مشرقی پاکستان کی علیحدگی۔۔۔ اسباب و وجوہات

مشرقی پاکستان کی علیحدگی۔۔۔ اسباب و وجوہات

شاہد رشید

16دسمبر 1971ء ہماری قومی تاریخ کا ایک ایسا المناک دن ہے جب پاکستان دولخت ہو گیا تھا۔اس سانحہ نے دنیا کے ہرگوشے میں بسنے والے پاکستانیوں کو اشکبار کر دیا تھا۔ ہمارے ازلی دشمن بھارت نے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ 14اگست1947ء کو پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد سے ہی بھارت نے پاکستان دشمن پالیسیاں اپنا رکھی ہیں ۔16دسمبر 1971ہمیں ماضی کی اُن کوتاہیوں ،غفلتوں، غلطیوں و تلخ حقائق کی یاد دلاتاہے جس کے باعث سقوطِ ڈھاکہ رونما ہوا ۔ آخر کیا محرکات و اسباب تھے کہ یہ سانحہ رونما ہوا ۔دراصل 1965ء کی جنگ میں پاکستان نے اپنی قوت کا لوہا منوایاجس سے بھارت کی ساکھ کوبین الاقوامی طور پرایک زبردست دھچکا لگا۔ اس کا انتقام لینے کے لیے انڈیا نے مشرقی پاکستان کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنایا ہوا تھا ۔وہ مسلسل مشرقی پاکستان میں نفرت کے بیج بوکر ان کی آبیاری کے لیے مختلف حربے بھی آزمارہا تھا ۔ مشرقی پاکستان کے عوام کو مغر بی پاکستان کے استحصال کا تصور دیا۔ سینکڑوں ہندوؤں کو مشرقی پاکستان میں داخل کیا گیا جنہوں نے جلسے جلوسوں میں نہ صرف ملک کے خلاف نعرہ بازی کی بلکہ اکھنڈ بھارت کے نعرے بھی لگائے۔ تعلیمی اداروں میں ہندواساتذہ کے ذریعے طلبہ کے اذہان میں مغربی پاکستان کے خلاف منفی نظریات پھلائے گئے۔ اس تعصب، نفرت اور تنگ نظری نے مشرقی پاکستان کو رفتہ رفتہ اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ انڈیا مشرقی پاکستان میں وطن دشمن تلاش کرنے میں بھی کامیاب ہوگیا ۔ بھارت نے مشرقی پاکستان کی دوستی کا روپ دھارلیا اور انہیں مغربی پاکستان کے تسلط سے نام نہاد آزاد کرانے کا مژدہ بھی سنا یا۔ اس صورتحال کا پاکستانی حکمران شاید ادارک نہیں کر سکے اور ہمارا رویہ بھی کچھ ٹھیک نہیں تھا۔ پاکستان میں جنرل ایوب کے طویل دور حکومت کے بعد جنرل یحییٰ خان نے اقتدار سنبھال رکھا تھا۔ اسی دوران 1970ء کوملک میں الیکشن کا اعلان کیا گیا ۔ مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب کی عوامی لیگ جبکہ مغربی پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی کا پلڑا بھاری تھا ۔ الیکشن کاجب نتیجہ آیا تو مشرقی پاکستان کی کل 162 نشستوں میں سے عوامی لیگ نے 160جیت لیں جبکہ مغربی پاکستان کی 135نشستوں میں سے پیپلز پارٹی نے 81نشستیں جیتی ۔ شیخ مجیب نے مشرقی پاکستان میں اپنے چھ نکات کے ساتھ الیکشن لڑا تھا۔ یہ چھ نکات ہی بعدازاں متحدہ پاکستان کے دولخت ہونے کا پیش خیمہ ثابت ہوئے ۔ صدر یحییٰ خان سے یہ غلطی سرزد ہوئی کہ اُنہوں نے مجیب کو ان متنازعہ چھ نکات پر الیکشن لڑنے دیا ۔ مجیب انتخابی جلسوں میں بلند و بالا دعوے کرتا چلا گیا۔ عوام کی معاشی بدحالی کی وجہ سے شیخ مجیب کے 6نکات کو بھرپور پھیلنے کا موقع مل گیا۔ شیخ مجیب اپنے چھ نکات کو آئین کا حصہ بنانے پر بضد رہا ، جوکہ قطعاََ غیر ضروری و ناجائز مطالبہ تھا ۔ بھٹو اور شیخ مجیب کے درمیان نئی حکومت کے قیام پر مذاکرات بغیر کسی نتیجے پر ختم ہوئے ۔صدر یحییٰ نے دستور ساز اسمبلی کا اجلاس طلب نہیں کیا۔ شیخ مجیب الرحمن نے بھارتی ایما پراحتجاج کا سلسلہ شروع کیا ، مشرقی پاکستان کے حالات تیزی کے ساتھ خراب ہونے لگے ۔ انڈین فوج کے زیر اثر قائم مکتی باہنی کے غنڈے سرعام قتل کرنے لگے ۔ بھارت بھرپور انداز میں مکتی باہنی اور دیگر گروہوں کو عسکری، مالی اور سفارتی مدد فراہم کررہا تھا۔ مکتی باہنی نے نفرتوں کی آبیاری کر کے بھائی کو بھائی کا دُشمن بنادیا ۔ حکومتی رٹ قائم کرنے اور امن وامان برقرار رکھنے کی غرض سے آپریشن کا آغاز کیا گیا ، پاک فوج نے مختصر مدت میں مشرقی پاکستان میں حکومتی رٹ امن وامان بحال کردیا ۔ لیکن بھارت نے تمام بین الاقوامی ضابطوں کو پامال کرتے ہوئے مشرقی و مغربی پاکستان پر جنگ مسلط کر دی ۔ پاک فوج نے ڈٹ کر دشمن کا مقابلہ کیا۔ تاہم 90ہزار فوج کے مقابل بھارت کی دولاکھ فوج اور ڈیڑھ لاکھ کے لگ بھگ بنگالی مکتی باہنی کے کارندے پاک فوج پر مسلسل حملے کرتے رہے ۔ انڈیا نے مشرقی بازو کاٹنے کے لیے ایک طرف بڑی طاقتوں سے جدید ترین اسلحہ لیا اور دوسری طرف عالمی سطح پر اس ’’ جرم‘‘ کی حمایت بھی حاصل کر لی۔ انڈیا نے بھر پورفوجی طاقت کے ساتھ مشرقی پاکستان پر حملہ اور مغربی پاکستان کے سرحدی علاقوں پر فائرنگ شروع کردی۔ بڑی طاقتیں مشورے دیتے رہے کہ پاکستان سخت ملٹری ایکشن کی بجائے پرامن حل کی تلاش کے لیے اقدامات کرے تاکہ مزید قتل وغارت کو روکا جاسکے۔ انڈیا بڑے دھڑلے کے ساتھ مشرقی پاکستان کے بین الاقوامی بارڈر کوروند کر فوجی غاضبانہ قبضہ کر رہا تھا۔ ہر طرف ہنگامے کھڑے کرنے میں اس کے ادارے مصر وف عمل تھے۔ سب کچھ باقاعدہ پلاننگ اور منصوبہ بندی کے مطابق ہو رہا تھا۔ مکتی باہنی گوریلا تنظیم کی تشکیل بھارتی فوج نے ہی کی تھی۔ اس گوریلا تنظیم نے قتل عام کرتے ہوئے دہشت گردی اور وحشت ناکی کی تاریخ رقم کی۔ ’’مکتی باہنی ‘‘ نے پاکستان کا مشرقی بازو کاٹ کر بنگلہ دیش بنانے میں انڈین مقاصد کو پورا کیا ‘ حالات تیزی سے بگاڑے جارہے تھے۔ پاکستانی فوج کئی محاذوں پر لڑرہی تھی جبکہ سرحدوں پر شدید دباؤ تھا۔ بھارتی فوج نہ صرف مکتی باہنی کے باغیوں کو اسلحہ مہیا کر رہی تھی بلکہ ان کی نگرانی کے ساتھ ساتھ بھارتی فوجی اہلکار سادہ لباس میں ان سے زیادہ تخریبی کاروائیوں میں خود شامل تھے ۔ عمارتیں اور ذرائع مواصلات خاص طور پر ان کے نشانہ بن رہے تھے اور غیر بنگالی مسلمان تو بالکل غیر محفوظ تھے۔ ہندوستانی فوج اور مکتی با ہنی خود کارہتھیار سنبھالے بازاروں میںآزادا نہ پھرتے اورجو چاہتے کرتے۔ 16دسمبر کی وہ سیاہ صبح دلوں پرلرزہ طاری کرنے والی جسم کو چیر کر دو حصوں میں تقسیم کرنے والے اُس لمحہ کے ساتھ آہی گئی جس کے بارے میں افواہیں جاری تھیں کہ سرنڈر سرنڈر۔ جو پاکستان کی محبت میں فدا ہو رہے تھے ان پر بجلی گر رہی تھی، آسمان ٹوٹ رہا تھا ۔ مغربی اور مشرقی پاکستان جو ایک دل و جان تھے۔ کٹتے رہے ، جلتے رہے ، کڑتے رہے جبکہ ہندو خوش ہوتا رہا اور اپنا کام کرگیا۔گزشتہ سال بھارتی وزیر اعظم نریند مودی ڈھاکہ میں کھڑے ہوکر اپنے بچپن اور ہندوستانی قوم کے مشرقی پاکستان میں کئے گئے اپنے جرائم کا اقرار کرتا رہا۔ اتنی سفاکیت کہ جب انسانیت کٹ رہی تھی، مسلمان ذیبحہ ہورہے تھے، مشرقی پاکستان جل رہاتھا ، مکتی باہنی کے قتل عام کا سلسلہ جاری تھا، جلاؤ گھیراؤ اور عصمتوں کی پامالی ہورہی تھی تو نریندرمودی کہتا ہے کہ وہ اس کی زندگی کے یاد گار لمحات ہیں۔ اقبالِ جرم کررہا ہے کہ مکتی باہنی اور بھارتی فوج میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا تھا۔مشرقی پاکستان کی علیحدگی پر انڈین وزیر اعظم اندرا گاندھی نے دہلی میں پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہوئے کہا ہم نے دوقومی نظریہ کو خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے۔ لیکن اندرا گاندھی کا یہ دعویٰ غلط ثابت ہوا کیونکہ بنگلہ دیش نے اپنا الگ وجود برقرار رکھا اور بھارت کا حصہ نہیں بنا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ دوقومی نظریہ آج بھی زندہ ہے۔اب اس خطہ میں ایک کے بجائے دو مسلمان ملک بن گئے ہیں۔

16دسمبر 1971ء کو سقوطِ ڈھاکہ رونما ہوا لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شیخ مجیب اتنا ہی بنگالی قوم کا لیڈر تھا تو اُسے بنگلہ دیشی فوج نے ہی کیوں بیٹوں سمیت 1975میں موت کے گھاٹ اُتارا ۔ بنگالی عوام پر یہ حقیقت آشکار ہوچکی تھی کہ شیخ مجیب صرف بھارت کا وفادار ایجنٹ تھا ، نیز جو وعدے مجیب نے کیے تھے وہ محض دھوکا اور فریب سے زیادہ کچھ نہیں تھا ۔ بنگلہ دیش میں بھارتی اثرورسوخ بڑھ رہا ہے ۔ شیخ مجیب کی بیٹی حسینہ واجد بھارت کے ایماء پر پاکستان سے محبت کرنیوالوں کو پھانسیاں دے رہی ہے لیکن اسے اپنے باپ کا انجام یاد رکھنا چاہئے۔ انڈیا پاک چین اقتصادی راہداری کے خلاف تخریب کاری میں مصروف ہے کہ گوادر پورٹ ناکام ہوجائے۔لیکن بھارت اپنے مذموم عزائم میں ناکام ہو گا اور یہ ملک انشاء اللہ تا قیامت قائم و دائم رہے گا۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...