ہیلن کیلر جوگونگی بہری تھی لیکن اپنے مقابل کے ہونٹوں پر جسم کا یہ حصہ رکھتی اور سب کچھ سمجھ جاتی تھی

ہیلن کیلر جوگونگی بہری تھی لیکن اپنے مقابل کے ہونٹوں پر جسم کا یہ حصہ رکھتی ...
ہیلن کیلر جوگونگی بہری تھی لیکن اپنے مقابل کے ہونٹوں پر جسم کا یہ حصہ رکھتی اور سب کچھ سمجھ جاتی تھی

  


لاہور(ایس چودھری )معروف مصنف اور سیاح مارک ٹوئن نے ایک جگہ لکھا ہے’’انیسویں صدی میں دنیا میں دو حیرت انگیز شخصیتیں پیدا ہوئی ہیں۔ ایک نپولین اور دوسری ہیلن کیلر۔‘‘ ہیلن کیلر کانام آج دنیا بھر کے نابیناؤں کی روشنی اور امید ہے ۔یہ نابینا ، بہری اور ایک عرصے تک گونگی عورت ہیلن کیلر تھی جس نے ادب پر راج کیا اور بینائی والوں کو اپنی صلاحیتوں سے دنگ کردیا تھا۔

وہ ڈیڑھ برس کی تھی تو بصارت، سماعت اور گویائی سے محروم ہوگئی تھی۔ ایک بیماری نے اسے اندھی، بہری اور گونگی بنا دیا تھا۔ نو برس میں اسے قوت گویائی تو مل گئی لیکن قدرت کے باقی دونوں عطیات سے محرومی اس کا مقدر بن گئی تھی۔جب وہ بیماری سے اٹھی تو اس کا ذہنی توازن بگڑ چکا تھا ،غصے میں چیزوں کو توڑ پھوڑ ڈالتی تھی۔ دونوں ہاتھوں سے کھاتی اور منع کیا جاتا تو پھچاڑیں کھانے لگتی اور لاتیں چلاتی تھی۔ کبھی کبھی تو بالکل جانوروں جیسی حرکت کرنے لگتی تھی۔

اس کی بینائی سے مایوس ہو کر اس کے والدین نے اسے اندھے، بہرے اور گونگوں کے انسٹیٹیوٹ میں داخل کرا دیا۔ یہاں ایک عورت نے اس کے سردست شفقت رکھا۔ اس عورت نے ایک ایسے کام کا بیڑا اٹھایا تھا جو بظاہر ناممکن نظر آتا تھا۔ وہ اندھے، بہرے گونگے بچوں کو تعلیم دیتی تھی۔ا س کی اپنی بینائی بھی بہت کمزور تھی اور وہ ہاتھوں سے زیادہ کام لیتی تھی۔ اسے انگلیوں کے لمس سے پڑھنے کی مشق ہوگئی تھی۔ اس چیز کو اس نے اس اندھی لڑکی میں منتقل کر دیا۔

جب اس کی وقت گویائی بحال ہوئی تو اس نے پہلا جملہ یہ ادا کیا’’اب میں گونگی نہیں ہوں۔‘‘بیس سال کی عمر میں اس نے بینائی کے بغیر انگلیوں کے لمس سے پڑھنے پر اتنی دسترس حاصل کر لی کہ اسے ریڈ کلف کالج میں داخلہ مل گیا۔ یہاں اس کی استانی سلی ون بھی ساتھ تھی۔ اس کی انگلیوں کی حس اتنی تیز تھی کہ مقابل کے ہونٹوں پر انہیں رکھ کر ان کی جنبش سے سمجھ جاتی تھی کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ کسی سے ہاتھ ملاتی تو پانچ چھ سال بعد بھی جان لیتی کہ وہ کس سے ہاتھ ملا رہی ہے۔ اس میں ادراک اتنا تھا کہ ہاتھ ملانے سے جان لیتی تھی کہ مقابل خوش ہے یا غمگین۔

نابینا ہونے کے باوجود کشتی چلا لیتی تھی اور تیر بھی لیتی تھی۔ اس کے پاس ایک خاص چپس بورڈ تھا جس پر وہ آسانی سے مہرے آگے پیچھے چلاتی تھی۔

اس نے نیویارک رہائش اختیار کر لی تھی۔ وہ اکثر اپنے باغیچے میں ٹہلتے ہوئے خود کلامی کیا کرتی۔ وہ اشاروں کی زبان بھی سمجھ جاتی تھی لیکن اسے سمتوں کا اندازہ نہ ہوتا تھا۔ اکثر وہ اپنے گھر میں ادھر ادھر بھٹک جاتی تھی۔

وہ کہا کرتی تھی’’مجھے اندھے ہونے کا اتنا دکھ نہیں ہے جتنا اس بات کا ہے کہ میں سن نہیں سکتی۔ تاریکی کی دنیا میں یہ بہرہ پن ایک دیوار کی طرح حائل ہے۔ میں جس چیز کے لیے سب سے زیادہ ترستی ہوں وہ انسانی آواز اور انسان کا لب و لہجہ ہے۔‘‘وہ ساری عمر نا بینا رہی لیکن اس نے مشینی تکنیکی عمل سے اتنی کتابیں پڑھ ڈالیں تھیں جتنی آنکھوں والوں نے نہیں پڑھی ہوں گی۔ عام آدمی کے مقابلے میں اس نے سو گنا کتابوں کا مطالعہ کیا تھا۔ یہی نہیں بلکہ وہ سات کتابوں کی مصنف بھی تھی ۔ وہ اپنے مضامین ٹائپ رائٹر پر منصہ شہود پر لاتی تھی۔ غلطیاں نکالنے کے لئے کاغذ کے حاشئے پر سوئیوں سے سوراخ کر لیتی تھی۔

ضرور پڑھیں: ڈالر سستا ہو گیا

ہیلن کیلر ایک عجوبہ تھی۔بہری ہونے کے باوجود وہ موسیقی سے بھرپور لطف اٹھاتی تھی۔ پیانو پر انگلیاں پھیر کر موسیقی کے زیروبم کو سمجھ لیتی تھی۔۔۔لیکن گا نہیں سکتی تھی وہ وائرلیس سیٹ کے ارتعاش کو انگلیوں سے محسوس کرکے پیغام کو سمجھ لیتی تھی۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...