سانحہ مشرقی پاکستان کاقرض کب اداہوگا۔۔۔۔۔؟

سانحہ مشرقی پاکستان کاقرض کب اداہوگا۔۔۔۔۔؟

جواہرلال نہروکی بیٹی اوربھارت کی سابق وزیراعظم اندراگاندھی بخوبی جانتی اورسمجھتی تھیں کہ مشرقی پاکستان بھارت کاحصہ نہیں بن سکتااس کے باوجوداندراگاندھی نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے لئے فضاہموارکی،نفرت وعداوت کی فصل اگائی،مکتی باہنی کی بنیادرکھوائی،علیحدگی پسندعناصرکی حوصلہ افزائی کی، تخریب کاری ودہشت گردی کی تحریک چلوائی اورآخرکار مکتی باہنی کی عملی مددکرتے ہوئے دن دیہاڑے اپنی فوج مشرقی پاکستان میں داخل کردی۔’’را‘‘کی تربیت یافتہ مکتی باہنی نے پاکستان کی سالمیت کے خلاف پروپیگنڈاکیابھارتی فوج سے مل کرقتل وغارت گری کابازارگرم کیاپلوں کوتباہ کیاسڑکوں کوکاٹادہشت گردی کوپروا چڑھایامحب وطن بنگالیوں کوگھروں چوباروں بازاروں چوکوں چوراہوں میں ذبح کیازندہ آگ میں جلایاسنگینوں پراچھالا ،گاڑیوں کے ساتھ باندھ کرگھسیٹایہاں تک کہ مسجدوں میں پناہ گزین بچوں بوڑھوں اورخواتین کوبھی نہ بخشاگیا۔آخرغیروں کی مکاریاں وعیاریاں اپنوں کی نادانیاں رنگ لائیں اور16دسمبرکوپاکستان دولخت ہوگیا۔اس دوران محب وطن بنگالیوں پرجوگزری وہ ایک لرزہ خیزاورخون کے آنسورولادینے والی داستان ہے جس کاہر واقعہ انسانیت کوشرما،روح کوتڑپااوردلوں کودھلادینے والا ہے۔سلہٹ کے رہائشی جمال احمدمشرقی پاکستان کے گورنرمنعم خان کی کابینہ میں وزیرتھے۔نہایت ہی وضعدار،مہذب،شائستہ،بااخلاق،باکردار،دھان پان ساجسم مگرپاکستان کی محبت کے جذبے میں گندھے ہوئے اورعزیمت واستقامت کے کوہ گراں۔مکتی باہنی کے شرپسندوں نے جمال احمدکوان کے اہل خانہ کے سامنے زخموں سے لہولہان کیا، ٹانگوں کودو الگ الگ رسوں سے باندھا پھر دونوں رسے دوجیپوں سے باندھے اورجیپوں کو مخالف سمت میں چلادیاگیاجس سے جمال احمدکاجسم۔۔۔۔۔۔۔ پیٹ،دھڑاورسینے سے ہوتاہوا دوحصوں میں چرگیا۔یہ سلوک اس شخص کے ساتھ کیاگیاجومشرقی پاکستان کے وزیررہ چکے تھے اورپوراسلہٹ ان کی شرافت و وضعداری کی گواہی دیتاتھا اس سے اندازہ کیاجاسکتاہے کہ عام محب وطن بنگالیوں اورجمال احمدکے اہل خانہ سے کیاسلوک کیاگیا ہوگا۔مشرقی پاکستان میں اس طرح کے ایک نہیں ہزاروں واقعات دھرائے گئے تھے۔ہرواقعے میں محب وطن بنگالیوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کاطریقہ پہلے سے زیادہ اذیت ناک تھا۔پاکستان کودولخت کرنے کے بعدبھی بھارت کے پاکستان دشمن رویہ میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی بلکہ تب سے بھارت نے مسلسل پاکستان کے خلاف کئی جنگی محاذ کھول رکھے ہیں۔ان محاذوں پراگرچہ کام کی نوعیت مختلف ہے مگرایجنڈاایک ہے اوروہ ہے۔۔۔۔۔باقیماندہ پاکستان کے حصے بخرے کر کے کھنڈبھارت کاقیام۔

بھارت نے پاکستان کے خلاف جومحاذبرپاکررکھے ہیں ان میں ایک بڑا آبی دہشت گردی کاہے جس کے نتیجے میں ستلج،بیاس اورراوی۔۔۔۔صحرابن چکے ہیں ۔بنیئے نے محض پاکستان دشمنی میں ان دریاؤں کا9ملین ایکڑفٹ وہ پانی بھی بندکردیاہے جوسندھ طاس معاہدہ کی روسے ان دریاؤں کی گزرگاہوں کوزندہ رکھنے کے لئے مستقل بہایاجاناضروری تھایہی وجہ ہے کہ صدیوں سے بہنے والے یہ دریااب بھارت کی دشمنی کے ہاتھوں خشک ہورہے اور موت کے گھاٹ اتررہے ہیں۔دریائے سندھ،جہلم اورچناب پربھی بھارت یکے بعد دیگرے ڈیم بنابنا کرپاکستان کی زراعت،معیشت،دفاع،کسان دہقان کوتباہ اورکھیتوں کوبنجرکررہا ہے۔

دہشت گردی کادوسرامحاذافغانستان میں قونصل خانوں کی آڑمیں اڈوں کاقیام ہے،کابل، نمروز، قندھاراوردیگرشہروں میں ٹریننگ کیمپ پاکستان میں دہشت گردی کروانے کے لئے کھولے گئے ہیں۔گذشتہ سے پیوستہ سال عین 16دسمبرکے دن آرمی پبلک سکول پشاورپرہونے والے المناک حملے سمیت صوبہ خیبرپی کے اوربلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی کی وارداتوں کوافغانستان میں موجودبھارتی اڈوں سے کنٹرول کیاجارہاہے۔

دہشت گردی کاتیسرامحاذ بلوچستان ہے’’را‘‘کاسابق سربراہ بی رامن اعلانیہ کہہ چکاہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کی کاروائیاں کرنے والوں کی مدد ہماری تاریخی ا وراخلاقی ذمہ داری ہے۔اس مددکاایک عملی نمونہ ’’را‘‘کاحاضرسروس ایجنٹ کلبھوشن یادیوہے جوگوادربندرگاہ،سی پیک کوتباہ اوربلوچستان میں دہشت گردی پھیلانے کے مشن پرمامورکیاگیاتھا۔اس کے علاوہ بھارت۔۔۔۔سوئز رلینڈاوربرطانیہ سمیت پوری دنیا میں ’’آزادبلوچستان‘‘کی تشہیری مہم بھی چلارہاہے اوراس مقصدکے لئے ’’را‘‘نے کئی بلین ڈالرزکاخطیرفنڈمختص کردیاہے۔

دہشت گردی کاچوتھامحاذمقبوضہ جموں کشمیر ہے۔یہ بات معلوم ہے کہ مقبوضہ جموں کشمیرپاکستان کی شہ رگ ہے ۔پاکستان کااستحکام،تکمیل،دفاع اوربقامقبوضہ جموں کشمیرکی آزادی سے مشروط ہے۔جبکہ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ہماری شہ رگ پر بھارت نے قبضہ کررکھا ہے اوربنیاہمارے کشمیری بھائیوں سے وہی سلوک کررہاہے جومکتی باہنی نے ارض مشرقی پاکستان میں محب وطن بنگالی مسلمانوں سے کیاتھا۔ مقبوضہ وادی میں پیلٹ گنوں سے تباہی پھیلانے،سینکڑوں افرادکوشہیداوربینائی سے محروم کرنے کے بعداب بھارت اسرائیل کی مددسے کیمیائی ہتھیاراورڈرون استعمال کرکے کشمیریوں کوصفحہ ہستی سے مٹادینے کے خواب دیکھ رہاہے ۔صرف نومبرکے مہینے میں200کشمیری جام شہادت نوش کرچکے ہیںآفرین ہے اہل کشمیرپرجونامساعد حالات کے باوجودآزادی کے نعرے لگارہے،سینوں پرگولیاں کھارہے، سبزہلالی پرچم تھامے تکمیل پاکستان کی جنگ لڑرہے، معرکوں میں بھارتی فوجیوں کوایسے ناکوں چنے چبوارہے اور خوف کے مارے بھارتی فوجی اپنے اسلحہ سے خودکشیاں کررہے ہیں ۔کشمیری مسلمانوں کی پاکستان کے ساتھ محبت کایہ عالم ہے کہ ان کے ہاتھ میں پاکستان کاجھنڈااورزبان پرکلمہ طیبہ ہوتاہے۔بوقتِ شہادت ان کی سب سے بڑی خواہش یہ ہوتی ہے کہ ان کا جسد خاکی پاکستانی پرچم میں سپردخاک کیاجائے۔ ’’گھرکابھیدی لنکاڈھائے‘‘ کے مصداق بھارتی میڈیااپنی فوج کی بے بسی اوربزدلی کی گواہی دیتے ہوئے کہہ رہاہے کہ ہرسال دوبٹالین فوجی خودکشیوں ،بیماریوں اورحادثات سے ہلاک ہورہے ہیں۔واضح رہے کہ یہ تعدادمیدان جنگ اورمختلف آپریشنزمیں ہلاک ہونے والوں کے مقابلے میں12گنازیادہ ہے۔اس صورت حال پربھارتی فوج کابزدل چیف جنرل پین راوت بھی ہائے ہائے کررہااورسرپیٹ رہاہے۔بھارتی فوج کی خودکشیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات اورجنرل پین راوت کے واویلے کودیکھتے ہوئے یقین سے کہاجاسکتاہے کہ مقبوضہ جموں کشمیرکی آزادی کی منزل قریب ترہے ان شاء اللہ۔

دہشت گردی کاپانچواں محاذ۔۔۔۔وہ ہے جوبھارتی حکمرانوں نے اپنے ہی ملک میں مسلمانوں کے خلاف کھولاہواہے۔ یوں توبھارت میں1947ء سے مسلمان شہیدکئے جارہے ہیں لیکن اب مودی کے برسراقتدارآنے کے بعد آرایس ایس’’نریندرمودی کا2022ء نیوانڈیا‘‘کے نام سے ایک ایجنڈاتشکیل دے چکی ہے جس کے تحت 2022ء تک بھارت میں مسلمانوں کا وجود،تشخص اورمسلم تاریخ وثقافت کامکمل طورپرصفایا کردیاجائے گا۔

یہ ہے’’رام رام جپنے‘‘والے برہمن کااصل رخ وکرداراورپاکستان دشمن چہرہ۔صدحیف! ہم اورہمارے حکمران ان المناک واقعات کوبھول چکے ہیں جبکہ بھارت کی پاکستان دشمنی کاپرنالہ آج بھی اسی جگہ بہہ رہاہے جہاں1947ء یا1971ء کے وقت تھا۔اس کی پاکستان دشمنی کم ہونے کی بجائے مزید بڑھ چکی ہے۔

ضرور پڑھیں: ڈالر سستا ہو گیا

سانحہ مشرقی پاکستان کوآج48برس بیت چلے ہیں۔یہ کم وبیش نصف صدی کاقصہ ہے ۔نصف صدی میں بہت کچھ بدل گیا۔کئی ملکوں کی دوستی دشمنی کے اندازواطواراورمعیاربدل گئے دنیاکہاں سے کہاں جاپہنچی لیکن اگرکوئی چیزنہیں بدلی تووہ بھارت کی پاکستان اورمسلمان دشمنی ہے۔ یہ دشمنی آج بھی ۔۔۔۔زندہ ۔۔۔۔اور جوان ہے اداؤں سے ٹپک رہی اور نگاہوں سے برس رہی ہے۔اس وقت بھارت میں نریندرمودی کی حکومت ہے مودی وہ شخص ہے جس نے انتخابی مہم پاکستان دشمنی کی بنیادپرچلائی تھی ۔یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ وزیراعظم بننے کے بعدمودی پاکستان دشمنی کے ایجنڈے کے عہدکوپوری طرح نبھار ہے اورپاکستان کونقصان پہنچانے کاکوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہے۔ بھارت وہ ملک ہے جس نے ہمارا ایک بازو توڑا7کروڑ آبادی اور56ہزار مربع میل پر مشرقی خطہ ہم سے جدا کیا جس کے نتیجے میں پاکستان سے اسلامی دنیا کی سب سے بڑی مملکت ہونے کا اعزاز چھن گیالیکن ہمارے نادان حکمران ،سیاستدان بچ جانے والے ایک ہی بازو کے ساتھ بھارت سے بغل گیر ہونے کے لئے بے تاب و بے قرار ہیں۔

یہ بات معلوم ہے کہ مشرقی پاکستان ہرگزمتنازع خطہ نہ تھابلکہ متحدہ پاکستان کاحصہ تھابھارت مشرقی پاکستان میں فوجی مداخلت کر کے اقوام متحدہ کے چارٹر 1950ء کی صریحاً خلاف ورزی کا مرتکب ہوا تھا۔ اسی طرح بھارت 1966ء کے ان پاک بھارت معاہدوں کی بھی کھلم کھلا خلاف ورزی کا مرتکب ہوا تھا جن میں ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا عہد کیا گیا تھا۔ اقوام متحدہ کے چارٹر اور دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والے معاہدوں کی خلاف ورزی اس امر کا واضح ثبوت تھا کہ بھارت کو پاکستان کے معاملے میں نہ UNOکے چارٹر کی پروا ہے اور نہ اپنے کئے ہوئے معاہدوں کی پاسداری ہے۔اس کے برعکس مقبوضہ جموں کشمیرمتنازع خطہ ہے۔پاکستان اس کاوکیل ہے،وکالت کا حق یواین اوکے تمام ممبرممالک نے تسلیم کررکھاہے۔19جولائی1947ء کوآل جموں کشمیرمسلم کانفرنس نے متفقہ طورپرالحاق پاکستان کی قراردادمنظورکرکے جموں کشمیرکے مستقبل کافیصلہ پاکستان کے حق میں کردیاتھا۔سوال یہ ہے کہ جب بھارت مشرقی پاکستان میں فوجی مداخلت کرکے ناجائزجارحیت کامرتکب ہوچکاہے،اس کے بعد بھی پاکستان کے خلاف مسلسل جارحیت،دہشت گردی ،تخریب کاری کررہاہے اپنے اس کردارپرشرمسارہونے کی بجائے فخریہ اظہارکرتاہے توہمارے حکمران کشمیری مسلمانوں کی جائز،قانونی مددکرنے سے کیوں شرماتے اوربھارتی مظالم کاپردہ کیوں چاک نہیں کرتے۔؟

یہاں اس بات کا ذکر بھی ضروری ہے کہ 1971ء کے موقع پر بہت سے لوگوں نے پاکستان کو متحد رکھنے کی کوششیں کی تھیں، بنگلہ دیش بن جانے کے بعد ابتداً شیخ مجیب الرحمن نے جنگی جرائم کے تحت ان پر مقدمہ چلانا چاہا لیکن بعد میں ان لوگوں کو پاک فوج کے ساتھ تعاون کرنے والا قرار دے کر معاملہ ختم کر دیا گیا تھا اس سلسلہ میں باقاعدہ سہ فریقی معاہدہ ہواتھا۔ اب بنگلہ دیش کی موجودہ حکومت اس معاہدے کو توڑ رہی ہے،پاکستان کو متحد رکھنے کی کوششیں کرنے والے بزرگوں کو عمر قید اور پھانسی کی سزائیں سنا رہی ہے۔حسینہ واجد اور بھارت کا پاکستان کومتحدرکھنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف حالیہ گٹھ جوڑ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ 48سال پہلے مشرقی پاکستان میں تاریخ کے بدترین مظالم ڈھانے والے اصل مجرم شیخ مجیب الرحمن اور بھارت تھے جن لوگوں نے پاکستان کو بچانے اور متحد رکھنے کی کوشش کی وہ اس وقت بھی مظلوم تھے۔۔۔۔۔۔ اورآج بھی مظلوم ہیں

سانحہ مشرقی پاکستان کے تناظر میں ہمیں بحثیت قوم اپنا جائزہ بھی لینا ہو گا کہ 48سال کا عرصہ گزرنے کے بعد ہم کہاں کھڑے ہیں ،اس سانحہ سے ہم نے کیا سبق حاصل کیا۔۔۔؟ ہم سے کیا غلطیاں سرزد ہوئیں اوران غلطیوں کی اصلاح کے لئے ہماری کیا پیش بندی ہونی چاہئے۔۔۔۔۔ کہاجاتا ہے کہ 1971ء میں ہم عسکری اعتبار سے کمزور تھے اس لیے بھارت کو جارحیت کی جرأت ہوئی ۔جزوی اعتبار سے یہ بات درست ہو سکتی ہے ۔ لیکن اصل حقیقت کو پس منظر اور پیش منظر کے ساتھ سمجھنے کے لئے ہمیں65ء اور 71ء کی جنگوں کا موازنہ کرنا ہو گا۔دونوں جنگوں میں 7سال کا وقفہ ہے۔کبھی ہم نے سوچا کہ 65ء میں ہمیں شاندار فتح کیسے نصیب ہوئی اور71ء میں معاملہ اس کے برعکس کیوں رہا۔۔۔۔۔۔۔۔؟ سچی بات یہ تھی کہ 65ء کی جنگ میں ہم نے مدد کے لئے اللہ کو پکارا اوراپنا اتحادی اللہ کو بنایا تھا۔ایوب خان کی تقریر کے ایمان افروز جملہ ’’لاالہ پڑھتے چلو آگے آگے بڑھتے چلو‘‘ سے پورے ملک میں فضائے بدر کا نقشہ بن گیا تھا۔71ء کی جنگ میں ہم نے اللہ کی بجائے ساری امیدیں امریکہ سے وابستہ کرلیں۔اللہ سے رشتہ وتعلق توڑ کر امریکہ سے جوڑ لیا۔آسمان والے کو مدد کے لئے پکارنے کی بجائے امریکی بحری بیڑے کے انتظار میں بیٹھے رہے۔ہم بھول گئے کہ جس کا مدد گار اللہ بن جائے ساری دنیا مل کر بھی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی اور جس کی مدد اللہ نہ کرے ساری دنیا مل کر بھی اسے بچا نہیں سکتی۔پاکستان اسلام کے نام پرقائم ہواہے اس لئے یہ اسلام دشمنوں کی آنکھوں میں کھٹکتاہے ۔بھارت ہویاامریکہ سب اسلام دشمنی پرکمربستہ ہیں،مسئلہ صرف اسلام ہے امریکی صدرڈونلڈٹرمپ کااپنے ملک کاسفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنااسی سلسلہ کی کڑی ہے اوراس بات کاثبوت کہ امریکہ عالم اسلام کے خلاف ایک طویل جنگ کی تیاری کئے بیٹھاہے۔

ان حالات میں سب سے بڑی تدبیر یہ ہے کہ ہم اللہ سے اپنا تعلق مضبوط کریں تب ہی ا للہ کی مدد شامل حال ہوگی ،ہمارا ملک مضبو ط و مستحکم ہوگا اورہمارے مسائل و مصائب بھی حل ہوں گے۔ہمیں یہ بات بھی جان لینی چاہیے کہ 16دسمبر کا سانحہ پاکستانی قوم اور مسلح افواج پر قرض ہے۔ دانا آدمی مقروض ہو جائے تو وہ قرض خوا ہ کے پاؤں نہیں پڑتا بلکہ قرض چکانے کی فکر میں رہتا ہے۔ جو آدمی قرض کی ادائیگی سے بے پروا ہو جائے وہ قرض کی دلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے۔ پھر ایک وقت آتا ہے جب اس کا گھر رہتا ہے نہ عزت و آبرو۔ لوگ اس کے جسم کے کپڑے تک نوچ لیتے ہیں۔ یہی حال قوموں کا ہے قوموں کی تقدیر کے فیصلے حقائق سے آنکھیں چرانے سے نہیں بلکہ فہم و فراست، عقل ودانش، جرأت و شجاعت، دلیری و بہادری، خون کی سیاہی اور شمشیر کی نوک سے لکھے جاتے ہیں۔ یہی زندہ و خوددار قوموں کا طریقہ وشیوہ ہے اور یہی 16دسمبر کا سبق ہے۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...