مشرقی پاکستان کی علیحدگی : بنیادی وجہ کیا تھی؟

مشرقی پاکستان کی علیحدگی : بنیادی وجہ کیا تھی؟
 مشرقی پاکستان کی علیحدگی : بنیادی وجہ کیا تھی؟

  

مشرقی پاکستان کی علیحد گی کا سبب جاننے کے لئے سب سے بڑی کسوٹی یہ سوال ہے کہ کیا ہم نے اس سے کوئی سبق سیکھا؟ اس کا جواب فوری طور پر نفی میں اس لئے آتا ہے کہ آج تقریباً نصف صدی بعد بھی صورت حال یہ ہے کہ بلوچستان کے حالات کو مشرقی پاکستان کے حالات سے تشبیہ دی جاتی ہے۔سندھ میں اگرچہ سندھو دیش کا زور ٹوٹ گیا ہے، لیکن سندھ کی سب سے بڑی جماعت پیپلز پارٹی کے سربراہ سندھ کارڈ کو ہی اپنا آخری کارڈ سمجھ کر سینے سے لگائے پھرتے ہیں۔ ادھر خیبر پختون خوا میں اگر چہ پختونستان کامسئلہ طالبان کی رو میں بہہ گیا ہے، لیکن یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ آئین پاکستان کو تسلیم نہ کرنے والے طالبان کی اکثریت پختونوں پر مشتمل ہے ۔سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہوئی کہ ہندوستان سے آکر سندھ میں آباد ہونے والے مسلمان جو 1971ء تک حب الوطنی کا سب سے اونچا پھریرا اٹھائے ہوئے تھے اور جے بنگلہ کانعرہ لگانے پر بنگالیوں کو غدار کہتے تھے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد جئے مہاجر کا نعرہ لگانے لگے ۔اس سے بھی بڑا سانحہ یہ ہوا کہ مشرقی پاکستان میں مقیم لاکھوں افراد جو بہار میں فسادات کے نتیچے میں پاکستان آئے تھے اور جنہوں نے پاکستان کو بچانے کی کوشش میں پاک فوج کا بھرپور ساتھ دیا تھا راتوں رات پاکستان کی شہریت سے محروم کر دئے گئے اور آج تک محروم ہیں ۔راتوں رات قومیت چھن جانے کی ایسی مثال جنگ عظیم سمیت دنیا کی تاریخ میں کہیں نہیں ملتی ۔

مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے سبق ہم اسی صورت میں سیکھ سکتے تھے جب ہم علیحدگی کی اصل وجہ ،خاص طور پر اس معاملے میں اگر اپنی کوئی غلطی تھی تو اس نیت سے جاننے کی کوشش کرتے کہ اسے دہرانے سے بچ سکیں، لیکن افسوس کہ ایسا نہیں ہوسکا۔اگرچہ بظاہر اس حوالے سے تحقیق میں مصروف متعدد سرکاری اور غیر سر کاری دانشور گذشتہ نصف صدی سے سر جوڑے بیٹھے نظر آتے ہیں، لیکن وہ سوائے چند ایک جذباتی نکات پر بحث اٹھانے کے کوئی ٹھوس وجہ بیان کرنے سے قاصر رہے ہیں ۔اس معاملے میں ان کی ناکامی کی بڑی وجہ ملک میں طاقت کا غیر معمولی توازن اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا انداز فکر ہے جس کے باعث شدت پسندی سے گریز اور عقل سلیم سے کام لینے کی گنجائش بہت کم رہ جاتی ہے چنانچہ شعوری یا لاشعوری طور پر حقائق سے چشم پوشی میں ہی عافیت نظر آتی ہے ۔

مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا حقیقی سبب جاننے کے لئے اس تاریخی تناظرکے علاوہ جس میں پاکستان وجود میںآیا تھا اس میں شامل ہونے والے ہر صوبے کے تاریخی پس منظر کو بھی جو اپنے اپنے جغرافیہ کے لحاظ سے جدوجہدا اور منفرد اہمیت کا حامل ہے ذہن میں رکھا جائے تو معاملے کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے ۔ ۔مشرقی پاکستان انگریزوں کی آمد کے وقت صرف بنگال تھا جہاں پانچ سو سال سے مسلمانوں کی حکومت چلی آرہی تھی ۔ انگریز نے جو اپنی ریشہ دوانیوں کے ذریعے بنگال میں داخل ہوئے تھے اپنی حکومت کو مضبو ط بنانے اور طول دینے کے لئے جو حربے استعمال کئے ان میں مسلمانوں کو کچلنے اور ہندووں کو غلبہ دلانے کی پالیسی بھی شامل تھی ۔ بنگالی سلمانوں کو صنعت وحرفت میں ترقی کے اعلی مقام سے گرانے کے لئے انگریزکس حد تک گرگئے تھے اس کا اندازہ اکثر دی جانے والی اس مثال سے کیا جاسکتا ہے کہ انہوں نے انتہانی نفیس ململ تیار کرنے والے کاریگروں کے انگوٹھے کٹوا د ئے تھے ۔ انگریزوں کی ان پالیسیوں کے نتیجے میں مسلمان کو صرف صنعت وحرفت میں ہی دھچکا نہیں لگا ،بلکہ وہ تعلیم میں بھی پیچھے رہ گئے اور فوج میں بھی نہ جاسکے ۔کچھ ایسی ہی صورت حال کا سامنا میانی کی جنگ کے بعد سندھیوں کو بھی کرنا پڑا یہی وجہ ہے کہ بنگالی اور سندھی تحریک پاکستان میں پیش پیش تھے تاکہ اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کرسکیں ۔قبضہ تو یوپی پر بھی انگریزوں نے فوج کشی کے ذریعے ہی کیا تھا اور 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد گلی گلی پھانسی گھاٹ لگا دئے تھے، لیکن وہاں سرسید احمد خاں کی تحریک کے باعث مسلمان خود کو مکمل تباہی سے بچانے کے لئے انگریزی میں تعلیم حاصل کرنے اور انگریزوں سے تعاون پر آمادہ ہوگئے جس کے نتیجے میں جہاں ایک طرف علیگڑھ یونیورسٹی میں تحریک پاکستان کی بنیاد پڑی تو دوسری طرف پاکستان بننے تک انڈین سول سروس اور برطانو ی فوج میں یوپی کے مسلمانوں کوسینئیر عہدوں سمیت قابل ذکر تعداد میں سرکاری نوکریاں حاصل ہوگئی تھیں۔ادھر پنچاب اور خیبر پختون خوا میں جہاں سکھوں کی حکومت تھی انگریز مسلمانوں کے محسن بن کر داخل ہوئے تھے، کیونکہ انہوں نے مسلمانوں کو سکھو ں کے جبر سے نجات دلا ئی تھی۔

اس صورت حال نے خود بخود ایسا ماحول پید اکردیا جس میں پنجاب کے ان غیر زرعی علاقوں سے جہاں سپہ گری مقبول پیشہ تھی اانگریز فوج کو بھرتی کے لئے جوان بڑی تعداد میں میسر آگئے۔ بلوچستان میں البتہ صورت حال مختلف تھی جہاں سے افغانستا ن فتح کرنے کے لئے راستہ بنانے کے دوران انگریز وں کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ چنانچہ مختلف تاریخی پس منظر لئے ہوئے ان پانچ اکائیوں کی باہمی رضامندی سے جب پاکستان بنا تو اسے چلانے کے لئے قابل اور تجربہ کار انتظامیہ کا بڑا حصہ یوپی کے مسلمان سرکاری ملازمیں کی صورت میں میسر آگیا جنہوں نے پاکستان آنے پر آمادگی ظاہر کی تھی ،جبکہ فوج کی تشکیل میں پنچاب نے اہم کردار ادا کیا ۔ نظام حیدر آباد دکن کی طرف سے ملنے والی بروقت مالی امداد کی طرح ملک کو چلانے کے لئے دستیاب سرکاری مشینر ی پاکستان کی خوش قسمتی تھی ورنہ وسائل سے مکمل طور پر محروم اس نو زائید ہ ملک کو جو دنیا میں مسلمانوں کی سبب سے بڑی مملکت کے طور پر ابھر ا تھا سنبھالنا کوئی آسان کام نہ تھا ۔ خاص طور پر اس پس منظر میں جب کانگریس یہ امید لگائے بیٹھی تھی کہ پاکستان حالات سے مجبور ہوکر چھ مہینے کے اندر اند ر واپس ہندوستان سے آملے گا۔ پاکستان کے اندر تاریخ کے بہاؤ سے جنم لینے والے حالات و واقعات کی ترتیب میں، کیونکہ نہ تو کوئی بد نیتی شامل تھی اور نہ ہی کوئی سازش اس لئے قائد اعظمؒ کی قیادت میں نئے نظم ونسق کو سب نے خوش آمدید کہا ۔ پاکستان بننے کے فوراً بعد مشرقی پاکستان میں پہلی ہلچل اس وقت مچی جب 1948ء میں قائد اعظمؒ نے اردو کو واحد قومی اور سرکاری زبان قرار دینے کا اعلان کیا۔ اُردو کو مشرقی پاکستان میں بے حد عزت واحترام کی نظر سے اس لئے دیکھا جاتا تھا، کیونکہ یہ ان کی مذہبی زبان تھی اور اسے وہی مقام حاصل تھا جو پاکستان میں عربی کو حاصل ہے، لیکن اس اعلان سے مشرقی پاکستان کے عوام میں بے چینی اس لئے بھی پیدا ہوئی تھی کہ اردو کے سرکاری زبان بننے کی صورت میں انہیں بھی سندھیوں کی طرح نچلے درجے کی سرکاری ملازمتیں ہا تھ سے نکلتی ہوئی دکھائی دینے لگیں۔اس بے چینی نے 1952ء میں اس وقت زور پکڑا جب گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین نے قائد اعظمؒ کے فرمان ک�آ اعادہ کیا اور اس نے تحریک کی شکل اس وقت اختیا ر کی جب اس سلسلے میں احتجاج کرنے والے طلبا پر پولیس نے گولی چلا دی ۔بہر حال یہ معاملہ سیا سی نوعیت کا تھا جو دو سال کے اندراندر باہمی رضامندی سے اردو اور بنگلہ دونوں کو سرکار ی زبان قرا ر دے کر طے کرلیا گیا ۔ انہی دنوں اسی نوعیت کا مسئلہ ہندوستان میں بھی پیدا ہوا جہاں گیارہ افراد کی ہلاکت کے بعد آسام کے ان تین اضلاع میں جہاں بنگالیوں کی اکثریت تھی بنگلہ کو سرکاری زبان کا درجہ دے کر یہ مسئلہ اسی طریقے سے حل کرلیا گیا جیسے پاکستان میں کیا گیا تھا۔

اس کے بعد رونما ہونے والے واقعات میں سب سے اہم جمہوریت کا خاتمہ اور مارشل لا کا نفاذ تھا جس کے باعث مشرقی پاکستان پر قدرتی طور پر مغربی پاکستان کی بالا دستی قائم ہوگئی اور جس کے نتیجے میں بڑی خاموشی سے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا راستہ ہموار ہوتا چلا گیا ۔مشرقی پاکستان میں مارشل لا کا خیر مقدم نہیں کیا گیا تھا البتہ 1960ء میں جب جنرل محمد اعظم خان مشرقی پاکستان کے گورنر بنے تو مشرقی پاکستان کے عوام سے اپنائیت کے اظہار کے باعث وہ بے حد مقبول ہو گئے ۔قابل غور بات یہ ہے کہ جنرل اعظم جو دو سال مشرقی پاکستان کے گورنر رہے فوجی بھی تھے پنچابی بھی تھے اور اردو بھی بولتے تھے، لیکن مشرقی پاکستان کے عوام ان پر جان چھڑکتے تھے ۔تو کیا وہ ایسا ہندووں کے یا ہندو ثقافت کے زیر اثر ہونے کی بنا پر کررہے تھے جس کا الزام ان پر مسلم لیگ ، جماعت اسلامی اور خود ایوب خاں نے لگایا اور پھریحییٰ خان دور میں اسی کو بہانہ بنا کر 71ء میں وہاں آپریشن کیا گیا ۔مشرقی پاکستان کے عوام جنرل اعظم سے جس قدر محبت کرتے تھے ان کے بعد ایوب خان کے نامزد کردہ بنگا لی گورنر منعم خاں سے انہوں نے اسی قدر نفرت اظہار کیا حالانکہ بنگالی قوم پرستی کے لحاظ سے تو معاملہ اس کے الٹ ہونا چاہئے تھا ۔مشرقی پاکستان کے عوام نے 65ء کی جنگ میں بھی بھر پور جوش خروش سے حصہ لیا تھا اور اس کے شہروں میں ہندوستان کے خلاف بڑے بڑے جلوس نکلے تھے ۔تو پھر وہ کب کہاں اور کیسے ہندووں یا ہندو ثقافت کے زیر اثر آگئے ؟ یا یہ کہ وہ کسی کے زیر اثر تھے یا نہیں تھے ہمارے لئے ان کے مسائل کو سمجھنا یا تو دشوار تھا یا پھر ہماری نیتوں میں فتور تھا ۔اصل مسئلہ کیا تھا اس کا ذکر بنگالی روزنامے اتفاق کے ایڈیٹر تفضل حسین مانک میاں نے 1969ء میں ایوب خاں کی گول میز کانفرنس کے زمانے میں شائع ہونے والے اپنے مضامین میں کیا ۔انہوں نے لکھا کہ ریاست کے چار اہم شعبے ہوتے ہیں ۔ نمائندہ پارلیمنٹ ، بیوروکریسی ، معیشت اور فوج ۔ان میں سے پارلیمنٹ عرصے سے کام نہیں کررہی ، بیوروکریسی میں مشرقی پاکستان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے ، اور فوج میں تو کوئی حصہ ہے ہی نہیں ۔معیشت میں دونوں صوبوں کے درمیان ناہمواری کو مغربی پاکستا ن والے بھی مانتے ہیں ۔چنانچہ ان حالات کے نتیجے میں اقتدار میں عدم شرکت کاروز بڑھتا ہوا احسا س یہ تا ثر پیدا کررہا ہے کہ مشرقی پاکستان کے عوام کسی شمار میں ہی نہیں۔

حکومت اسے تسلیم کرتی ہے اور کہتی ہے کہ یہ عدم توازن ایک دن میں دور نہیں ہوسکتا ۔فوج میں داخل ہونے کے لئے شرائط نرم کی گئی ہیں، لیکن اس میں بھرتی کے بعد پہلے چھوٹے یونٹ بنیں گے پھر بڑے یونٹ بنیں گے تب جا کر کوئی شکل بنے گی ۔ا س میں بھی ایک پروسس ہوگا ۔لگتے لگتے بھی سوسال لگیں گے ۔اس تناظر میں صرف پارلیمنٹ رہ جاتی ہے جس میں نمائندگی کے ذریعے اقتدار میں فوری شرکت کو یقینی بنایا جاسکتا ہے چنانچہ ساتھ لے کر چلنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ نمائندہ ادارے بحال کردئے جائیں اور جمہوریت کے بنیادی اصول کو تسلیم کرتے ہوئے ون مین ون ووٹ کی بنیاد پر جس صوبے کی جتنی نمائندگی بنتی ہے اسے دی جائے۔اگر صدر ایوب خان اور مغربی پاکستان کے سیاستدان یہ بات مان لیں تو یہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے ۔مانک میاں اگرچہ عوامی لیگ کے زبردست حامی تھے چھ نکا ت کی تحریک میں انہوں نے زبردست کردار ادا کیا تھا ،لیکن انہوں نے لکھا کہ وہ ایک پاکستان کے حامی ہیں۔ وہ ہرگز نہیں چاہتے کہ پاکستان ٹوٹ جائے، بلکہ وہ پاکستان کے اندر رہ کر اپنے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں ۔مانک میاں کے اس تجزئے سے یہ نتیجہ اخذ کرنا بے جا نہ ہوگا کہ حقیقی جمہوری سیاسی عمل ہی وہ راستہ تھا جس پر چل کربنگا لیوں کو اقتدار میں شرکت کااحساس دلایا جاسکتا تھا اور باقی ماندہ پاکستان میں بھی بلوچوں ، سندھیوں ، پشتونوں ،بلکہ پنجاب کے محروم طبقوں کو اقتدار میں شرکت کا موقع اسی سیاسی جمہوری عمل کے ذریعے فراہم کیا جاسکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جمہوری نظام حکومت میں بہت خامیاں ہیں اور بقول چرچل کے یہ بدترین نظام حکومت ہے ،لیکن بقول اسی کے اس سے بہتر بھی کوئی اور نظام حکومت نہیں۔پاکستان کے حوالے سے جمہوری سیاسی عمل کے حق میں یہی دلیل کافی ہے کہ اس نے خودبھی اسی کے ذریعے وجود میں آکر دنیا کے نقشے پر ایک نئی تاریخ مرتب کی تھی ۔

مزید : کالم