قومی اسمبلی ، فاٹا بل واپس لینے پر اپوزیشن کا واک آؤٹ لگتا ہے مجھے سب کو ایک میز پر لانا پڑیگا : سپیکر

قومی اسمبلی ، فاٹا بل واپس لینے پر اپوزیشن کا واک آؤٹ لگتا ہے مجھے سب کو ایک ...

اسلام آباد (این این آئی)قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں نے فاٹا کے انضمام کے حوالے سے بل واپس لئے جانے پر جمعہ کو بھی احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔ جمعہ کو اجلاس کے دور ان سید نوید قمر نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے آج ناشتے پر بلائے جانے کی اطلاع تھی تاہم ایسا نہیں ہوا ٗشاہ جی گل آفریدی نے کہا کہ دو افراد کی وجہ سے فاٹا انضمام کے مسئلہ کو التواء میں رکھا گیا ہے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ حکومت نے ایک چیز شروع کی اسی کو اس کا کریڈٹ مل رہا ہے، پورا پاکستان اس کو سراہتا ہے تاہم اس بل کو عین وقت پر ایجنڈے سے نکال دیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ فاٹا سے ملحقہ علاقوں میں داعش کو منظم کیا جارہا ہے ٗ وزیر سیفران نے گزشتہ روز بتایا تھا کہ فاٹا انضمام کے معاملہ پر وزیراعظم ناشتہ پر مدعو کر رہے ہیں تاہم ایسا نہیں ہوا۔ شیر اکبر خان نے کہا کہ ایف سی آر ایک کالا قانون ہے‘ حکومت اس کو ختم کرنا چاہتی ہے، حکومت فاٹا بل ایوان میں لے آئے۔ غوث بخش مہر نے کہا کہ اس بل کو لایا جائے۔جمال الدین نے کہا کہ قبائل کے مشورے کے بغیر کوئی نظام ان پر مسلط نہ کیا جائے‘ فاٹا کے لوگوں کو انضمام کے حوالے سے اعتماد میں لیا جائے۔ دریں اثنا وزارت کیڈ کی جانب سے قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد میں سیکٹر جی 13 اور جی 15 میں دو نئے ماڈل کالجز تعمیر کئے جائیں گے ۔ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے بتایا گیا کہ آزاد جموں و کشمیر اور شمالی علاقہ جات میں مواصلات کی فراہمی کا اختیار سپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن کو ہے۔ وزارت کے تحت آزاد کشمیر میں ٹیلی کمیونیکیشن کا ایک جاری منصوبہ آزاد جموں و کشمیر کے جی ایس ایم نیٹ ورک کی تبدیلی ہے جو 31 دسمبر2020ء کو مکمل ہوگا۔ وزارت موسمیاتی تبدیلی کی جانب سے بتایا گیا کہ گاڑیوں سے پھیلنے والی آلودگی سے متعلق عوام میں احساس بیدار کرنے کے لئے ایک عوامی آگاہی مہم تیار کی جارہی ہے، سردار ایاز صادق نے وقفہ سوالات میں وزارت کیڈ کی جانب سے 5 سوالوں کے جواب نہ آنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیراعظم کو سیکرٹری کیڈ کی تین روز کے لئے معطلی کا لکھیں گے‘ اگر انہیں معطل نہ کیا گیا تو وہ اجلاس کی صدارت نہیں کریں گے۔ اگر وزیراعظم نے اس کو معطل نہ کیا تو میں یہاں نہیں بیٹھوں گا۔ بعد ا زاں قومی اسمبلی کا اجلاس کورم پورا نہ ہونے پر پیر کی شام چار بجے تک ملتوی کردیا گیا۔ علاوہ ازیں قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے آفیسر غلام مرتضیٰ کی وفات پر اسمبلی میں فاتحہ خوانی کرائی گئی۔

قومی اسمبلی

مزید : صفحہ اول


loading...