ کرپوری قوت اوریکسوئی کے ساتھ بھارتی جارحیت کاجواب دیں اور مسئلہ کشمیرحل کروانے کی کوشش کریں۔ یہ بات طے ہے کہ مشرقی پاکستان پربھارتی جارحیت ناجائز اورغلط تھی اسی طرح مقبوضہ وجموں کشمیر پر بھی بھارتی قبضہ ناجائز اورغلط ہے۔ بھارت ہم پر جارحیت کرنے اوردھونس جمانے سے اب بھی بازنہیں آرہابلکہ اس کی جارحیت وتخریب کا سلسلہ بڑھتا ہی چلا جارہا ہے۔سو ان حالات میں اپنے وطن کے دفاع وبقا کے لئے ضروری ہے کہ بھارت کواس کی زبان میں جواب دیا جائے،سقوط مشرقی پاکستان کاقرض چکایا جائے اوراہل کشمیر کی جائز وکالت ومددکاحق اداکیا جائے۔

مزید : کالم