2017، 4ہزار سے زائد سکول سربراہان، اساتذہ کیخلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی

2017، 4ہزار سے زائد سکول سربراہان، اساتذہ کیخلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی

ملتان ( اعجاز مرتضیٰ سے ) 2017 پنجاب کے سرکاری سکولز سربراہان اور اساتذہ پر بھاری رہا‘4000سے زائدسکولز (بقیہ نمبر23صفحہ12پر )

سربراہان اور اساتذہ پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائیوں کی زد میں آئے‘ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹیزکا نوٹیفکیشن جاری ہوا مگر چیئرمین ‘وائس چیئرمین اور ممبران نامزد نہ کئے جا سکے۔ صوبے میں ستم زدہ ڈیڑھ کرو ڑمزدور بچے غربت کے باعث سکولز میں داخل نہ ہو سکے ۔تفصیل کے مطابق 2017کے اختتام کو چند روز باقی رہ گئے ہیں اور2018کی آمد قریب ہے ۔ 2017 پنجاب کے سکولز سربراہان پر بھاری رہا ‘ ملتان سمیت صوبہ بھر کے گریڈ 17سے 20تک کے4000سے زائد ہیڈ ماسٹرز‘ سینئر ہیڈ ماسٹرز ‘ ہیڈ مسٹریسز ‘سینئرہیڈ مسٹریسزاور پرنسپلزکم انرولمنٹ‘ ناقص امتحانی نتائج‘ طلبا وطالبات کے زائد ڈراپ آؤٹ اورمختلف بے ضابطگیوں کے الزامات پر پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی کی زد میں آئے ‘یکم جنوری 2017کو ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ا یجوکیشن( ای ڈی او تعلیم) کا عہدہ ختم کرکے اس کی جگہ چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی( سی ای او‘ ڈی ای اے) کا عہدہ متعارف کرایاگیا۔ ای ڈی اوز ایجوکیشن کو ہی قائم مقام چیف ایگزیکٹو آفیسرز ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹیزمقرر کر دیا گیا مگر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹیز تاحال مکمل نہیں کی گئیں ‘ ان کے چیئرمینوں‘ وائس چیئرمینوں وممبران کا تقرر نہیں کیا جاسکا ‘ چیئرمین ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹیز مقرر کرنے کے لئے 3بار امیدواروں کے انٹرویو کرکے آگے پیش رفت نہیں کی گئی ‘ یکم جنوری کو ہی ڈویژنل ڈائریکٹوریٹ آف سکولز کا سسٹم بحال کیا گیا مگر ان کے دفاتر نہ بن سکے نہ ہی ڈویژنل ڈائریکٹرز سکولز کا تقررکیا گیا اور سی ای اوز کو ڈائریکٹرز سیکنڈری اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز ایلمنٹری کو ڈائریکٹر زسکولز ایلمنٹری کا اضافی چارج دے کر ان کے کمروں کے باہر ڈائریکٹرز سکولز کی نیم پلیٹ آویزاں کر دی گئیں ۔ڈپٹی کمشنر ز کو ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹیز کا ایڈمنسٹریٹرز مقرر کیا گیا ۔ملتان میں اس سال 2سی ای اوز تعلیم تبدیل کئے گئے ‘ پہلے سی ای او اشفاق گجر کا خانیوال تبادلہ کرکے وہاں سے اعزاز احمد خان جوئیہ کو سی ای او ملتان تعینات کر دیا گیا مگر ساہیوال میں تعیناتی کے دوران ایم پی اے خضر حیات کھگہ کا ناجائز’’حکم‘‘ نہ ماننے اور اینٹی کرپشن کے چھاپے کے دوران رشوت لیتے پکڑے جانے والے کرپٹ کلرک جہانگیر کو من پسند سیٹ پر تعینات کرنے سے انکار پرصوبے بھر میں میرٹ پسندی کے حوالے سے مشہور اعزاز احمد خان جوئیہ کو دیانتداری اور اصول پسندی کی قیمت چکانا پڑی ۔ایم پی اے خضر حیات کھگہ کی طرف سے سی ای او اعزاز احمد خان جوئیہ کے خلاف پنجاب اسمبلی میں تحریک استحقاق پر اعزاز احمد خان جوئیہ کو سی ای او تعلیم ملتان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا اور ان کی جگہ میرٹ پسند رئیس احمد اعوان ایک سال میں ملتان کے تیسرے سی ای او تعلیم مقرر ہوئے جنہوں نے سکولز کی بہتری ‘تزئین وآرائش ‘ کوالٹی آف ایجوکیشن پر فوکس کرلیا‘ اعزاز احمد خان جوئیہ کی طرح رات گئے تک سسٹم کی بہتری کے لئے مصروف عمل رہتے ہیں روزانہ سکولز کے اچانک معائنوں‘ غیر ذمہ دار افسران ‘ سکولز سربراہان‘ اساتذہ و اہلکاروں کی معطلی اور سزاؤ ں جبکہ قابل ‘ فرض شناس سکولز سربراہان‘ اساتذہ‘ افسران و سٹاف کی حوصلہ افزائی کا سلسلہ شروع کر دیا جس سے فرض شناس افسران ‘سکولز سربراہان ‘ اساتذہ و ملازمین خوش ہوئے اور نا اہل و کرپٹ ملازمین میں تھرتھلی مچ گئی ۔سی ای او ررئیس احمد اعوان نے اساتذہ کے سکیل اپ گریڈیشن کے کیسز ترجیجی بنیادوں پر مکمل کئے ‘ اساتذہ و اہلکاروں کی ان سروس پروموشن کے لئے مسلسل ڈی پی سی کا انعقاد کرکے اساتذہ و ملازمین کو ان کا حق دلوایا۔2018میں ہی میونسپل کارپوریشن سکولز کو ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹیز کے تحت کر دیا گیا ‘اس سال اساتذہ کے تبادلوں پر پابندی نہ اٹھائی گئی جس سے دور دراز علاقوں میں تعینات اساتذہ مشکلات میں مبتلاہو گئے۔دوسری جانب صوبے کے با اثراساتذہ ارکان اسمبلی و سیاسی شخصیات کے ذریعے لاہور سے وزیر اعلی ٰ کا ڈائریکٹو جاری کراکر اپنے تبادلے کراتے رہے۔2018میں ہی سیٹلائٹ سکولز کامنصوبہ شروع کیا گیا جس کے تحت ایسے سکولز جو آبادی سے دورہیں اور وہاں آنے جانے میں چھوٹے بچوں کو مشکلات درپیش ہیں ‘ وہاں آبادی کے قریب ان سکولز کے سب کیمپس کے طور پر سیٹلائٹ سکولز کھول کر چھوٹے بچوں کو داخل کیا جارہا ہے ۔اسی سال ملتان سمیت صوبے کے 1080 سکولز میں ٹیکنیکل کلاسز کا منصوبہ بنایا گیا اور پہلے سے موجود ٹیکنیکل لیب کو فعال کیا گیا ۔وزیر اعلی ٰ شہباز شریف نے شعبہ تعلیم کے لئے اربوں روپے کے خصوصی فنڈز فراہم کئے اور سرکاری سکولز میں مفت تعلیم اور مفت کتابوں و یونیفارم کی فراہمی کا سلسلہ جاری رکھا ‘ملتان کے میٹرک و انٹر میڈیٹ میں 90فیصد سے زائد نمبرز لینے والے طلباوطالبات کو تاحال لیپ ٹاپ نہیں مل سکے جبکہ دیگر کئی اضلاع کے طلبا وطالبات مستفید ہو چکے ہیں ۔اس سال سیکرٹری تعلیم سکولز عبدالجبا ر شاہین کا تبادلہ کرکے ان کی جگہ ڈاکٹر اللہ بخش کو نیا سیکرٹری تعلیم سکولز پنجاب مقرر کیا گیا جنہوں نے اساتذہ کے احترام کی پالیسی کو فروغ دیا اور خود بھی اساتذہ سے اجازت لے کر کلاس رومز میں داخل ہونے کی روایت ڈالی ۔صوبے میں ستم زدہ ڈیڑھ کرو ڑمزدور بچوں کا تعلیم حاصل کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا ۔یہ بچے غربت کے باعث سکولز میں داخل نہ ہو سکے اور وہ تاحال پٹرول پمپس‘ ورکشاپس‘دکانوں‘ ہوٹلوں اور دیگر مقامات پر جبر ی مشقت کا شکار ہیں ۔ حکومت پنجاب کے احکامات کے باوجود لیبر ڈیپارٹمنٹ نے ذمہ داری نہیں نبھائی اور مجبور مزدور بچوں کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...