خان اہل ،ترین نا اہل۔۔۔اب کیا ہوگا؟

خان اہل ،ترین نا اہل۔۔۔اب کیا ہوگا؟
 خان اہل ،ترین نا اہل۔۔۔اب کیا ہوگا؟

  


پانامہ کیس کے بعد جہانگیر ترین کی نا اہلی، عمران خان کی اہلیت اور شریف برادران کے خلاف حدیبیہ پیپر ملز کا کیس نہ کھولنے کے تاریخی فیصلوں کے بعد جمعۃ المبارک کے دن کو عدالتی تاریخ میں ایک اہم مقام حاصل ہو گیا ہے۔اس نوعیت کے اہم ترین فیصلوں کے لیے جمعہ کے دن کا ہی انتخاب کیوں کیا جاتا ہے۔اس حوالے سے تو سپریم کورٹ کی انتظامیہ ہی جواب دے سکتی ہے۔البتہ گزشتہ روز جو تاریخی فیصلے آئے ان کے پاکستان کی سیاست پر دوررس نتائج مرتب ہونگے۔

عمران خان نے عدالتی فیصلے کو تسلیم تو کیا ہے البتہ اپنے ساتھی جہانگیر ترین کو ٹیکنیکل بنیادوں پر آوٹ کرنے کے حوالے سے شکوہ بھی کیا ہے۔ساتھ ہی ساتھ جہانگیر ترین کو نا اہلی کے باوجود کام جاری رکھنے کی ہدایت جاری کر دی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ میاں نواز شریف کی نا اہلی کو اہلیت میں بدلنے کے فیصلے کا براہ راست فائدہ پی ٹی آئی نے بھرپور طریقے سے اٹھایا ہے۔حالانکہ اس بل کی مخالفت عمران خان نے بھی کی تھی۔فیصلے کے بعد عمران خان کی باڈی لینگوئج بتا رہی تھی کہ انکو اپنے ناٹ آؤٹ ہونے کی خوشی ضرور ہوئی ہے لیکن جہانگیر ترین کی نا اہلی کا فیصلہ انکے چہرے سے عیاں تھا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ جہانگیر ترین سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے بزنس مین ہیں۔یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے کہ ایسے لوگوں کو نا اہلی کے بجائے تمغے دینے کی ضرورت ہے۔دوسری طرف جہانگیر ترین نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ انکے خلاف کرپشن کا کوئی الزام ثابت نہیں ہوا۔ میں نے جب جہانگیر ترین کا سوشل میڈیا پر بیان پڑھا تو مجھے آج نواز شریف اور جہانگیر ترین کے موقف میں کوئی فرق نظر نہیں آیا۔ نواز شریف بھی جگہ جگہ جلسے جلوسوں اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یہی ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ ان پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں، اسی طرح اب جہانگیر ترین بھی اسی نوعیت کی صفائیاں دیا کریں گے لیکن سچ یہ ہے کہ میاں نوازشریف بھی آج کے دن تک کے لیے نااہل ہیں اور جہانگیر ترین بھی اب نااہل ہوچکے ہیں، کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ جہانگیر ترین کا عمران خان کو بچانے کے لیے صدقہ دیا گیا ہے لیکن میں اس کو مکافات عمل بھی سمجھتا ہوں۔ ابھی کل کی بات ہے جہانگیر ترین نواز شریف کی نا اہلی کے لیے دنیا بھر سے کاغذات اور طرح طرح کے ثبوت اکٹھے کر رہے تھے اوراب وہ خود بھی اسی طرح کے ثبوتوں کی بنیاد پر ٹیکینکل نا اہل ہو گئے ہیں۔دوسری طرف میاں شہبازشریف نے حدیبیہ پیپر ملز کا فیصلہ اپنے حق میں آنے پر خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ آخر ی فتح حق اور سچ کی ہوئی ہے جس عدالت سے ن لیگ کی حکومت ناصرف شاکی ہے بلکہ کھل کر اس پر تنقید بھی کر رہی ہے اس عدلیہ سے پہلے ٹائم ن لیگ کو ریلیف ملا جبکہ سیکنڈ ٹائم پی ٹی آئی کو ادھوری خوشی مل گئی،دونوں پارٹیوں کے کارکن سپریم کورٹ کے باہر فیصلے سے پہلے ایک دوسرے کو گھور رہے تھے فیصلہ آنے کے بعد ن لیگ اور پی ٹی آئی کے ورکرز بیک وقت مٹھائیاں تقسیم کرتے ہوئے نظر آئے اس کو حسن اتفاق کہا جائے یا جمعتہ المبارک کی برکت یا پھر یہ سمجھ لیا جائے کہ ن لیگ کی قیادت میں سے ایک بھائی کے اقتدار کا سورج غروب اور دوسرے کا طلوع ہو رہا ہے بہرحال آج اس معاملے کو یہیں چھوڑتے ہیں اورجائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں کہ عمران خان کے نااہل نہ ہونے اور حدیبیہ پیپرز کے فیصلے میں شریف برادران کو ریلیف ملنے کے بعد ملکی سیاست کیا شکل اختیار کرے گی ۔شیخ رشید کا خیال ہے کہ عمران خان عدالتی فیصلے کے بعد اب وزارت عظمیٰ کے لیے پکے امیدواربن گئے ہیں جبکہ با خبر حلقوں کا دعویٰ ہے کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے درجنوں ارکان اسمبلی جن میں اکثریت مسلم لیگ نواز کی ہے وہ عمران خان کے اس فیصلے کا انتظار کر رہے تھے ۔ اب وہ آنے والے چند ہفتوں میں پی ٹی آئی کو جوائن کرناشروع کر دینگے۔اسی طرح کچھ بچے کھچے حضرات ق لیگ اور پی پی پی کا بھی رخ کرینگے ۔حدیبیہ پیپر کا فیصلہ شریف برادران کے حق میں آنے کے بعد ن لیگ کی تقسیم کو بچانے کے لیے شہباز شریف کا کردار اہم ہوگا۔جو حدیبیہ کیس سے بچنے کے بعد ماڈل ٹاؤن کیس سے اپنی جان چھڑانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چند ہفتوں کے دوران ملک کی سیاسی صورتحال کافی حد تک تبدیل ہو جائے گی جس کے بعد حکومت قبل از وقت انتخابات کے آپشن پر عمل کر سکتی ہے ۔ذمہ دار ذرائع کا دعویٰ ہے کہ میاں شہباز شریف اور شاہد خاقان عباسی پہلے ہی اس آپشن کے حامی ہیں کہ ن لیگ کو فوری طور پر عام انتخابات کی طرف چلے جانا چاہیے۔لیکن میاں نواز شریف اور انکے دیگر ساتھی اس رائے کی مخالفت کر رہے ہیں دوسری جانب اپوزیشن جہاں دسمبر کے آخر اور جنوری کے آغاز میں حکومت کے خلاف دھرنوں کا آپشن اختیار کرے گی وہاں پر اپوزیشن متفقہ طور پر جنوری کے پہلے یا دوسرے ہفتے میں اجتماعی استعفوں کی آپشن بھی استعمال کر سکتی ہے اور حکومت کو قبل ازوقت انتخابات کے لیے مجبور کر سکتی ہے، یہی وہ وجوہات ہیں جنکی بنیاد پر ایازصادق کہتے ہیں کہ اسمبلیاں اپنی مدت پوری نہیں کرینگی۔ملک مین نئی عبوری حکومت کے ایشو پر ایک آئینی بحران سامنے آسکتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ جب یہ بات بھی گردش کر رہی ہو کہ عبوری حکومت لمبی مدت کے لیے ہو گی تو پھر اہلِ سیاست کا خوفزدہ ہونا فطری امر ہے اگر ایسا ہوتا ہے تو اگلا راستہ سپریم کورٹ سے ہو کر نکلے گا یا پھر کسی اور ادارے کو کردار اد اکرنا پڑے گا۔اس کے بارے میں کسی بھی طرح کی پیشگوئی ابھی قبل از وقت ہوگی۔

مزید : کالم


loading...