خواتین کی مالی شمولیت کو فروغ دینے کیلئے اداروں کے درمیان تعاون

خواتین کی مالی شمولیت کو فروغ دینے کیلئے اداروں کے درمیان تعاون

کراچی (اسٹاف رپورٹر) چار ملکی اور ملٹی نیشنل ادارے خواتین کی مالی شمولیت کو فروغ دینے کیلئے تعاون کریں گے تاکہ پورے پاکستان میں کم آمدنی والی خواتین کیلئے مالی خدمات کی دستیابی میں اضافہ کیا جاسکے ۔ اس شراکت کا اعلان آج کیا گیا ہے جو پاکستان کے پریمئر موبائل فنانشل سروسز فراہم کرنے والے ادارے جاز کیش اورکنزیومر پروڈکٹس بنانے والے یونی لیور پاکستان کی تکنیکی مہارت کو یکجا کرے گا۔ پاکستان میں اس پروجیکٹ پر عمل درآمدایک پاکستانی غیر منافع بخش مالی ترقیاتی کمپنی کار انداز پاکستان اور عالمی غیر منافع بخش ادارے ویمنز ورلڈ بینکنگ کے تعاون سے کیا جائے گا۔ اس شراکت کا مقصد ایجنٹ بینکنگ ماڈل کے بارے میں تحقیق کرنا، ڈیزائن کرنا اوراسے ترقی دینا ہے جو کم آمدنی والی خواتین کو خدمات فراہم کرے گا جنہیں اکثر باضابطہ مالی خدمات تک رسائی میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس پروجیکٹ کو یونی لیور کے وسیع نیٹ ورک’ گڈی باجی‘ کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے جو خواتین ریٹیل ایجنٹس پر مشتمل ہے۔ یہ نیٹ ورک پورے پاکستان کی دیہی اور کم آمدنی والی کمیونٹیز میں یونی لیور کی پروڈکٹس فروخت کرتا ہے۔ ویمنز ورلڈ بینکنگ کو خواتین کی زندگی پر تحقیق کا تقریباً 40 سال کا تجربہ ہے جس کے تحت ایسے حل تلاش اور ٹیسٹ کئے جاسکیں جو ’گڈی باجیز‘ کو موبائل بینکنگ ایجنٹس کے طور پر خدمات دینے کے قابل بناسکیں۔ یہ خواتین انٹرپرینیور جاز کے ریٹیل نیٹ ورک کی توسیع کے طور پر کام کریں گی اور موبائل اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے دیہی علاقوں میں خواتین کو جاز کیش کے موبائل اکاؤنٹ فراہم کریں گی۔بینکنگ ایجنٹ کی یہ قسم خواتین کو اس بات کا موقع فراہم کرے گی کہ وہ گھر کے نزدیک ہی رہ بینک آنے جانے کا خر چا بچا سکیں۔جاز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عامر ابرا ہیم نے کہا،’’ جاز کیش نے پاکستان میں بینکاری کی خدمات سے محروم طبقے کو ہمیشہ بنیادی مالی خدمات فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس نیٹ ورک میں خواتین کی شمولیت ان کی آمدنی میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ ہماری آؤٹ لیٹس پر دستیاب خواتین کی مالی ضروریات پوری کرنے کیلئے آرام دہ ذریعہ ثابت ہوگا۔یونی لیور پاکستان کی چیئرپرسن اور چیف ایگزیکٹو آفیسر شازیہ سید نے کہا، ’’ گڈی باجی اقدام دیہی خواتین کی آمدنی میں اضافہ کرکے انہیں بااختیار بنانے کے علاوہ کمیوٹی میں ان کے اثر و رسوخ کو بھی بڑھاتا ہے۔ ہم صنفی اسٹریو ٹائپ کو ختم کررہے ہیں اور رول ماڈل بنا رہے ہیں۔ مجھے پورا اعتماد ہے کہ جاز کے ساتھ ہماری شراکت داری موبائل کی طاقت کے ذریعے پاکستان کی دیہی خواتین کیلئے مواقع میں اضافہ کرے گی۔‘‘ویمنز ورلڈ بینکنگ کار انداز پاکستان کو قریبی تعاون فراہم کرے گا جو ٹیکنالوجی کی بنیاد پر کام کرنے والے ڈیجیٹل سولوشنز استعمال کرکے مالی شمولیت کو فروغ دیتا ہے۔ یہ دونوں ادارے ایک کامیاب ایجنٹ بینکنگ ماڈل کی تیاری کیلئے اپنے تجربے کی بنیاد پر بہترین عالمی مشقوں سے فائدہ اٹھائیں گے تاکہ اس پروجیکٹ کے ذریعے خواتین کی مدد کی جاسکے۔کار انداز پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر علی سرفراز نے خواتین کی شمولیت کیلئے ڈیجیٹائیزیشن کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا ،’’ کار انداز پاکستان کا بنیادی نظریہ خواتین کی مالی شمولیت کو فروغ دینا ہے۔ اگر ہمیں اقوام متحدہ کے سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ گولز میں قابل ذکر پیشرفت کرنا ہے تو پاکستان کی ترقی میں خواتین کی شراکت کو یقینی بنانے کیلئے فوری طور پر اقدامات کرنے ہوں گے۔اس کام کو کرنے کا ایک طریقہ فنانشل سروسز تک خواتین کی رسائی کو بہتر بنانا ہوگا اور ڈیجیٹل فنانشل سروسز خواتین تک فنانشل سروسز کو لانے کیلئے فیصلہ کن کردار ادا کرسکتی ہیں۔‘

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر