کیا اب جہانگیر ترین پارٹی کے سیکرٹری جنرل کا عہدہ چھوڑدیں گے ؟

کیا اب جہانگیر ترین پارٹی کے سیکرٹری جنرل کا عہدہ چھوڑدیں گے ؟

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

عمران خان کو اپنی پارٹی کے سیکرٹری جنرل کی تاحیات نا اہلی پر بہت دکھ ہوا، ہونا بھی چاہئے تھا کہ وہ پارٹی میں ان کے بعد دوسرے نمبر کے رہنما ہیں، اور زیادہ اہم بات یہ ہے کہ پارٹی کا حرجہ خرچہ سب وہی اٹھاتے ہیں، اب فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواست کی جائیگی لیکن فیصلے کی روشنی میں الیکشن کمیشن نے جہانگیر ترین کو ڈی سیٹ کرنے کا نوٹی فکیشن جاری کردیا، چند روز بعد ضمنی انتخابات کے شیڈول کا اعلان کردیا جائیگا اور متوقع طور پر ضمنی انتخابات فروری 2018ء میں ہوں گے۔ اگر اس وقت تک اسمبلی صحیح سالم حالت میں ہوئی اور 31 مئی تک اپنی مدت پوری کرگئی تو اس خالی نشست پر جو بھی منتخب ہوگا وہ چند ماہ ہی رکن رہ سکے گا۔

جہانگیر خان ترین نے اپنے حلقے لودھراں 154 سے دو مرتبہ الیکشن لڑا پہلی مرتبہ مئی 2013ء کے عام انتخابات اور دوسری بار 23 دسمبر 2015ء کو ضمنی انتخاب، عام انتخابات میں وہ ہار گئے تھے جبکہ ڈھائی سال بعد اسی حلقے سے انہی ووٹروں کے ووٹوں سے منتخب ہوگئے جن کے ووٹوں سے ہارے تھے، عام انتخابات میں یہاں سے صدیق خان بلوچ آزاد حیثیت میں جیتے تھے جنہیں 86046 ووٹ ملے، جبکہ ترین نے 75814 ووٹ حاصل کئے، اس حلقے کی ایک خصوصیت آپ بھولے تو نہ ہوں گے کہ یہ ان چار حلقوں میں سے ایک تھا جہاں تحریک انصاف کے بقول دھاندلی ہوئی تھی اور وہ ان حلقوں کو کھولنے کا مطالبہ کررہی تھی۔ باقی تین حلقے تو وہ تھے جہاں سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار جیتے تھے، جو خواجہ محمد آصف، سردار ایاز صادق اور خواجہ سعد رفیق تھے، خواجہ آصف کے خلاف ہارنے والے تحریک انصاف کے امیدوار عثمان ڈار سپریم کورٹ تک اپنا مقدمہ ہار چکے ہیں، سردار ایاز صادق کے حلقے کا انتخاب کالعدم قرار دیا گیا جس کے خلاف وہ اپیل میں بھی گئے لیکن اپیل کے فیصلے کا انتظار کئے بغیر انہوں نے دوبارہ انتخاب لڑنے کا درست فیصلہ کرلیا، پہلی مرتبہ یعنی عام انتخابات میں انہوں نے بنفسِ نفیس عمران خان کو ہرایا جب کہ ضمنی انتخاب میں ان کے مدِ مقابل عبدالعلیم خان آئے، عبدالعلیم خان کو بھی جہانگیر ترین کی طرح ازراہ لطف و کرم اے ٹی ایم مشین کہا جاتا ہے، انہوں نے بہت بھرپور الیکشن لڑا اور ووٹروں سے جگمگ جگمگ کرتے رابطے بھی کئے، ریحام خان نے بھی ان کی انتخابی مہم کو رونق بخشی، لیکن سردار ایاز صادق دوبارہ منتخب ہوگئے، اب کی بار دھاندلی کا الزام لگانا بھی مشکل تھا وثوق سے نہیں کہا جاسکتا کہ عبدالعلیم خان نے سردار ایاز صادق کے خلاف انتخابی عذرداری کی یا نہیں البتہ اتنی تبدیلی ضرور آئی کہ سردار صاحب منتخب ہوکر جب دوسری مرتبہ سپیکر قومی اسمبلی منتخب ہوئے تو تحریک انصاف کے ارکانِ اسمبلی کی کڑی نکتہ چینی کا ہدف رہے، یہاں تک کہ عمران خان نے انہیں ’’مسٹر سپیکر سر‘‘ کے روایتی خطاب کا مستحق بھی نہ گردانا اور کہا کہ وہ انہیں ’’مسٹر سردار صادق‘‘ ہی کہیں گے معلوم نہیں اس پر کتنی مرتبہ عمل ہوا کیونکہ عمران خان جب سے رکن منتخب ہوئے ہیں دوچار بار سے زیادہ اسمبلی میں نہیں گئے۔ تیسرے حلقے میں سعد رفیق کے خلاف فیصلہ آیا تھا جس کے خلاف انہوں نے سپریم کورٹ میں اپیل کرکے حکمِ امتناعی حاصل کرلیا، عمران خان ایسے مواقع پر کہا کرتے ہیں کہ فلاں وزیر حکمِ امتناعی کے پیچھے چھپا بیٹھا ہے لیکن جب ان کے اپنے ارکان حکم امتناعی حاصل کرتے ہیں تو وہ اسے ان کا استحقاق سمجھتے ہیں، ان کے انصاف کے پیمانے اپنے ہیں، ترازو بھی اپنے اور باٹ بھی اپنے۔ تین حلقوں کی کہانی ذرا لمبی ہوگئی، ’’لذیذ بود حکایت دراز ترگُفتم‘‘ اصل کہانی تو چوتھے حلقے کی ستانی تھی جس میں جہانگیر ترین اپنے مد مقابل آزاد امیدوار صدیق خان بلوچ سے ہار گئے تھے، یہاں بھی دھاندلی کا الزام مسلم لیگ (ن) پر لگایا گیا لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں مسلم لیگ (ن) دھاندلی کرکے اپنا امیدوار نہیں جتوا پائی بلکہ اس دھاندلی کا فائدہ آزاد امیدوار اٹھا کر جیت گیا جب کہ مسلم لیگ (ن) کا امیدوار تیسرے نمبر پر رہا، جہانگیر ترین کو ہرانے والے آزاد امیدوار کی بد قسمتی مگر یہ ہوئی کہ عدالت سے حلقے کا انتخاب کالعدم قرار پایا، تاہم صدیق بلوچ کو دوبارہ الیکشن لڑنے کی اجازت دیدی گئی، ضمنی انتخاب میں جہانگیر ترین اور صدیق بلوچ میں دوبارہ جوڑ پڑ گیا، اس فرق کے ساتھ کہ وہ اب مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوگئے تھے، اس تبدیلی کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کے ہارنے والے امیدوار رفیع الدین بخاری کو ٹکٹ نہ مل سکا، غالباً قیادت نے سوچا ہوگا کہ جس طرح صدیق بلوچ نے پہلے جہانگیر ترین کو ہرادیا تھا وہ اب بھی جیت جائیں گے لیکن ایسا ممکن نہ ہوسکا اور جہانگیر ترین نے صدیق بلوچ کو ہرادیا، ضمنی انتخاب میں ٹرن آؤٹ پہلے سے بھی زیادہ رہا، صدیق بلوچ کو عام انتخاب کی نسبت تیرہ ہزار زیادہ ووٹ ملے انہوں نے 99312ووٹ حاصل کئے لیکن جہانگیر ترین 138573ووٹ حاصل کر کے کامیاب ہوگئے،جہانگیر ترین صرف دوسال قومی اسمبلی کے رُکن رہ سکے اب قسمت کی خوبی دیکھئے کہ کمند ایسے وقت پر ٹوٹ گئی جب دو چار ہاتھ لبِ بام رہ گیا تھا اور اسمبلی کی مدت 5/1/2ماہ باقی رہ گئی ہے اور اگر شیخ رشید کی یہ پیش گوئی درست مان لی جائے کہ وزیر اعظم کسی بھی وقت اسمبلی توڑ سکتے ہیں تو پھر یہ مدت اور بھی کم ہوگی اب جہانگیر ترین کا پارلیمانی کردار تو اپنے اختتام کو پہنچالیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہ تحریک انصاف میں پہلے جیسے مقام و مرتبے پر فائز رہیں گے، عمران خان نے کہا تو ہے کہ وہ جہانگیر ترین کے ساتھ کھڑے ہیں لیکن ستم ظریفی ملاحظہ فرمائیں کہ جہانگیر ترین آئین کی اُسی دفعہ کے تحت نا اہل قرار پائے ہیں جس کے تحت نواز شریف نااہل ہوئے تھے۔ نااہلی کے بعد انہیں مسلم لیگ(ن) کی صدارت چھوڑنا پڑی لیکن بعد ازاں عوامی نمائندگی کے قانون میں ترمیم کے بعد جب وہ دوبارہ اپنی پارٹی کے صدر منتخب ہوگئے تو تحریک انصاف نے کہا پارلیمنٹ ڈوب مرے اُس نے ایک شخص کی خاطر قانون بدل دیا لیکن یہ مکافاتِ عمل ہے، اب اس قانون کا فائدہ جہانگیر ترین کو بھی پہنچ رہا ہے، اور وہ نا اہلی کے باوجود پارٹی عہدے پر فائز رہ سکتے ہیں لیکن ان کی جماعت چونکہ انصاف پسند پارٹی ہے، اسلئے وہ انصاف کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس پارٹی عہدے کو بھی چھوڑ دیں گے، کیونکہ ’’ڈوب مرنے والی‘‘ پارلیمنٹ نے تو قانون صرف ایک ہی شخص کے لئے بدلا تھا، دوسرے کو فائدہ پہنچ بھی رہا ہو تو اس کی انصاف پسندی اس کی راہ میں حائل ہوجاتی ہے۔

پارٹی عہدہ

مزید : تجزیہ


loading...