ایران نے سعودی عرب پر حملے کیلئے یمنی باغیوں کو میزائل فراہم کیے، امریکہ

ایران نے سعودی عرب پر حملے کیلئے یمنی باغیوں کو میزائل فراہم کیے، امریکہ

نیو یا رک (آن لائن)اقوام متحدہ میں امریکہ کی مستقل نمائندہ نکی ہیلی نے الزام عائد کیا ہے کہ ایران نے سعودی عرب پر حملے کے لیے یمن کے حوثی باغیوں کو میزائل فراہم کیے۔نکی ہیلی نے ایک بیلسٹک میزائل کے باقیات صحافیوں کو دکھائے جو گذشتہ ماہ ریاض ہوائی اڈے کے قریب گرائے گئے۔انھوں نے کہا، ’شاید اس پر میڈ ان ایران کے سٹیکرز بھی لگے ہوں۔ ‘انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایران اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔نکی ہیلی نے کہا کہ ’میزائل کے باقیات کی تکنیکی جانچ کے بعد سٹیبیلائزر فنز کی عدم موجودگی اور بہت سے والوز کو دیکھتے ہوئے یہ واضح ہے کہ میزائل ایران میں بنائے گئے ہیں۔ ‘انھوں نے کہا کہ یہ میزائل سینکڑوں عام لوگوں کو ہلاک کر سکتا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ ’ایران کی حکومت کا رویہ مسلسل بدتر ہو رہا ہے۔‘انھوں نے کہا کہ، ’ہمیں اس بارے میں آواز اٹھانا ہوگی اور ایران کی حکومت کے عزائم کو سامنے لانا ہوگا، جو پوری دنیا کی امن اور سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔‘نکی ہیلی نے کہا کہ وہ بین الاقوامی تعاون اور شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے خفیہ معلومات سامنے لانے جیسا غیر معمولی قدم اٹھا رہی ہیں۔انھوں نے کہا، ’عالمی امن اور سلامتی اس بات پر منحصر ہے کہ ہم ایران کے جارحانہ رویے کے خلاف مل کر کام کریں۔‘ انہو ں نے کہا ہے کہ ایران مشرق وسطی میں کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے اور امریکہ اس کے خلاف بین الاقوامی اتحاد تیار کرے گا۔ ان میں سفارتی اقدامات شامل ہوں گے۔ ادھر ایرانی مشن کے ترجمان کے بیان میں کہا گیا کہ ، ’یہ الزامات یمن میں امریکہ سازش کے تحت سعودی عرب کی جانب سے کیے جانے والے جنگی جرائم کو چھپانے کی ایک کوشش بھی ہیں۔

‘اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گٹرس کی ایک رپورٹ کے مطابق، جولائی میں مکہ کے قریب گرنے والے میزائل ریاض ہوائی اڈے کے قریب گرنے والے میزائل ایک ہی جگہ بنائے گئے۔ایران کی وزراتِ خارجہ نے پہلے ہی کہا تھا کہ نومبر میں میزائل حملہ سعودی اتحادی کے حملے کے جواب میں، حوثی باغیوں کی جانب سے کی گئی ’خود مختار کارروائی‘ تھا۔

مزید : عالمی منظر


loading...