گستاخانہ مواد کیس ، وزیر اعظم سمیت وزراء کیخلاف حکم عدولی پر کارروائی ہو گی ، اسلام آباد ہائیکورٹ کی وارننگ

گستاخانہ مواد کیس ، وزیر اعظم سمیت وزراء کیخلاف حکم عدولی پر کارروائی ہو گی ...

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)اسلام آبادہائی کورٹ نے خبردار کیا ہے کہ سوشل میڈیا گستاخانہ مواد کیس میں حکم عدولی پر وزیراعظم اور وزراء کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے گی۔نجی ٹی وی کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے سوشل میڈیا گستاخانہ مواد کیس کی سماعت کی۔ سپیشل سیکرٹری داخلہ، ایف آئی آے، پی ٹی اے کے نمائندے اور ڈپٹی اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت عالیہ نے حکومت کو 31 مارچ کے فیصلے پر 22 دسمبر تک عملدرآمد کا حکم دیا۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ حکم عدولی پر وزیراعظم، وزیر قانون، وزیر مذہبی امور اور وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی کو بلائیں گے۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ 31 مارچ کے عدالتی فیصلے پر عمل نہ ہونا سمجھ سے بالاتر ہے، 22 دسمبر تک عدالتی فیصلے پر عملدرآمد نہ ہوا تو وزیراعظم اور وزراء کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شرو ع کی جائے گی،عدالت نے کہا کہ حکومت اپنی پارٹی کی صدارت کیلئے سمری لا سکتی ہے تو ناموس رسالت کیلئے کیوں یہ کام نہیں کرسکتی، ناموس رسالت فیصلے پر عمل درآمد کیلئے حکومت نے کچھ بھی نہیں کیا۔ سپیشل سیکرٹری داخلہ نے بتایا کہ وزیراعظم نے تحفظ ناموس رسالت فیصلے پر عملدرآمد کمیٹی بنائی ہے جس میں لاء، آئی ٹی، وزارت اطلاعات اور داخلہ کے نمائندے شامل ہیں، کمیٹی کا اجلاس بلا کر جلد فیصلے پر عملدرآمد کرائیں گے، دو ہفتے کا وقت دیں تفصیلی پراگریس رپورٹ پیش کریں گے۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ عدالت کو یقین دلاتا ہوں کہ حکومت فیصلے پر عمل درآمد کرائے گی۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ گستاخانہ مواد کی ویب سائٹس والوں کو پکڑا جائے ۔عدالت نے کہا کہ عدالتی حکم پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے وزیراعظم کو گھر بھیج دیا گیا تھا، حکومت نے جو کام نہ کرنا ہو اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ حساس معاملہ ہے، زیادہ وقت اس لئے مانگ رہے کہ پتہ نہیں اس وقت یہ ہوں گے یا نہیں، جمعہ تک فیصلے پر عمل درآمد نہ ہوا تو وزیراعظم سمیت دیگر وزراء کو بلائیں گے۔ عدالت نے کیس کی سماعت 22 دسمبر تک ملتوی کردی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ/ وارننگ

مزید : صفحہ اول


loading...