میر علی ڈرون حملہ کی ایف آئی آر ، اسلام آباد ہائی کورٹ میں آئی جی طلب

میر علی ڈرون حملہ کی ایف آئی آر ، اسلام آباد ہائی کورٹ میں آئی جی طلب

اسلام آباد(صباح نیوز)اسلام آباد ہائی کورٹ نے میر علی ڈرون حملہ کیس میں ایف آئی آر کے اندراج پر آئی جی اسلام آباد اور ایس ایچ او نواز بھٹی کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔جمعہ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے 2009ء ہونے والے میرعلی میں ڈرون حملے کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج پر عمل درآمد کیس کی سماعت کی ۔وفاق کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل میاں عبدالرف اور درخواست گزار کریم خان کے وکیل مرزا شہزاد اکبر عدالت میں پیش ہوئے ، جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیئے کہ ذمہ داری سے بھاگنے والا کام قابل قبول نہیں ۔ ایف آئی آر درج ہے قانون کے مطابق اس پر کام نہیں کر سکتے ۔ عدالتی حکم کے باوجود آپ نے معاملہ کہیں اور بھیج دیا یہ توہین عدالت ہے ، عدالت نے آئی جی اسلام آباد اور ایس ایچ او نواز بھٹی کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت15جنوری تک ملتوی کر دی۔واضح رہے کہ 13 نومبر میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے میرعلی ڈرون حملہ کیس میں ایڈووکیٹ جنرل کی عدم پیشی پراظہاربرہمی کرتے ہوئے کہا تھا کہ آئندہ سماعت پر ایڈووکیٹ جنرل پیش نہ ہوئے تو درخواست گزار کا موقف سن کر فیصلہ کریں گے۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس میں کہا کہ ڈرون حملہ پاکستان کی سالمیت کا معاملہ ہے، وفاق اوروزارت داخلہ سنجیدگی کا مظاہرہ کریں، ایڈووکیٹ جنرل کہیں اور حاضری لگانے سے بہتر ہے اپنی کارکردگی کو بہتر بنائیں۔واضح رہے کہ31 دسمبر2009ء کو میر علی میں ڈرون حملے میں کریم خان کے بھائی آصف اقبال اور بیٹا زعیم اللہ مارے گئے تھے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر قتل کا مقدمہ سابق سی آئی اے اسٹیشن چیف جوناتھن اور لیگل کونسل جون اپروز کے خلاف درج ہوا تھا۔

ڈرون حملہ

مزید : علاقائی