خواتین عمر کے اس سال تک پہنچ جائیں تو آگے پوری زندگی بے حد خوش رہتی ہیں کیونکہ۔۔۔ ماہر نفسیات نے ایسا انکشاف کردیا کہ مردوں کی آنکھوں سے آنسو نکل آئیں گے

خواتین عمر کے اس سال تک پہنچ جائیں تو آگے پوری زندگی بے حد خوش رہتی ہیں ...
خواتین عمر کے اس سال تک پہنچ جائیں تو آگے پوری زندگی بے حد خوش رہتی ہیں کیونکہ۔۔۔ ماہر نفسیات نے ایسا انکشاف کردیا کہ مردوں کی آنکھوں سے آنسو نکل آئیں گے

  


لندن(نیوز ڈیسک) عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ جسم و ذہن ضعف کے شکار ہوتے چلے جاتے ہیں، بیماریاں انسان کو گھیر لیتی ہیں اور طرح طرح کے تفکرات دل میں گھر کر لیتے ہیں۔ ایسے میں یہ ممکن ہے کہ پیرانہ سالی میں انسان پریشان ہونے کی بجائے الٹا خوش ہونا شروع کر دے؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ سائنسدانوں نے خواتین کے متعلق کچھ ایسی ہی بات کہہ دی ہے۔

نیوز ویک کے مطابق ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ جو خواتین 85سال کی عمر کو پہنچ جائیں ان کی پریشانیاں کم ہو جاتی ہیں اور خوشیاں بڑھنے لگتی ہیں۔برطانیہ میں کی گئی اس تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ خواتین کی عمر جیسے جیسے بڑھاپے کو پہنچتی ہے ویسے ویسے ان کا ذہنی اطمینان بڑھتا جاتا ہے۔عموماًانہیں ابتدائی عمر میں ذہنی مسائل کا زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن آخری عمر میں ان کی ذہنی مسرت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

تحقیق کے مطابق نوجوان خواتین میں مجموعی طور پر ذہنی مسائل کی شرح 21 فیصد پائی گئی جبکہ اس کے برعکس مردوں میں یہ شرح 16 فیصد تھی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی ایک بڑی وجہ خواتین پر ذمہ داریوں کا زیادہ بوجھ ہے۔ گھر کی دیکھ بھال اور خصوصاً بچوں کی ذمہ داری ان کے لئے ذہنی پریشانی کا سبب بنتی ہے۔ بڑی عمر میں وہ بچوں کی دیکھ بھال سے فارغ ہوچکی ہوتی ہیں اور دیگر خاندانی ذمہ داریاں بھی کم رہ جاتی ہیں تو ان کی ذہنی صحت میں بہتری آنا شروع ہوجاتی ہے۔

نیشنل ہیلتھ سروے کے تحت کی جانے والی اس تحقیق میں 8ہزار سے زائد افراد سے مسرت، ڈپریشن، ذہنی پریشانی، بے خوابی اور خود اعتمادی جیسے موضوعات سے متعلقہ 12 سوالات کئے گئے تھے۔ اس سروے میں مجموعی طور پر 19 فیصد افراد ذہنی مسائل سے دوچار پائے گئے۔ ذہنی مسائل کا سب سے زیادہ شکار کم عمر خواتین پائی گئیں۔ ان کی اوسط عمر 16 سے 24 سال کے درمیان تھی اور ان میں سے تقریباً 28 فیصد ذہنی مسائل کا سامنا کررہی تھیں۔ 25 سے 34 سال کی خواتین میں ذہنی مسائل سے دوچار خواتین کی تعداد 18 فیصد تھی۔ خواتین میں بڑھاپے میں ذہنی مسائل کی شرح سب سے کم پائی گئی جو کہ 14 فیصد تھی۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...