79 سال پہلے میرے جسم کو اس لڑکے نے اس جگہ سے نکالا تھا، وہ دن اور آج کا دن، ہم ساتھ ساتھ ہیں‘ شادی کی 77ویں سالگرہ منانے والے جوڑے کی ایسی پریم کہانی جسے سن کر آپ کو بھی پیار پر یقین آجائے گا

79 سال پہلے میرے جسم کو اس لڑکے نے اس جگہ سے نکالا تھا، وہ دن اور آج کا دن، ہم ...
79 سال پہلے میرے جسم کو اس لڑکے نے اس جگہ سے نکالا تھا، وہ دن اور آج کا دن، ہم ساتھ ساتھ ہیں‘ شادی کی 77ویں سالگرہ منانے والے جوڑے کی ایسی پریم کہانی جسے سن کر آپ کو بھی پیار پر یقین آجائے گا

  


واشنگٹن(نیوز ڈیسک) ہر کسی کو زندگی میں کبھی نا کبھی محبت کا تجربہ ضرور ہو جاتا ہے لیکن کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی محبت ایک داستان کی حیثیت اختیار کر جاتی ہے۔ معمر امریکی جوڑا ہوان اور ایرنی ایک ایسی ہی مثال ہیں، جن کی محبت کا آغاز بہت ہی ڈرامائی انداز میں ہوا اور پھر خوشیوں بھری طویل ازدواجی زندگی پیار کرنے والوں کے لئے ایک مثال بن گئی۔ 

دی مرر کے مطابق اس پریم کہانی کا آغاز اس وقت ہوا جب ہوان چیٹاک نامی 14سالہ لڑکی دریا میں نہاتے ہوئے ڈوب گئی لیکن عین اس وقت ایک بہادر لڑکے نے دریا میں چھلانگ لگا کر اسے موت کے پنجے سے چھین لیا۔ یہ 79 سال پہلے کی بات ہے اور لڑکی کی جان بچانے والا وہ لڑکا اب 94 سال کا ہو چکا ہے۔ ایرنی نامی لڑکے نے اس روز ہوان نامی جس لڑکی کی جان بچائی وہ اس کے عشق میں ایسی مبتلاء ہوئی کہ آج تک اس کی ہمدم ہے۔

ایرنی کہتے ہیں کہ انہیں آج بھی وہ دن یاد ہے جب انہوں نے ہوان کی زندگی بچائی۔ انہوں نے اس دن کو یاد کرتے ہوئے بتایا ’’یہ گرمیوں کی چھٹیاں تھیں اور ہم کچھ دوست دریا میں تیراکی کے لئے گئے تھے۔ تیراکی کے بعد ہم لوگ باہر آگئے لیکن ہوان ابھی بھی پانی میں موجود تھی۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور وہ مجھے نظر نہ آئی جس پر میں خوفزدہ ہوگیا۔ میں فوراً واپس بھاگا اور پانی میں چھلانگ لگادی۔ خوش قسمتی سے مجھے وہ نظر آگئی۔ اگرچہ اس کا جسم بے حس و حرکت تھا لیکن اس کی سانس چل ری تھی۔ میں اسے کھینچتا ہوا پانی سے باہر لے آیا۔‘‘

ہوان، جن کی عمر 93 سال ہو چکی ہے، کا کہنا تھا کہ ’’79 سال قبل ایرنی نے میرے نیم مردہ جسم کو دریا سے نکالا تھا اور اس دن کے بعد سے آج تک ہم اکٹھے ہیں۔ ایرنی میرا ہیرو ہے۔ اس نے میری جان بچائی اور وہ آج تک میرا ہیرو ہے۔ ہمیں قدرت نے ایک دوسرے کے لئے ہی بنایا تھا۔ کبھی کبھار ہمارے درمیان تکرار تو ہوجاتی ہے لیکن مجموعی طور پر ہماری زندگی بہت ہی پرسکون اور خوش گزری ہے۔ ہم دونوں بچپن سے ہی اکٹھے رہے ہیں۔ ہم سکول میں بھی اکٹھے پڑھتے تھے۔ بچپن میں ایک بار ایرنی اور اس کے دوستوں نے ہم سب لڑکیوں کو ٹافیوں کی پیشکش کی۔ میں نے کسی سے بھی ٹافی نہیں لی لیکن جب ایرنی نے مجھے ٹافی پیش کی تو میں نے شکریے کے ساتھ قبول کرلی۔ وہ مجھے شروع سے ہی اچھا لگتا تھا۔ ہماری شادی 1940ء میں ہوئی جب ایرنی کی عمر 17سال اور میری عمر 16 سال تھی۔ بعد میں وہ فوج میں چلے گئے اور شمالی افریقہ اور اٹلی میں بھی فرائض سرانجام دیتے رہے۔وہ واقعی ایک ہیرو ہیں۔‘‘

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...