سانحہ آرمی پبلک سکول ، جوڈیشل انکوائری ہوئی نہ ہی نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد!

سانحہ آرمی پبلک سکول ، جوڈیشل انکوائری ہوئی نہ ہی نیشنل ایکشن پلان پر عمل ...

خالد خان

اپنے بچوں کے خون کا سودا کرکے پلاٹ اور نقد رقم لینے کے افواہوں کی مذمت کرتے ہیں۔’’پاکستان فورم‘‘ میں غمزدہ اہل خانہ کا اظہار خیال

16 دسمبر 2014 سانحہ آرمی پبلک سکول کو تین سال بیت چکے ہیں سانحہ میں سٹاف سمیت 147 معصوم بچے شہید ہوئے تھے۔ آرمی پبلک سکول سانحہ کے بعد خیبرپختونخوا میں اسی طرح دہشت گردی کے بیشتر واقعات رونما ہوئے ،جس میں باچا خان یونیورسٹی چارسدہ ، اور حال ہی میں پشاور زرعی یونیورسٹی میں رونما ہونے والا دلخراش واقعہ جس میں درجنوں طلباء شہید ہوئے ،لیکن سانحہ آرمی پبلک سکول نا بھولنے والا سانحہ تھا ۔اور اس سانحہ نے نہ صرف قوم کو بیدار کیا ،بلکہ تمام سیاسی پارٹیوں اور سیکورٹی ایجنسیوں کو بھی ایک پیج پر ہونے پر مجبور کیا۔ اور اے پی سی بلائی جس میں ملک دشمن عناصر سے سختی سے نمٹنے کیلئے اور ان کا قلع قمع کرنے کیلئے سخت فیصلے لئے جس میں نیشنل ایکشن پلان اس سانحہ کی تحقیقات شامل تھے لیکن تین سال گزرنے کے باوجود اس سانحہ کے لئے نا تو جوڈیشل انکوائری ہوئی اور نہ ہی نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد ہوا ،اور ہر سال 16 دسمبر کو آرمی پبلک سکول میں برسی مناکر والدین کو دادرسی دی جاتی ہے۔ شہداء کے والدین آج بھی ان مطالبات کو پورا کرنے کیلئے ہر پلیٹ فارم پر جدوجہد کررہے ہیں تاکہ ملک دشمن عناصر کا خاتمہ ہو اور آرمی پبلک سکول جیسا سانحہ دوبارہ رونما نہ ہو اور قوم کی آنے والی نسلیں محفوظ ہوں اور انکا مستقبل روشن ہو کہا جاتا ہے کہ وقت کے ساتھ ہر زخم بھر جاتا ہے لیکن سانحہ آرمی پبلک سکول ایک ایسا دلخراش سانحہ تھا جس کا زخم ہر دن تازہ ہوجاتا ہے اور ہر دن والدین کے لئے قیامت کا دن ہوتا ہے کیونکہ ہر ماں باپ کے جگر گوشے جب ان کے سامنے خون سے لت پت ہوں تو وہ والدین جیتے جی مرجاتے ہیں اس سانحے نے نہ صرف والدین کو ساری عمر کیلئے زخم دئیے بلکہ بچ جانے والے بچے بھی زہنی کوفت اور گھٹن کی زندگی گزار رہے ہیں اور اس سانحہ کو بھولنے کی بجائے ان کے زہنوں پر نقوش چھوڑ دئیے ہیں سانحہ آرمی پبلک سکول میں شہید ہونے والے بچوں کے والدین نے وفاقی حکومت اور آرمی چیف سے مطالبہ کیا ہے کہ ہمارے بچوں کو ہم سے بچھڑے تیسرا سال ہونے کو ہے مگر تاحال گورنمنٹ کی طرف سے ہم سے جو وعدہ کیا گیا تھا۔ کہ جوڈیشل انکوائری اور نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کیاجائے گا مگر تاحال کوئی شنوائی نہیں ہوسکی جو کہ شہداء کے اہل خانہ کے ساتھ سراسر زیادتی ہے۔ جبکہ ہر سال 16 دسمبر کو ہمارے زخم تازہ ہوجاتے ہیں اور ہم حکومت سے بار بار مطالبات کرتے ہیں کہ تاکہ آرمی پبلک سکول جیسا سانحہ دوبارہ نہ ہو اور ہماری آنے والی نسل محفوظ رہے۔ اور مزید کسی ماں سے اس کا جگر گوشہ جدا نہ ہو ۔شہداء کے والدین نے روزنامہ پاکستان کے فورم میں بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ ہمارے پیچھے افواہیں ہیں کہ ہم نے حکومت وقت کے ساتھ اپنے بچوں کے خون کا سودا کرکے پلاٹ اور نقد رقم لینے کی جو افواہیں گردش کررہی ہیں وہ سراسر جھوٹ پر مبنی ہیں سانحہ 16 دسمبر آرمی پبلک سکول کا ایک ایسا دلخراش واقعہ ہے جو تاحیات نہیں بھلایا جاسکتا ہے اور نہ ہی ہمارے زخم بھرے جاسکتے ہیں ہمارا ہر دن قیامت کا دن ہوتا ہے یہ باتیں غازی ملک حسن اور شہید ملک اسامہ کے والدین ملک طاہر اعوان ، والدہ ، شہید سیف اللہ اور نور اللہ کے والدین تحسین اللہ ، شہید محمد غسان کے والد ڈاکٹر امین اور والدہ ، شہید ایمل خان کے والد عتیق اختر اور والدہ ، 13 سالہ شہید محمد شہیر کی والدہ شگفتہ ، شہید شمائل کلاس نہم عمر 15 سال اور دانیال طارق کلاس ہشتم کے والدین طارق اور والدہ ، پچیس سالہ شہید ٹیچر سعدیہ گل کے والدین گل شہزاد ، 15 سالہ شہید اسفند کلاس 10th، نے روزنامہ پاکستان سے بات چیت کرتے ہوئے اسامہ کے والد ملک طاہر اعوان نے بتایا ۔کہ شہید اسامہ بڑا ذہین اور ہونہار لڑکا تھا اور مستقبل میں سافٹ وئیر انجینئر بننا چاہتا تھا، حالانکہ میرے چار بیٹے ہیں اور ان میں یہ میرا بیٹا خاموش طبیعت کا تھا شہادت سے چھ ماہ قبل مجھ سے پوچھتا ہے کہ ان کے کزن اقراء سکول میں قرآن کا حفظ کررہے ہیں۔ ہمارے لئے بھی کسی ایسا بندوبست کریں کہ ہم قرآن کا حفظ کرسکیں، اور میرے بھائی نے شہید اسامہ اور میرے بچوں کے لئے ایک قاری گھر پر مقرر کیا۔ جس نے انہیں ناظرہ کے ساتھ ساتھ قرآن کا حفظ بھی شروع کیا۔ تو ایک دن شہید اسامہ نے کہا کہ میرے دسمبر میں امتحانات ہیں تو میں کیسے حفظ مکمل کرونگا ۔تو قاری نے جواب دیا کہ آپ امتحانات سے فارغ ہو جاؤ تو حفظ بھی پورا کرلیں گے۔ جس دن اسامہ کی شہادت ہوئی اس سے چند دن پہلے چار پارے حفظ کئے تھے اے پی ایس سانحہ کو گزرے تین سال ہوگئے ہیں۔ لیکن ایسا لگ رہا ہے کہ یہ سانحہ اب رونما ہوا ہے اور ہر صبح ناشتے کی ٹیبل پر اسامہ کی شدت سے کمی محسوس اور جب رات کو دسترخوان پر بیٹھتے ہیں تو تب بھی ان کی کمی محسوس ہوتی ہے ۔ اس کی پسندیدہ ڈش بریانی جب بنتی تھی تو گھر میں بیٹھے میرے بچے ان کی موجودگی کو محسوس کرتے تھے اور ان کمرے سے اگربتیوں کو خوشبو بھی آتی تھی تو بھائی انہیں ٹیبل پر پکارتے تھے کہ اسامہ آپکی پسندیدہ ڈش بریانی بنی ہے آپ کی پلیٹ موجود ہے آؤ کھالو تو اپنی موجودگی کو چند سیکنڈ کیلئے ظاہر کرکے چلا جاتا تھا اس سانحہ کے بعد ہم ٹراما میں چلے گئے اور زہنی کوفت سے بھری زندگی گزار رہے ہیں ۔ 13 سالہ شہید شہیر کی والدہ شگفتہ نے کہا کہ شہیر کلاس 8th میں پڑھتا تھا اللہ تعالیٰ کی جانب سے شہیر میں کچھ علیحدہ خاصیتیں تھیں جبکہ شہیر بڑا ذہین تھا البتہ تمام بچے بڑے ذہین تھے کیونکہ اے پی ایس میں کمزور ذہن والے بچے نہیں چل سکتے شہید شہیر پڑھائی کے ساتھ ساتھ کھیل کود میں ماہر تھا شہیر مجھ سے ڈائریکٹ بات کرتا تھا لیکن غازی منیب جو کہ سانحہ میں بچ گیا تھا مجھ سے کوئی بھی بات نہیں کہہ سکتا تھا اور شہیر کے ذریعے ہی فرمائش کرتا تھا اور ایک ویڈیو گیم اے پی ایس فور کی فرمائش کی جسکی قیمت اس وقت 80 ہزار روپے تھی لیکن میں نے بچوں کو کہا کہ آپ اپنا رزلٹ مجھے بتائیں تب میں یہ گیم لے کر دونگا 15 سالہ شہید نور اللہ کلاس 9th اور 13 سالہ سیف اللہ کلاس 8th کے والد تحسین اللہ درانی نے بتایا کہ پلے گروپ سے ہی ان بچوں کو آرمی پبلک سکول میں داخل کرانے کیلئے گاؤں سے پشاور شفٹ ہوا تھا تاکہ میرے بچوں کا مستقبل روشن ہو کیونکہ میرا جس علاقے سے تعلق ہے وہ ایک پسماندہ علاقہ ہے لیکن اس سانحہ کے بعد آج بھی ہم سانحہ 16 دسمبر 2014 سے نہ نکل سکے اور زہنی کوفت کی زندگی گزار رہے ہیں کیونکہ ہم نے بچے جہاد کے لئے نہیں پڑھائی کیلئے بھیجے تھے ۔ محمد غسان عمر 13 سال کلاس 8th کے والد محمد امین نے بتایا کہ میرا بچہ ایک میچور بچہ تھا اور بڑا ذہین تھا اور ہر کلاس میں وہ ہر سال A+ مارکس لیتا تھا اور 50 سے زائد سرٹیفیکیٹس ، دو گولڈ میڈل اور پانچ سوینئر لئے تھے ذہانت کا مقابلہ ہو یا بیدبازی کے مقابلے ہوں یا کھیلوں کے مقابلے محمد غسان ہر مرتبہ پہلی پوزیشن حاصل کرتا تھا حالانکہ وہ باسکٹ بال کا بہترین کھلاڑی تھا بڑوں کی عزت کرتا تھا اور اسے رشتوں کی پہچان تھی اور وہ اپنی جگہ ہر ایک رشتے کو نبھاتا تھا غسان جیسا بیٹا اللہ تعالیٰ ہر کسی کو دے ۔ 15 سالہ شہید شمائل کلاس 9th اور دانیال طارق کلاس 8th کے والد طارق نے بتایا کہ سانحہ کو تین سال گزر گئے ہیں۔ لیکن ہماری وہی کیفیت ہے اور ذہنی کوفت میں مبتلا ہیں میرے پانچ بچے اس سانحے کے وقت اے پی ایس میں موجود تھے ۔سہیل طارق اور طفیل طارق دونوں بچ گئے تھے لیکن اس سانحہ نے میرے دونوں بیٹوں کو زہنی کوفت میں مبتلا کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں جھٹکوں کی بیماری میں مبتلا کردیا اور ان کی اب پڑھائی میں دلچسپی نہیں رہی ۔اور ان کا علاج سائیکاٹرک سے جاری ہے میرے تو اس سانحہ میں ایسا سمجھو کہ پانچ بیٹے شہید ہوئے اور ہر دن ہم جیتے ہیں اور ہر دن ہم مرجاتے ہیں میرا غم تو ان دوسرے شہیدوں سے زیادہ ہے ۔جبکہ بعض اوقات میرے بیٹے الٹی سیدھی باتیں اور جہاد پر جانے والی باتیں کرتے ہیں ۔ ٹیچر سعدیہ گل شہید کے والد گل شہزاد نے بتایا کہ سانحہ کے روز والدہ سے کہہ رہی تھی کہ میں آج سکول نہیں جاؤں گی لیکن اس دوران گاڑی آئی اور وہ سکول گئی لیکن اپنا موبائل گھر پر چھوڑ چکی تھی تو ہمیں پتا چلا کہ آرمی پبلک سکول پر حملہ ہوا ہے اور اس میں سعدیہ گل شہید ہوئی لیکن اس سے تین روز قبل بھی میں ایک خواب دیکھتا ہوں کہ ہمارے علاقے کرک میں ایک جنازہ کے اعلانات ہورہے ہیں جب میں نے لوگوں سے پوچھا تو انہوں نے یہی بتایا کہ آپ کی بیٹی کا جنازہ ہے وہ ایک بہت مہمان نواز اور عزت دینے والی لڑکی تھی پورے خاندان میں اس سے کسی بھی کام کے حوالے سے مشورہ لیا جاتا تھا ہم بڑے خوش نصیب ہیں کہ بیٹی کو شہادت نصیب ہوئی اور ہم اس کے لئے آج اور ہر روز قرآن خوانی کرتے ہیں۔ شہید اسفند کی والدہ نے بتایا کہ ہمارے گھر میں ہر روز 16 دسمبر ہوتا ہے اور ان کی سالگرہ پر ہم ان کی کمی کو محسوس کرتے ہیں اور ان تمام بچوں کی سالگرہ مناتے ہیں اسفند ایک ذہین اور میرے ساتھ ہر کام میں ہاتھ بٹاتا تھا لوگ کہتے ہیں کہ شہید کی مائیں نہیں روتیں لیکن ان شہیدوں کی مائیں ہر روز خون کے آنسو رو رہی ہیں ۔

مزید : ایڈیشن 2


loading...