تھانوں میں پولیس کا ہونا نہ ہونا برابر ، انصاف کا حصول بھیک سے مشکل ہو گیا ، پاکستان سروے

تھانوں میں پولیس کا ہونا نہ ہونا برابر ، انصاف کا حصول بھیک سے مشکل ہو گیا ، ...

لاہور(حماد سعید تصاویر ذیشان منیر) تھانوں میں پولیس کا ہونا یا نہ ہونا ایک برابر ہے جہاں پر شہریوں کو انصاف تو درکنار بھیک بھی ملنا ناممکن ہو گیا ہے،پولیس سیاسی کاموں میں مشغول نظر آتی ہے یہاں بھی غریب کے لئے کوئی کام نہیں کیا جاتا ،علاقہ میں چوری ڈکیتی میں کمی ہوئی ،پولیس کے اختیارات کو کم کر کے اس کو حقئیقی طور پر لوگوں کا خدمت گزار بنانا ضروری ہوگا ،دھرنوں اور احتجاجوں کے لئے الگ شعبہ ہونا چاہئے جب بھی تھانے میں بلایا جاتا ہے تو پولیس کا عملہ خود غائب ہو جاتا ہے اور اطلاع یہی ملتی ہے کہ وہ نقس امن کی ڈیوٹیوں پر گیا ہوا ۔علاقہ میں موجود ہوٹلوں سے اصل برائی جنم لے رہی ہے ان ہوٹلوں کے خلاف کریک ڈاؤن نہیں بلکہ ان کا خاتمہ کرنا ضروری ہے ،چیکوں کے مقدمات سے پولیس کا وقت ضائع کیا جارہا ہے امن و امان کی بہتری کے لئے پولیس سے سیاسی مداخلتیں ختم کرنا ہونگی تھانہ سول لائن کے علاقہ میں مقیم رہائشیوں کا روزنامہ پاکستان سروے میں اظہار خیال۔تھانہ سول لائن کا علاقہ مال روڈ ،گنگا رام چوک ،ڈیوس روڈ ،ایجرٹن روڈ ،لارنس روڈ ،میسن روڈ پر مشتمل ہے جہاں کئی ایک اہم عمارتیں جس میں سی سی پی او آفس ،سٹاک ایکسچینج ،الحمراء گورنر ہاؤس سمیت دیگر کئی اہم عمارتیں موجود ہیں جہاں روزانہ کی بنیاد پر پولیس اہلکار ڈیوٹیاں سر انجام دیتے ہیں اس کے ساتھ وی آئی پیز ڈیوٹیوں کے حوالے سے سول لائن پولیس مشہور جانی جاتی ہے سول لائن کے علاقہ میں ر ہائش پزیر مکینوں نے روزنامہ پاکستان پولیس سروے کے دوران روزنامہ پاکستان کی ٹیم سے بات کرتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اپنی آراء کا اظہار کیا اس موقع پر محمد علی کا کہنا تھا کہ یہاں پولیس کے پاس عوام کے لئے کوئی وقت موجود ہی نہیں ہے یہ تو صرف حکام بالا کی بھلائی کے لئے تھانہ بنا یا گیا ہے تاکہ ان کی سکیورٹی کی جاسکے لوگوں کے مسائل کے لئے ان کے پاس کوئی وقت موجود نہیں ہے ،محمد منشئا اللہ کا کہنا تھا پولیس کا کردار کسی بھی معاشرہ میں انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے پنجاب پولیس کسی بھی تعارف کی محتاج نہیں ہے اور تھانہ سول لائن پولیس کے کیا کہنے یہاں پر پولیس انتہائی محنتی ہے یہ لوگوں کے کام آئے نہ آئے عوامی مسائل حل ہوں یا نہ ہوں حکمرانوں کے مسائل ضرور حل ہوتے نظر آتے ہیں اس میں صرف حکومتہی نہیں اپوزیشن بھی برابر ہی نظر آتی ہے ۔محمد اکرم کا کہنا تھا کہ تھانہ میں ایس ایچ او خود ٹائم دیتا ہے مگر کبھی بھی وقت پر کوئی افسر نہیں ملتا اور پتہ چلتا ہے کہ تھانہ میں پولیس موجود ہی نہیں کیونکہ یہ تو امن و مان کی ڈیوٹیاں ادا کرنے گئے ہوئے ہیں رانا اویس کا کہنا تھا کہ ہمارے علاقہ میں پولیس امن و مان کے لئے کم اور لوگوں کی ڈوبی ہوئی رقوم نکلوانے میں زیادہ مستعد نظر آتی ہے یہاں پر تھانہ سول لائن میں ہر دوسرا مقدمہ 489ایف کا ہوتا ہے ۔رانا اشر اور طارق نے روزنامہ پاکستان سے بات کرتے ہوئے کہا ہمارے پورے علاقہ میں چوری ڈکیتی کی وارداتیں شائد اکا دوکا علاقوں میں ہوتی ہیں مگر ان کا اثر پورے علاقہ میں ہوتا ہے مگر یہ بات طے ہے پولیس ان کو روکنے میں ناکام نظر آتی ہے اب تو پولیس کی بجائے لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت سکیورٹی رکھ لی ہے اور گلیوں میں گیٹ لگوانا شروع کر دیئے ہیں لہذا پولیس کا ان علاقوں میں ہونا نہ ہونا ایک برابر ہی ہے جن علاقوں میں سکیورٹی کی ضرورت ہے ان میں پولیس کی نفری کم نظر آتی ہے ۔اگر لوگوں کے مسائل کا درست حل چاہئے تو پولیس کو سہولیات دینا ہونگی سب سے پہلے پولیس کو آرام کرنے کا حق حاصل ہے یہاں پر پولیس کو 24گھنٹے کام میں رکھا جاتا ہے ان کی کوئی ٹائمنگ نہیں ہوتی ،پولیس کے لئے کھانا کھانے کی سہولت نظر نہیں آتی تو پھر سب اچھا کیسے ممکن ہو گا حکمرانوں کو چاہئے کہ نقس امن کے لئے الگ پولیس ہونا چاہئے ۔عرفان خان کا کہنا تھا کہ پولیس کو ٹھیک کرنا ہے تو پھر اس میں سے سیاسی مداخلتوں کو ختم کرنا ہوگا پھر ہی پولیس سے کام لیا جاسکتا ہے اور وہ عوامی مسائل کو حل کر سکیں گے ۔

مزید : علاقائی


loading...