دریائے راوی کا پانی بپھرا تھا لیکن جب آپ نے دریا میں قدم رکھے تو پانی نے راستہ دے دیا،یہ صاحب کرامت بزرگ کون تھے؟ آپ بھی جانئے

دریائے راوی کا پانی بپھرا تھا لیکن جب آپ نے دریا میں قدم رکھے تو پانی نے ...
 دریائے راوی کا پانی بپھرا تھا لیکن جب آپ نے دریا میں قدم رکھے تو پانی نے راستہ دے دیا،یہ صاحب کرامت بزرگ کون تھے؟ آپ بھی جانئے

  

حضرت شاہ غلام نبی ؒ اپنے عالی مرتبت والد حضرت محمود بن محمد عظیم ؒ کے شاگرد اور مرید و خلیفہ تھے۔خزینۃ الاصفیہ میں لکھا ہے کہ آپ صاحب کرامت تھے اور توکل کی دولت سے مالا مال تھے۔یقین کے ساتھ اللہ کا نام لیکر جو کام کرتے وہ پورا ہوجاتا۔ایک دفعہ موسم برسات میں دریائے راوی بڑی طغیانی پر تھا۔ امواج دریا شہر لاہور کی فصیل سے ٹکرا رہی تھیں۔ حتیٰ کہ کشتی میں سفر کرنا بھی خطرے سے خالی نہیں تھا۔ انہیں ایّام میں حضرت سید علی ہجویری داتا گنج بخشؒ کا سالانہ عرس آگیا۔ آپؒ نے اپنے مرید عمر الدین سے کہا’’ اٹھو آج ہمیں عرس پر جانا ہے‘‘

اس نے عرض کیا’’حضرت پانی اس قدر چڑھا ہوا ہے کہ کشتی میں بھی عبور کرنا مشکل ہے‘‘

فرمایا’’ غم نہ کرو۔ بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے‘‘

آپ نے موضع بیگم کوٹ سے دریا میں قدم ڈالا اور عمر الدین سے کہا ’’میرے قدم بقدم چلے آؤ اور دل میں کچھ اندیشہ نہ لاؤ۔ آج پانی ہمارے ٹخنوں تک ہے‘‘چنانچہ وہ بھی حکم مرشد کے مطابق آپ کے پیچھے پیچھے ہولیا۔ اس طرح دریا عبور کرکے اپنی منزل پر پہنچ گئے۔

مزید : روشن کرنیں