میاں صاحب کو اللہ نے نکالا ، جج وسیلہ بنے : زرداری ، میرا ساتھ دیں جنوبی پنجاب کو صوبہ بناؤں گا : بلاول

میاں صاحب کو اللہ نے نکالا ، جج وسیلہ بنے : زرداری ، میرا ساتھ دیں جنوبی پنجاب ...

ملتان (نیوز رپورٹر، سپیشل رپورٹر) پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے ملک کو معاشی اور سیاسی طور پر گھٹا ٹوپ اندھیروں میں دھکیل دیا ہے، انہیں سی پیک کی تعریف کرنا بھی نہیں آتا، اقتصادی راہداری کو انہوں نے قرض لینے والی ایجنسی سمجھ رکھا ہے، پاکستان پیپلز پارٹی کو جب اقتدار ملا مشرف ان کے سینوں پر بیٹھے ہوئے تھے ، نواز شریف خود ہی اس ڈکٹیٹر کو لائے تھے مگر ہم نے مشرف کو مکھن سے بال کی طرح نکالا تاکہ ملک کو کچھ نہ ہو۔ملتان میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے آصف علی زرداری نے کہا کہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ہمیں ملک ٹکڑوں میں ملا تھا۔ نواز شریف فرعونیت کی انتہاؤں کو چھو رہے تھے،یہ لوگوں سے پوچھ رہے ہیں انہیں کیوں نکالا، میاں صاحب! آپ کو اللہ نے نکالا وسیلہ جج بنے ، قومی اسمبلی کے اسپیکر کہتے ہیں کہ شاید حکومت جانے والی ہے تو میں کہتا ہوں کہ جانے والی نہیں بلکہ آپ کی حکومت جارہی ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی نے حکومت کے خلاف ابھی تک کوئی سازش نہیں کی ہوسکتا ہے کل کر دیں۔نوازشریف پاکستانی عوام پر عذاب بن گئے تھے ان سے ملک کا کوئی طبقہ خوش نہیں تھا۔ان سے صرف ان کے قریبی چار پانچ افراد ہی خوش تھے جن پرمیاں صاحب نوازشات کی بارش کر رہے تھے۔ نوازشریف پوچھتے پھرتے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا، میں انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ فرعونیت سے آگے کوئی جگہ نہیں تھی، ہر چیز کی ایک انتہا ہے اور آپ انتہا کی عروج پر تھے کوئی ان سے خوش نہیں صرف ان کے4 ، 5 لوگ ہی خوش ہیں۔

زرداری

ملتان (نیوز رپورٹر، سپیشل رپورٹر) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ نواز شریف نے جس ایوان سے طاقت حاصل کی تھی اسی ایوان کی بے توقیری کا سبب بنے ۔ پچھلے چار سالوں سے ملک پر شخصی آمریت قائم رہی ہے آج اگر حکومت کمزور ہے تو اس کا سبب نواز شریف ہیں اگر پارلیمنٹ کمزور ہے اور عوام بد حال ہیں تو ان سب کی وجہ نواز شریف ہیں ملک میں فتوے دیے جارہے ہیں کہ اسلام خطرے میں ہے جس ملک میں نوے فیصد مسلمان رہتے ہوں وہاں اسلام خطرے میں نہیں ہوسکتا ان کے حلوے خطرے میں ہیں اسلام نہیں۔ہم مذہب اور سیاست کے گٹھ جوڑ کو نہیں مانتے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ملتان کے قلعہ کہنہ قاسم باغ سٹیڈیم میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف پر ان دنوں نظریات کا بھوت سوار ہے۔ ان سے پوچھنا چاہوں گا کہ آپ کا نظریہ آخر ہے کیا یہ وہی نظریہ تو نہیں ہے جو جنرل ضیاء الحق کی قبر پر کھڑے ہو کر آپ نے عہد کیا تھا کہ ڈکٹیٹر کے مشن کی تکمیل کروں گا یا پھر جونیجوسے لیکر گیلانی تک ملک کے تین وزراء اعظم کیخلاف سازشیں آپ کا نظریہ ہے اسامہ بن لادن کی دولت سے محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت گرانے کا نام نظریہ ہے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے غلامی میں جکڑے طبقات کو خود داری کا احساس دے کر کھڑا کیا انہیں حقوق دیے لیکن پھر ضیاء الحق نے آگے بڑھتے سفر کو روک دیا لوگوں کے حقوق غصب کیے گئے۔ جنرل ضیاء الحق اور اس کے حواریوں نے یونین سازی پر بندش عائد کرکے جیلوں کے دروازے کھول دیے لوگوں کو کوڑوں سمیت طرح طرح کی اذیتیں دی گئیں۔ جو آخری دم تک کانٹے چنتے رہے وہ جیالے تھے آگے بڑھتے گئے۔ ایک لمحہ بھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور جو مظالم ڈھا رہے تھے وہ ڈکٹیٹر کے حواری تھے۔ انہوں نے کہا کہ آج آپ کے تعاون سے ان قوتوں کے خلاف جنگ لڑنے کا اعلان کرتا ہوں انہوں نے کہا کہ 1978ء میں جب کالونی ٹیکسٹائل مل کے مزدوروں نے ہڑتال کی تو ان کے ساتھ وہی کچھ کیا گیا جو شکاگو میں مزدوروں کے ساتھ کیا گیا تھا میں آج کالونی ٹیکسٹائل مل کے مزدوروں کو سلام پیش کرتا ہوں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ چھوٹے میاں صاحب یہ سمجھ رہے ہیں کہ بڑے میاں صاحب نے سارا بوجھ اٹھالیا ہے اب انہیں کوئی نہیں پوچھے گا۔ ایسا نہیں ہے آپ کوبھی حساب دینا ہوگا ماڈل ٹاؤن کے 14قتل کا حساب تو ضرور دینا پڑے گا چھوٹے میاں نے لاہور میں پھولوں کی آرائش پر جتنا بجٹ خرچ کیا ہے اس سے کہیں کم پورے جنوبی پنجاب کا بجٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ خان صاحب جس انداز سے سیاست کررہے ہیں انہیں سیاست کے اصول سیکھنے چاہیں بیرونی اثاثوں کی سیاست کرتے کرتے بیرونی اثاثوں والوں کے ہتھے چڑھ گئے ہیں عمران خان یوتھ کی سیاست کا دعویٰ کرتے ہیں خان صاحب کی اپنی عمر کیا ہے آپ نے یوتھ کیلئے کیا کیا ہے ایک یوتھ ہے جسے زندگی میں مواقع میسر ہیں ایک وہ یوتھ ہے جو روز گار سے محروم ہے جبکہ ایک یوتھ وہ بھی ہے جو یونیفارم کے ساتھ اپنی جانوں کے نذرانے دے رہی ہے۔ خان صاحب یہ آپ کا آخری اور میرا پہلا الیکشن ہوگا بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ن لیگ نے جنوبی پنجاب کے عوام کے جذبات کی ترجمانی کی ہے نہ ہی آپ کے حالات سدھارنے کی مخلصانہ کوشش کی ہے اس خطے کیلئے جب بھی بہتری کی کوشش کی گئی ہے تو وہ صرف پیپلز پارٹی نے کی ہے جس نے ہمیشہ جنوبی پنجاب کو روزگار کی فراہمی سمیت وافر مقدار وسائل فراہم کیے ہیں ہم نے جب جنوبی پنجاب صوبہ کی بات کی تو ن لیگ نے نہ صرف پارلیمنٹ میں بلکہ باہر بھی مخالفت کی ہے۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے سینٹ میں بل کی منظوری کے باوجود ن لیگ نے پارلیمنٹ میں کھل کر مخالفت کرکے بل پاس نہیں ہونے دیا انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کے عوام کے ساتھ کھڑا ہوں لیکن اکیلا کچھ نہیں کرسکتا۔ مجھے آپ کی طاقت چاہیے اگر آپ میرا ساتھ دیں گے تو میں آپ کو صوبہ بنا کر دکھادوں گا ’’گھنسو ں گھنسوں صوبہ گھنسوں‘‘ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ صوفیہ کرام کا شہر ہے سرائیکی بڑی میٹھی زبان ہے جو چاروں صوبوں میں بولی جاتی ہے 1970ء میں ذوالفقار علی بھٹو اور بعد میں محترمہ بینظیر بھٹو اسی جگہ کامیاب جلسے کرچکے ہیں میں بھی آج آپ سے اسی مقام سے مخاطب ہوں جہاں اس شہر کو اولیائے کرام کا شہر کہا جاتاہے وہیں مزاحمت کا شہر بھی کہلاتا ہے ضیاء الحق کے دور میں مارشل لاء کیخلاف چلنے والی تحریکوں کا مرکز رہا ہے اور جیالوں نے کوڑوں سمیت جیل کی صعوبتیں برداشت کی ہیں لیکن ان کے حوصلے ماند نہیں ہوئے ۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی ہمیشہ کسان دوست پالیسی رہی ہے ہمارے دور اقتدار میں کسانوں کو اپنی پیداوار کی معقول قیمتیں مل رہی تھیں جب نواز دور میں کسانوں کا کوئی پر سان حال نہیں ہے۔ جو کسان پورے ملک کو اناج فراہم کرتا ہے وہ خود بد حالی کا شکار ہے کسان دشمن حکومت نے کاشتکار کی مشکلات کو آسان کرنے کی بجائے اس حد تک مجبور کردیا ہے کہ وہ اپنی اراضی بیچنے کو تیار ہیں اپنی تقریر کے اختتام پر انہوں نے سرائیکی زبان میں ’’گھنسو گھنسو صوبہ گھنسو‘‘ کے نعرے لگوائے

بلاول

ملتان (آئی این پی ) سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ جو حکومت اپنا کورم پورا نہیں کر سکتی وہ مدت بھی پوری نہیں کر سکے گی ،موجودہ حکمران اپنی حکومت خود گرانے کے چکر میں ہیں،عمران خان نیا پاکستان بنائیں اورشادی کریں ہم پرانے پاکستان پر گزارہ کرلیں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے قاسم باغ سٹیڈیم میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہو ئے کیا جس میں آصف علی زرداری، بلاول بھٹو، سید خورشید شاہ، راجہ پرویز اشرف ودیگر رہنما بھی موجود تھے سید یوسف رضا گیلانی نے مزید کہا کہ ملتان دارالامان ہے اور پانچ ہزار سالہ پرانا زندہ شہر ہے پیپلز پارٹی کی گولڈن جوبلی اور تنظیم نو کے بعد ملتان میں تاریخی جلسہ منعقد ہوا ہے پیپلز پارٹی نے بے پناہ قربانیاں دیں آج ہمیں بے نظیر بھٹو اور شہید ذوالفقار علی بھٹو کی کمی محسوس ہورہی ہے لیکن ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمارے درمیان بلاول بھٹو بے نظیر کی شکل میں موجود ہیں جو حقیقی معنوں میں 60فی صد نوجوانوں کے حقیقی نمائندہ ہیں انہوں نے کہاکہ باقی جماعتوں کے لیڈران 60سے 70سال تک کے ہیں اور وہ نوجوانوں کی نمائندگی کا حق نہیں رکھتے کیونکہ یہ واحد جماعت ہے جس میں یوتھ ، خواتین،طلبہ، کسان، وکلاء، محنت کش شامل ہیں جو آج کے جلسہ میں شریک ہیں انہوں نے کہا کہ ملتان کے جلسہ نے بھٹو اور بے نظیر کے جلسوں کی یاد تازہ کر دی ہے اور بلاول بھٹو نے ملتان سے تاریخ رقم کی ہے انہوں نے کہا کہ یہ خطہ بہت سے مسائل کا شکار ہے جس کا حل صرف و صرف علیحدہ صوبے کا قیام ہے جب تک ہمارا علیحدہ وزیراعلی، سپیکر، گورنر، عدالتیں نہیں ہوں گی ہمیں انصاف اور ہمارا حق نہیں ملے گا میں پیپلز پارٹی کی قیادت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ جس طرح پہلے آپ نے سرائیکی صوبے کا بل سینیٹ سے پاس کروایا اگر قومی اسمبلی میں ہماری اکثریت ہو تی تو آج صوبہ بن چکا ہوتا اس لئے میرا قیادت سے مطالبہ ہے کہ وہ علیحدہ سرائیکی صوبے کے قیام کا اعلان کریں یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کو دارالخلافہ تسلیم کیا تو پوری دنیا کے مسلمان سراپا احتجاج ہیں حکومت پاکستان کو بھی ٹرمپ کے خلاف اپنا موقف واضح کرنا چاہیئے جبکہ ٹرمپ بھی اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرے کیونکہ ختم نبوت کے مسئلے پر پوری دنیا کا امن تباہ ہو سکتا ہے شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ختم نبوت کا مسئلہ ہمیشہ کے لئے حل کیا اور آئین میں ترمیم کرکے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا یو

مزید : صفحہ اول


loading...