عمران خان اہل،جہانگیر ترین تاحیات نا اہل

عمران خان اہل،جہانگیر ترین تاحیات نا اہل

اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک ،ایجنسیاں) سپریم کورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو اہل جب کہ پارٹی کے سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین کو نااہل قرار دے دیا۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے 250 صفحات پر مشتمل فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ تمام شواہد کا جائزہ لیا گیا، عمران خان نیازی سروسز لمیٹڈ کے شیئر ہولڈر یا ڈائریکٹر نہیں تھے اور انہوں نے جمائما کے دیے گئے پیسے بھی ظاہر کیے۔فیصلے میں کہا گیا کہ عمران خان نے فلیٹ ایمنسٹی اسکیم میں ظاہر کر دیا تھا۔عدالت نے جہانگیر ترین کو آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہل قرار دیتے ہوئے کہا کہ جہانگیر ترین نے اپنے بیان میں مشکوک ٹرمز استعمال کیں اور صحیح جواب نہ دینے پر انہیں ایماندار قرار نہیں دیا جاسکتا۔سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ جہانگیر ترین نے آف شور کمپنی ظاہر نہیں کی اور عدالت کے سامنے جھوٹ بولا، الیکشن کمیشن جہانگیر ترین کی نااہلی کا نوٹی فکیشن جاری کرے سپریم کورٹنے اپنے فیصلے میں لکھا کہ آف شور کمپنی شائنی ویو لمیٹڈ جو مدعا علیہ کی طرف سے قائم کی گئی تھی بارہ ایکڑ پر مبنی پراپرٹی 'ہائیڈ ہاؤس' کی مالک ہے، لیکن عدالت نے کہا کہ اس جائیداد کے اصل اور حقیقی 'بینیفشل اونر' جہانگیر ترین ہی ہیں۔ عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ جہانگیر ترین نے اس وقت کے کرنسی ایکسچینج ریٹ کے مطابق پاکستانی روپے میں پچاس کروڑ سے زیادہ رقم منتقل کی، جو بقول جہانگیر ترین کے 'ہائیڈ ہاؤس' کی خرید اور تعمیر کے کام آئی۔ عدالت نے لکھا کہ شائنی ویو کمپنی یا ہائیڈ ہاؤس کبھی کسی ٹرسٹ کو منتقل نہیں ہوا اور اس طرح یہ مدعا علیہ کی ہی جائیداد ہے جس کا انھوں نے سنہ 2015 میں کاغذات نامزدگی میں ذکر نہیں کیا۔ اس بنیاد پر عدالت نے کہا کہ وہ آئین اور قانون کی رو سے 'ایماندار' نہیں اور نا اہل قرار دیے جاتے ہیں۔عدالت نے فیصلے میں کہا کہ جہانگیر ترین کے خلاف زرعی اراضی پر فیصلہ ابھی نہیں سنایا جارہا۔عدالت نے فیصلے میں کہا کہ تحریک انصاف پر غیر ملکی فنڈنگ کا الزام لگایا گیا تاہم درخواست گزار غیر ملکی فنڈنگ پر متاثرہ فریق نہیں۔عدالت نے فیصلے میں کہا کہ غیر ملکی فنڈنگ کے معاملے کا تعین الیکشن کمیشن کرے گا اور الیکشن کمیشن غیر جانبدارانہ طور پر پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس کی گذشتہ 5 سال تک کی چھان بین کرسکتا ہے۔سپریم کورٹ کی جانب سے کیس کا فیصلہ سہہ پہر 2 بجے سنایا جانا تھا تاہم فیصلہ تقریباً ساڑھے تین بجے سنایا گیا۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کمرہ عدالت میں تاخیر کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ 250 صفحات پر مبنی فیصلے کی ڈرافٹنگ کے ایک صفحے میں غلطی تھی جس کی وجہ سے پورے فیصلے کو دوبارہ پڑھنا پڑا جس پر معذرت خواہ ہوں۔سپریم کورٹ نے اس کیس پر 405 دن میں 50 سماعتیں کیں اور 101 گھنٹے کارروائی ہوئی جس کے بعد چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت مکمل کر کے 14 نومبر 2017ئکو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔۔ کمرہ عدالت میں مسلم لیگ (ن) کی جانب سے وزیرمملکت مریم اورنگزیب، دانیال عزیز، طلال چوہدری، مصدق ملک اور دیگر موجود تھے جب کہ تحریک انصاف کی جانب سے فواد چوہدری، فردوس عاشق اعوان، نذر محمد گوندل ، سینیٹر شبلی فراز، فیصل خان سمیت دیگر تھے۔فیصلہ سنائے جانے کے وقت عمران خان کے وکیل نعیم بخاری، حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ اور جہانگیر ترین کے وکیل سکندر مہمند بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔خیال رہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے 14 نومبر کو نااہلی کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا، بینچ میں جسٹس فیصل عرب اور جسٹس عمر عطا بندیال بھی شامل ہیں۔انتہائی اہم عدالتی فیصلے کے موقع پر سپریم کورٹ کے باہر سیکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کیے گئے جب کہ تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کے کارکنان کی بڑی تعداد بھی سپریم کورٹ کے باہر موجود رہی۔

مزید : صفحہ اول