سینیٹ ارکان کا عالمی اسلامی فوجی اتحاد پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ

سینیٹ ارکان کا عالمی اسلامی فوجی اتحاد پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کا ...

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) اسلامی فوجی اتحاد پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہ لینے سے متعلق تحریک التواء پر سینیٹ میں بحث ہوئی،سینیٹ ارکان نے خارجہ پالیسی پر بحث کرتے ہوئے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ پیپلز پارٹی کے فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اسلامی فوجی اتحاد کے ٹی او آرز (ضابطہ کار) پر ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا، نہ ہی یہ بتایا گیا کہ اسلامی فوجی اتحاد پر ایران کے کیا تحفظات ہیں، دفتر خارجہ سے پوچھا گیا تو اس نے ایران سے ہونیوالی بات چیت سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اتھارٹی سے پوچھ کر بتا سکتے ہیں، بتایا جائے کہ یہ اتھارٹی کون ہے۔فرحت اللہ بابر نے کہا کہ آرمی چیف نے ایران کا دورہ کیا، لیکن پارلیمنٹ کو نہیں معلوم کہ کیا معاملات طے پائے، ایک ادارہ خود سے پالیسی بنا رہا ہے جس کے بارے میں وزارت خارجہ بھی لا علم ہے۔ فرحت اللہ بابر نے چیئرمین سینیٹ سے کہا کہ آپ اس پر رولنگ دیں اور وزیر خارجہ کو طلب کیا جائے۔ چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے کہا کہ رولنگ دی تو میں بھی 12 مارچ سے پہلے لاپتہ ہوجاؤں گا، یہ بات میں لائٹر موڈ میں کہہ رہا ہوں۔سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ ہم کب تک دوسروں کی لڑائیاں لڑیں گے، پارلیمنٹ کو مضبوط کرنے کے لیے آپ نے کیا کیا؟، ہم تقریریں کرنے نہیں قانون سازی کرنے آتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی سینیٹر سحر کامران نے کہا کہ کسی کو نہیں معلوم کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کیا ہے، اس پر مجھے شدید تحفظات ہیں، حکومت فیصلے کرنے کے بعد بھی پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیتی، اگر آپ جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں تو پارلیمنٹ کو مضبوط کریں۔سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ پارلیمنٹ کی بالادستی ہونی چاہیے لیکن حکومت معاہدوں کو پارلیمنٹ سے چھپاتی ہے، جب حکمرانوں کو تکلیف ہوتی ہے تو پارلیمنٹ کی یاد آتی ہے، مسلم امہ پر ہونے والے مظالم میں اس اسلامی اتحاد کا کوئی کردار نہیں، بیت المقدس کے بارے میں امریکی فیصلے پر مسلمانوں میں اضطراب پایا جاتا ہے۔چیرمین رضا ربانی نے سینیٹ کا اجلاس پیر تک ملتوی کردیا۔

چیئرمین سینیٹ

اسلام آباد (این این آئی) اراکین سینٹ نے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ اسلامی ممالک کے فوجی اتحاد کے حوالے سے ایوان کو اعتماد میں لیا جائے ٗ مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید خراب ہوتی نظر آرہی ہے ٗاسلامی دنیا کے مسائل حل کرنے میں او آئی سی کا کوئی کردار نہیں۔جمعہ کو سینٹ اجلاس میں اسلامی فوجی اتحاد کے قیام کے حوالے سے شیری رحمان کی تحریک پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اسلامی فوجی انسداد دہشت گردی اتحاد سے کئے گئے وعدوں کے حوالے سے پارلیمان کو اعتماد میں نہیں لیا گیا ہم مشرق وسطیٰ کے گرداب میں پھنس رہے ہیں‘ فیصلہ سازی میں اس ہاؤس اور وزارت خارجہ کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا۔سحر کامران نے کہا کہ ہم پارلیمان میں بول سکتے ہیں لیکن ہمارے بولے ہوئے الفاظ بے معنی ہوجاتے ہیں، ہمیں معلوم ہی نہیں کہ ہم کس کے مفاد میں فیصلے کر رہے ہیں، پارلیمان کو کوئی اہمیت دی ہی نہیں گئی ۔اعظم سواتی نے کہا کہ پارلیمان کو اسلامی فوجی اتحاد کے ٹی او آرز کے بارے میں کیوں نہیں بتایا جاتا‘ تمام فیصلوں میں پارلیمان کو اعتماد میں لیا جائے۔ سینیٹر نسرین جلیل نے کہا کہ پاک فوج نے بہت قربانیاں دی ہیں جن کی بدولت دہشت گردی کا خاتمہ ہوا۔ سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ پارلیمان کو اہم معاملات پر بحث کرنی چاہیے۔ ہر حکومت پارلیمان سے اہم معاملات کو چھپانے کی کوشش کرتی ہے۔ اسلامی فوج کہیں نظر نہیں آرہی۔علاوہ ازیں سینٹ نے جادوگری کی ممانعت بل 2017ء کو زیر بحث لانے کے لئے سینٹ کی منتخب کمیٹی تشکیل دینے کی تحریک کی منظوری دیدی۔ راجہ ظفر الحق نے تحریک پیش کی کہ سینیٹر کلثوم پروین‘ عائشہ رضا فاروق‘ غوث بخش نیازی ‘ عثمان کاکڑ عطاء الرحمان‘ اورنگزیب خان‘ اعتزاز احسن‘ گیان چند‘ خوش بخت شجاعت‘ محمد داؤد خان اچکزئی ایڈووکیٹ‘ کامل علی آغا اور محسن عزیز کی مشاورت سے جادوگری کی ممانعت بل 2017ء کو زیر بحث لانے کے لئے سینٹ کی منتخب کمیٹی تشکیل کرنے کے لئے نامزد کیا گیا تھا‘ کو ایوان منتخب کرے۔ کمیٹی اپنے پہلے اجلاس میں اپنا چیئرمین منتخب کرے گی اور کمیٹی کی رپورٹ کمیٹی کے چیئرمین کے نوٹیفکیشن کی تاریخ سے دو ماہ کے اندر پیش کی جائے گی۔ چیئرمین نے تحریک پر ایوان کی رائے حاصل کی۔ ایوان بالا نے تحریک کی منظوری دے دی۔ ایوان بالا میں مختلف قائمہ کمیٹیوں کی رپورٹیں پیش کی گئیں۔ قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے چیئرمین سینیٹر جاوید عباسی نے آئین کے آرٹیکل 95 الف کو دستور میں شامل کرنے کیلئے سینیٹر محسن لغاری کی طرف سے پیش کئے گئے دستور (ترمیمی) بل 2017ء پر کمیٹی کی رپورٹ پیش کی۔ انہوں نے آئین میں آرٹیکل 136 الف شامل کرنے کیلئے محسن لغاری کی طرف سے پیش کئے گئے دستور (ترمیمی) بل 2017ء پر کمیٹی کی رپورٹ بھی ایوان میں پیش کی۔ قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی طرف سے سینیٹر شبلی فراز نے ٹیلی فون انڈسٹریز آف پاکستان ہری پور کے پنشنرز سے متعلق کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش کی۔ قائمہ کمیٹی برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی کی طرف سے سینیٹر محسن لغاری نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں کھاد کی ترسیل سے متعلق کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش کی۔

مزید : صفحہ اول