بیوی کو طلاق دینے پر 2بچوں کا ماہانہ خرچہ 14ہزار روپے ادا کرنے کا حکم

بیوی کو طلاق دینے پر 2بچوں کا ماہانہ خرچہ 14ہزار روپے ادا کرنے کا حکم

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکوٹ نے طلاق کے بعد دو بچوں کا ماہانہ خرچہ 10ہزار روپے ادا کرنے کی ڈگری کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ اگر درخواست گزار بچوں کا خرچہ نہیں اٹھا سکتا تھا تو شادی ہی نہ کرتا، عدالت نے فریقین کونوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔مسٹر جسٹس شمس محمود مرزا نے رضوان اختر کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ فیملی عدالت نے رضوان اختر کی بیوی سے علیحدگی کے بعد دو بچوں کا ماہانہ 20ہزار روپے خرچہ مقرر کیا ہے اور مہنگائی کے دور میں دو سال سے کم عمر بچوں کا 20 ہزار روپے ماہانہ خرچہ بہت زیادہ ہے، انہوں نے مزید موقف اختیار کیا درخواست گزار انتہائی غریب آدمی ہے اور اس نے ابھی اپنی 6بہنوں کی شادی بھی کرنی ہے ،فیملی کورٹ کے 20ہزار روپے کے بچوں کے ماہانہ خرچے کو کم کر کے 8ہزار روپے کیا جائے، عدالت نے درخواست گزارکی سرزنش کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ اگر رضوان اختر بچوں کی پرورش نہیں سکتا تھا تو شادی ہی نہ کرتا، آج کے دور میں تو اڑھائی ہزار روپے کے تو صرف ڈائپر آتے ہیں جس پر درخواست گزار کے وکیل نے استدعا کی کہ دو بچوں کا مجموعی طور پر 12ہزار روپے خرچہ مقرر کرنے کاحکم دیا جائے ،فاضل جج نے ریمارکس دیئے کہ درخواست نے اپنے ہی بچوں کو خرچہ دینا ہے ،اس سلسلے میں کنجوسی نہ کرے، عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے درخواست گزار کو دو بچوں کا ماہانہ خرچہ 14ہزار روپے ادا کرنے کا حکم دے دیاہے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...