سانحۂ مشرقی پاکستان:ایک تجزیہ

سانحۂ مشرقی پاکستان:ایک تجزیہ

سکندر خان بلوچ

یہ تاریخ کا بڑا سنگین مذاق تھا کہ پاکستان کی بنیاد1906ء میں ڈھاکہ میں رکھی گئی اور16دسمبر 1971ء کو ڈھاکہ ہی کے پلٹن میدان میں پاکستان کو دو لخت کر دیا گیا۔ ظاہر ہے جب بھی کوئی تاریخی واقعہ جنم لیتا ہے تو اس کی تہہ میں کچھ نہ کچھ وجوہات ضرورہوتی ہیں جو ابتدا میں تو معمولی نوعیت کی نظر آتی ہیں اور اگر عقلمندی سے ان پر قابو نہ پایا جائے تو یہی چھوٹی چھوٹی وجوہات مختلف واقعات کو جنم دیتی ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ کینسر کی طرح پھیل کر پورے جسم کو ناکارہ کردیتی ہیں۔ چھوٹے واقعات آہستہ آہستہ بڑے واقعات کو جنم دیتے ہیں اور پھر یہ بڑے واقعات تاریخ کا رخ تبدیل کرنے کا موجب بن جاتے ہیں۔ اکثر اوقات یہ تاریخ ساز واقعات انسانی تباہی و بربادی کا سبب بنتے ہیں۔

اس تاریخی سانحہ کی کیا وجوہات تھیں؟کن لوگوں کی غلطیوں نے ان وجوہات کو جنم دیا؟ کن لوگوں نے ان وجوہات کو آگ کی شکل دی اور پھر اس پر مسلسل تیل پھینک کربالآخر پاکستان کو توڑ دیا۔ اپنے ہی بھائیوں کو ایک دوسرے کا دشمن بنا کر ایک دوسرے کا خون بہایا۔ جب یہ خون کم ہوا تو مغربی پاکستان کے 93ہزار فوجی اور غیر فوجی دشمن کی قید میں جا چکے تھے۔ کئی لاکھ انسان انسانی وحشت و بربریت کی بھینٹ چڑھ چکے تھے اور مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن چکا تھا۔

دنیا میں بہت سے ممالک کئی ہزار جزیروں پر مشتمل ہیں جو ایکدوسرے سے الگ واقع ہیں لیکن ایسا ملک پوری دنیا میں شاید ہی کوئی ہو جس کے دونوں حصے ایک دوسرے سے اتنے دور ہوں اور درمیان میں اتنا زہر یلااور طاقتور دشمن موجود ہو۔ ہم نے جغرافیائی نا ممکنات کو ممکنات میں بدلنے کی کوشش کی۔

اگر قائد اعظمؒ چند سال اور زندہ رہتے یا ان کی موت کے بعد ہمیں کوئی اور ان جیسا مخلص لیڈر ملتا تو یقیناًان مشکلات پر قابو پا لیا جاتا۔ لیکن افسوس کہ ایسا کچھ بھی نہ ہواحتیٰ کہ ہم متفقہ طور پر کوئی سیاسی نظام بھی نہ بنا سکے جو ہمیں ایک دوسرے کے نزدیک لے جاتا۔ پھر پے در پے مارشل لاؤں نے بھی جلتی پر تیل کا کام کیا اور علیحدگی کا سبب بنے۔ ان سب تلخ حقائق کے باوجود ہماری یکجہتی کے خلاف سب سے اہم ہتھیار وہاں کی ہندوآبادی تھی۔ قیام پاکستان کے وقت مشرقی پاکستان کی کل آبادی تقریباً 4کروڑ کے لگ بھگ تھی جن میں تقریباً 50لاکھ ہندو تھے جو تجارت، مالی امور، تعلیم اور بقیہ سروسز میں اہم مقامات پر تعینات تھے۔ انہوں نے شروع سے جس تعلیمی نظام کی بنیاد رکھی وہ مغربی پاکستان مخالف تھا، کیونکہ اس کا رخ کلکتہ کی طرف موڑ دیا گیا تھا۔ اسلام کی بجائے بنگالی کلچر کو تعلیم کا اہم موضوع بنایا گیا مثلاً ایک دفعہ میرے ایک دوست نے تیسری جماعت کے حساب کی کتاب دکھائی،جس میں کئی ایسے سوالات تھے جو بنگالی بچوں کے ذہنوں میں زہر گھولنے کے لئے کافی تھے۔ ذرا اس مثال پر غور کریں۔

(الف)’’پنسل بنانے کی لکڑی مشرقی پاکستان میں پیدا ہوتی ہے، لیکن پینسلیں مغربی پاکستان میں بنتی ہیں جو پھر یہاں بھیجی جاتی ہیں۔ وہاں ایک پنسل دو پیسے میں بنتی ہے اور یہاں پہنچ کر ایک آنے میں فروخت ہوتی ہے۔ مشرقی پاکستان وہاں سے سالانہ تقریباً 15سے20کروڑ پنسلیں منگواتا ہے تو بتائیے ایک سال میں مغربی پاکستان نے مشرقی پاکستان سے کتنا زیادہ پیسہ وصول کیا۔

(ب)یہی پنسل اگر ہم کلکتہ سے منگوائیں تو یہاں دو پیسے میں فروخت ہوگی اگر ہماری ضرورت 15کروڑ پینسلیں سالانہ ہو تو بتائیں ایک سال میں مشرقی پاکستان کتنی رقم کی بچت کرے گا؟‘‘

اس قسم کے کئی اور سوالات تھے۔ جب چھوٹے معصوم بچوں کے ذہن میں اس قسم کے سوالات ڈالے جائیں گے تو وہ صحیح پاکستانی کیسے بنیں گے؟۔ وہاں ہندو اثر و رسوخ اتنا زیادہ تھا کہ ایک مرحلے پر راج شاہی یونیورسٹی کے اسلامیات کے شعبے کا سربراہ ہندو تھا۔ ہمیشہ چھوٹے چھوٹے واقعات مل کر بڑے واقعات کو جنم دیتے ہیں جو بعد میں تاریخ پر اثر انداز ہوتے ہیں اور یہی کچھ وہاں بھی ہوا۔ اسی قسم کے چھوٹے چھوٹے واقعات بعد میں طوفان کا روپ دھار گئے۔

اس پس منظر میں اگر ایماندارانہ تجزیہ کیا جائے تو جو کچھ 1971ء میں ہوا ان حالات و واقعات کا قدرتی تسلسل تھاجو 1947ء سے وقوع پذیر ہو رہے تھے۔ ہر ملک کی سا لمیت بچانے کا آخری سہارا چونکہ فوج ہوتی ہے اس لئے یہاں بھی ملک کی سا لمیت کا آخری معرکہ فوج ہی کو لڑنا پڑا۔ اس کی جو بھی وجوہات تھیں وہ یقیناًفوج کی اپنی پیدا کردہ نہ تھیں۔ فوج سے میری مراد وہ جرنیل قطعاً نہیں جن کے ہاتھ میں اس وقت ملکی باگ دوڑ تھی۔

1971ء کی جنگ بہت ہی غیر متوازن جنگ تھی جو بھارت نے پاکستان آرمی پر تھوپی۔ یہ جنگ اپنی بنیاد(مغربی پاکستان) سے1200 میل دور لڑی گئی جبکہ مغربی پاکستان سے ہر قسم کا رابطہ منقطع ہو چکا تھا۔ تقریباً ڈیڑھ لاکھ مکتی باہنی فورس مکمل طور پر تربیت یافتہ اور اسلحہ سے لیس بھارت کی مدد سے میدان میں آگئی۔ ہماری کل جنگی استعداد آخر تک45ہزار سے زیادہ نہ تھی، جس میں لڑاکا فوج کی تعداد تقریباً25سے30ہزار تھی اور باقی سروسز کے لوگ۔ان سب مشکلات کے باوجود پاکستانی فوج شیروں کی طرح لڑی۔ بقول فیلڈ مارشل مانک شا۔ پاکستان فوج 9ماہ مسلسل لڑ لڑ کر تھکاوٹ سے چور تھی۔ راشن نہ ہونے کے برابر تھا۔ جسم زخمی تھے۔ پانی اور دلدلی علاقوں میں چل چل کر پاؤں گل چکے تھے۔ بھوک پیاس اور نیند سے برا حال تھا۔ اس کے باوجود پاکستان آرمی نہ تو میدان سے بھاگی اور نہ کوئی سولجر چھپا۔ جہاں کہیں بھی انہیں موقعہ ملا وہ ڈٹ کر لڑے اور یہی ایک اچھی فوج کی خصوصیت ہوتی ہے۔

زندہ قومیں ہمیشہ اپنے ہیروز پر فخر کرتی ہیں۔ ایسے لوگ اپنی جانیں دے کر ملک کی سا لمیت بچاتے ہیں۔ اب بنگلہ دیش ہی کی مثال لیں۔ فلائٹ لیفٹیننٹ مطیع الرحمن وہ آفیسر تھا جس نے فلائنگ آفیسر راشد منہاس کا جہاز اغوا کرنے کی کوشش کی تھی اور جہاز بمعہ راشد منہاس اور مطیع الرحمن تباہ ہوا۔ وہ پاکستان ائیر فورس کا آفیسر تھا۔ اسوقت تک بنگلہ دیش بھی نہیں بنا تھا۔ اس لحاظ سے وہ پاکستان کا غدار تھا۔ یہ واقعہ1971ء میں پیش آیا۔ اسے کراچی میں دفن کر دیا گیا۔2006ء میں حکومت بنگلہ دیش نے اس کی لاش پاکستان سے واپس لی اور اسے وطن جا کر پورے فوجی اعزاز کے ساتھ دفن کیا۔یادگار تعمیر کی اور ایک ائیر بیس اس کے نام سے منسوب کی۔ اسی طرح ہمیں بھی چاہئے تو یہ تھا کہ ہم اپنے شہدا کو واپس لاتے ،لیکن ہم ایسا نہ کر سکے۔ آج ہماری نئی نسل کو اپنے ان ہیروز کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں جو اس جنگ میں غازی بنے یا شہید ہوئے۔ آئیں مل کر اپنے سرفروشانِ وطن کو پہچانیں اور ان کی عظمت، جرات اور قربانی کو سلام پیش کریں۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...