مودی کا مضحکہ خیز دعویٰ

مودی کا مضحکہ خیز دعویٰ
 مودی کا مضحکہ خیز دعویٰ

  


بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے گجرات کے ریاستی انتخابات میں ’’پاکستان کارڈ ‘‘ کھیلتے ہوئے یہ الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان بھارتی ریاست گجرات کے ریاستی انتخابات میں کانگرس کے ذریعے مداخلت کر رہا ہے۔ کانگرس کے سیاستدان مانی شنکر آئر نے پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری، پاکستان کے ہائی کمشنر سہیل محمود، سابق بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ، سابق نائب صدر حامد انصاری سابق بھارتی آرمی چیف دیپک کمار سمیت کئی بھارتی صحافیوں کو دہلی میں اپنے گھر پر دعوت دی تاکہ پاک بھارت تعلقات پر ایک غیر سرکاری مکالمہ کیا جائے۔ اسی دعوت کو بنیاد بناکر مودی نے یہ الزام عائد کر دیا کہ پاکستان گجرات کے انتخابات میں بی جے پی کو ہرانے کے لئے کانگرس کے ساتھ گٹھ جوڑ کر رہا ہے۔ مودی کے اس انتہائی مضحکہ خیز دعویٰ پر پاکستان کے دفتر خارجہ کے ساتھ ساتھ کانگرس پارٹی نے بھی شدید ردعمل کا اظہا ر کیا ہے۔سابق بھارتی آرمی چیف دیپک کمار نے بھی مودی کے اس الزام کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس ملاقات میں بھارت کی داخلی سیاست کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی صرف پاک بھارت تعلقات ہی زیر بحث آئے بھارت کے انتخابات میں ’’پاکستان کارڈ‘‘پہلی مرتبہ نہیں کھیلا گیا۔ مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد یوپی، بہار حتیٰ کہ آسام کے ریاستی انتخابات میں بھی بی جے پی نے اپنے مخالفین کو پاکستان کا دوست قرار دیا تھا۔ دراصل ایسے معاشروں میں جہاں پر تعلیم، سوچ اور شعور کی کمی ہوتی ہے، عوام کے مسائل کا حقیقی حل تلاش کرنے کی بجائے مسائل کا ذمہ داریا تو بیرونی طاقتوں یا پھر چند سازشی مفروضات کو قرار دے دیا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی صورت حال زیادہ مختلف نہیں۔ ہمارے ہاں دہشت گردی، سیاسی عدم استحکام اور دیگر مسائل پر صحیح طرح غور کرنے کی بجائے صرف ’’بیرونی ہاتھ‘‘ کو ہی تمام مسائل کا ذمہ دار قرار دے دیا جاتا ہے۔ شاید ہی کوئی بڑا عالمی یا ملکی واقعہ ایسا ہو جس کے بارے میں ہمارے ہاں طرح طرح کے سازشی مفروضات اور کہانیاں نہ گھڑی گئی ہوں۔ ہماری سیاسی تاریخ خاص طور پر 90کی دہائی میں جتنے بھی انتخابات ہوئے، ان میں بڑی سیاسی جماعتیں اپنے مخالفین کو ’’بھارت کا ایجنٹ‘‘ ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتی تھیں۔ تاہم اگر آج کے تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کی انتخابی سیاست میں یہ مثبت تبدیلی ضرور دیکھنے میں آئی ہے کہ بھارت کے برخلاف اب پاکستان کی انتخابی مہم میں ’’انڈیا کارڈ‘‘ استعمال نہیں کیا جاتا۔ 2013ء کے انتخابات میں ملک کی تمام بڑی جماعتوں نے بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کی ہی بات کی تھی۔

جیسا کہ ذکر کیا جاچکا ہے کہ حکمران طبقات ہمیشہ مسائل کی حقیقی وجوہات تلاش کرنے کی بجائے ’’بیرونی ہاتھ‘‘ کا الزام لگا کر اپنی سیاست بچاتے ہیں۔ اب مودی نے بھی گجرات کی سیاست میں پاکستان پر مداخلت کرنے کا الزام عائد کر دیا۔ یہاں پر بنیادی سوال یہی ہے کہ آخر وہ کون سے ایسے عوامل ہیں جن کے باعث مودی نے بھارتی سیاست میں پاکستانی مداخلت کا الزام عائد کیا۔ حال ہی میں ہونے والے گجرات کے ریاستی انتخابات مودی اور بی جے پی کے لئے ایک طرح سے زندگی اور موت کا سوال ہیں، کیو نکہ گجرات وہ ریاست ہے جہاں پر بی جے پی گزشتہ 19سال سے حکمران چلی آرہی ہے اور ان میں سے12سال تک مودی ہی بھارت کی اس نویں بڑی ریاست کے وزیر اعلیٰ رہے۔ ’’گجرات ماڈل ‘‘کو ہی بنیاد بناکر مودی نے 2014ء کے انتخابات میں بھرپور کامیابی حاصل کی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ گجرات کو بی جے پی اور مودی کا انتہائی مضبوط گڑھ تصور کیا جاتا رہا ہے، مگر اس مرتبہ مودی اور بی جے پی کو گجرات میں بھاری اکثریت ملنا بہت مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مودی نے مرکز میں اپنا کام کاج چھوڑ کر گجرات کی انتخابی مہم اپنی قیادت میں ہی چلائی اور گجرات کے تمام 32 اضلاع کا خود دورہ کیا۔ اس ماہ کے آغاز میں رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق گجرات میں بی جے پی اور کانگرس کے درمیان کانٹے کے مقابلے کی توقع ہے، بلکہ بعض پولز کے مطابق تو کانگرس اور بی جے پی دونوں جماعتوں کو 43,43 فیصد کی حمایت حاصل ہے۔

کانگرس نے مودی کے دو ایسے اقدامات کا بھرپور فائدہ اٹھایا جس سے گجرات کا کاروباری طبقہ جو روایتی طور پر بی جے پی کا حامی تھا، اس سے ناراض ہوگیا۔ بڑے نوٹوں کو منسوخ کرنے کا فیصلہ اور دوسرا گڈز اینڈ سروسز ٹیکس کا نفاذ ان دونوں فیصلوں نے گجرات کی معیشت کو نقصان پہنچایا۔ اس کے ساتھ ساتھ کانگرس نے ذات پات کی سیاست کا فائدہ اٹھانے کے لئے بھی اہم رہنماوں کے ساتھ اتحاد کئے۔ ان میں ’’پاٹیدار انامت اندولن سمیتی‘‘ کے سربراہ ہاردک پٹیل کے ساتھ اتحاد انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ’’پاٹیدار انامت اندولن سمیتی‘‘ کو 2015ء میں قائم کیا گیا۔ اس تنظیم کا مطالبہ تھا کہ ’’پٹیل یا پاٹیدار‘‘ طبقے کے لئے بھی یونیورسٹیوں میں داخلوں اور نوکریوں کے لئے کوٹہ مقرر کیا جائے۔ اس تنظیم نے اپنی برادری کی بنا پر 2015ء کے موسم گرما میں گجرات میں بھرپور مظاہرے کئے حتی ٰکہ پر تشدد مظاہروں کے باعث گجرات کے کئی شہروں میں فوج کو بھی طلب کرنا پڑا۔ کانگرس نے ’’گجرات کھشتریا ٹھاکر سینا‘‘ کے راہنما الپیش ٹھاکر کے ساتھ بھی اتحاد کیا۔ ٹھاکروں اور پٹیل ذات کی حمایت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ کانگرس نے گجرات کی انتخابی مہم میں ہندو کارڈ کا بھی بھرپور استعمال کیا۔ راہول گاندھی نے گجرات کے بڑے مندروں میں پوجا بھی کی حتیٰ کہ راہول گاندھی نے سومنات کے مندر کا بھی دورہ کیا، اس مندر کو خود غیر جانبدار ہندو بھی انتہائی متنازعہ قرار دیتے ہیں۔ راہول گاندھی نے جب ہندو کارڈ کا استعمال کرتے ہوئے، اس مندر کا دورہ کیا تو اس وقت بھارت کے کئی سیکولر حلقوں نے راہول گاندھی کی اس بناپر مذمت بھی کی کہ سومنات مندر کو دوبارہ تعمیر کرنے کی مخالفت جس شخص نے سب زیادہ کی تھی، وہ کوئی اور نہیں خود راہول گاندھی کی دادی کے باپ اور پہلے بھارتی وزیر اعظم جواہر لعل نہرو ہی تھے۔ کانگرس نے گجرات کے ریاستی انتخابات میں جو حربے استعمال کئے، اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بی جے پی کی طرح کانگرس کے پاس بھی کوئی ایسا ٹھوس پروگرام نہیں ہے جس سے وہ مسائل حل کرسکے۔ یہی وجہ ہے کہ سیکولر ازم کا دعویٰ کرنے کے باوجود راہول گاندھی نے بھی نہ صرف ’’ہندو کارڈ‘‘ استعمال کیا، بلکہ اس انتخابی مہم میں 2002ء کے فسادات کا بھی خاص ذکر نہیں کیا گیا جس میں مودی کے ایما پر ہزاروں بے گناہ انسانوں اور مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔

جب کسی بھی فر سودہ سیاسی نظام میں کچھ دینے کی سکت نہیں رہتی تو ایسے میں سیاسی جماعتیں رنگ، نسل، زبان، ذات پات اور مذہبی جذبات کو ہی بنیاد بناکر سیاسی ڈھونگ رچاتی ہیں۔ آج اگر مشرقی ممالک کے ساتھ ساتھ مغربی ممالک کی سیاست کو بھی دیکھا جائے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ سیاست میں حقیقی نظریات کی بجائے جذبات کو پروان چڑھا کر سیاسی کا میابیاں حاصل کی جارہی ہیں۔ مغرب میں ڈونلڈ ٹرمپ اور مشرق میں نریندر مودی اس دعویٰ کی دو بڑی مثالیں ہیں۔

مزید : کالم


loading...